’نئے اساتذہ تعینات کیے جائیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان یونیورسٹی میں سینئر پروفیسروں اور اساتذہ کی کمی پائی جاتی ہے جس کے لیے موجودہ انتظامیہ نے پاکستان بھر سے اور بیرونی ممالک سے اساتذہ کو تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان تعیناتیوں کا مقصد یونیورسٹی کو ملک کے دیگر اعلی تعلیمی اداروں کے برابر لا نا ہے۔ یونیورسٹی کے طلبا اور طالبات مختلف مسائل کی شکایت کرتے ہیں۔ وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی بریگیڈیئر ریٹائرڈ آغا احمد گل نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ یونیورسٹی میں طلبا کی تعداد ساڑھے چار ہزار کے لگ بھگ ہے اور اساتذہ کا تناسب صحیح ہے لیکن پروفیسروں اور سینئر فیکلٹی ممبران کی کمی ہے۔ وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی نے بتایا کہ اس سلسلے میں انہوں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے حکام سے درخواست کی ہے کہ دیگر یونیورسٹیوں کے تجربہ کار پروفیسروں کو بلوچستان یونیورسٹی میں تعینات کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پروفیسروں کو بڑی تنخواہیں اور مراعات دیں گے جیسا کہ کوئی بھی ایک لاکھ یا ڈیڑھ لاکھ کے لیے کراچی یا لاہور چھوڑ کر بلوچستان نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ غیر ملکی اساتذہ کو بھی اپنی یونیورسٹی میں تعینات کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ وائس چانسلر نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کے واقعہ کے بعد جو توڑ پھوڑ کی گئی تھی اس سے یونیورسٹی کو تقریبًا اسی ملین روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس واقعے میں اکیس بسیں جلا دی گئیں تھیں اور کھڑکیاں اور دروازے بھی توڑے تھے اور اس کے علاوہ یونیورسٹی کا ریکارڈ بھی جلا دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نواب اکبر بگٹی کے واقعہ کے بعد سے ان کے کوئی ساڑھے چار سو طالبعلم یونیورسٹی نہیں آ رہے اور ان کا کچھ پتا نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ وائس چانسلر نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی کو دو سے تین سال کے اندر ملک کے دیگر اعلی تعلیمی اداروں کے برابر لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جس کے لیے اساتذہ کی قابلیت بڑھانے کے لیے ایک مرکز بھی قائم کیا گیا ہے جبکہ طلباء اور طالبات کے مسائل کے حل کی طرف توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تربت میں یونیورسٹی کا کیمپس قائم کیا جا رہا ہے جبکہ گوادر اور لورالائی میں کمپس قائم کر نے کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
یونیورسٹی میں موجود طلبا اور طالبات سے جب ان اقدامات کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔طلبا اور طالبات کا کہنا تھا کہ اساتذہ کلاس روم میں ٹیوشن پڑھنے کی تاکید کرتے ہیں جبکہ بعض نے وائس چانسلر کے نظم و ضبط اور صفائی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کی تعریف کی لیکن تعلیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کسی قسم کی کوئی بہتری نہیں ہوئی ہے۔ وائس چانسلر نے تسلیم کیا ہے کہ ملکی سطح پر بلوچستان یونیورسٹی کے طلبا اور طالبات کو ملازمت کے لیے ترجیح نہیں دی جاتی۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت بھی اس یونیورسٹی کے بعض شعبے جیسے بلوچی فارمیسی، منرالوجی اور جیالوجی دیگر یونیورسٹیوں سے کافی بہتر ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی ہاسٹلوں میں نظم ضبط قائم رکھنے اور اساتذہ اور طلبا کے لیے وظائف کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ جلد ہی امن قائم ہونے کے بعد یونیورسٹی سے پولیس کو ہٹا دیا جائے گا۔ | اسی بارے میں بےگھر بلوچوں کی ہلاکتوں کاخدشہ22 December, 2006 | پاکستان سیکیورٹی فورسز کا انخلاء شروع20 December, 2006 | پاکستان بلوچستان: دھماکے میں ایک ہلاک02 December, 2006 | پاکستان گاڑی نہ روکنے پر ہلاک کر دیا15 December, 2006 | پاکستان بلوچستان: احتجاجی مظاہرے، گرفتاریاں22 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||