BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 April, 2007, 16:28 GMT 21:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مچھ میں حملہ، بجلی کی فراہمی متاثر

بلوچستان میں قوم پرستوں نے حکومتی اہداف اور وسائل کو نشانہ بنایا ہے
بلوچستان کے شہر مچھ کے قریب نامعلوم افراد نے بجلی کے چار مزید کھمبوں کو دھماکوں سے اڑادیا ہے جبکہ آواران اور پنجگور کے سرحدی علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں کی اطلاعات ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

کوئٹہ میں بجلی فراہم کرنے والے محکمے کے حکام نے بتایا ہے کہ ضلع بولان میں مچھ کے قریب رات چار کھمبوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا ہے جس سے صوبے کے اٹھارہ اضلاع کو بجلی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔

کیسکو کے چیف ایگزیکٹو شفیق خٹک نے کہا ہے کہ ایک کھمبا ایک سو بتیس کے وی اور تین کھمبے دو سو بیس کے وی کے اڑائے گئے ہیں جس سے صوبے کے بیشتر اضلاع کو بجلی کی ترسیل معطل ہوگئی ہے۔ ان میں سے کچھ ایک دو روز میں مرمت ہو جائیں گے جبکہ باقی بڑے کھمبوں کی مرمت میں پندرہ سے بیس دن لگ سکتے ہیں۔

یاد رہے سنیچر اتوار کی رات سبی کے قریب ریل کی پٹڑی کو دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا اور سنیچر کو پسنی پنجگور اور مستونگ میں دھماکے ہوئے تھے لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اس کے علاوہ اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ کا ترجمان ظاہر کرنے والے دودا بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر بتایا کہ آواران اور پنجگور کے سرحدی علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی پانچویں روز بھی جاری ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی سے رابطے کی بارہا کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ گزشتہ دنوں حکام نے کہا تھا کہ مشتبہ افراد کی گرفتاریوں کے لیے صوبے کے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں لیکن کہیں کوئی حملے نہیں کیے جا رہے۔

دودا بلوچ نے پنجگور اور پسنی کے دھماکے اور گزشتہ دنوں قلات میں گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑانے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بی ایل ایف کی جانب سے قبول کی ہے۔

میر سلیمان داؤد احمد زئیسرداروں کا فورم
بلوچوں کے حقوق کی لڑائی قلات کے جرگے میں
بلوچستان یونیورسٹیبلوچستان یونیورسٹی
سینئر پروفیسر تعینات ہوں گے: وائس چانسلر
سائیں کیا خاطر کریں
فوجی آپریشن کے بعد در بدر ہونے والے بلوچ
 شکار پور کے ہندو فائل فوٹوفوجی آپریشن: 2
بلوچوں پر کیا بیتی، وسعت اللہ خان
جالڑی فوجی کارروائی
فوج اعتراف نہیں کررہی، لیکن 38 افراد ’ہلاک‘
رسول بخش پلیجوبلوچستان پر سیمینار
قوم پرست رہنماؤں کے گلے شکوے
گوادرگوادر: کونسا گوادر؟
ترقی کے طویل سفر کا پہلا قدم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد