BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 December, 2006, 19:15 GMT 00:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: احتجاجی مظاہرے، گرفتاریاں

بلوچستان
احتجاجی مظاہروں میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے قائدین نے بھی شرکت کی ہے (فائل فوٹو)
بلوچستان نیشنل پارٹی کی اپیل پر جمعہ کے روز صوبے مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں گوادر اور خضدار سے کوئی پندرہ مقامی قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بلوچستان نیشنل پارٹی کے علاوہ حزب اختلاف کی دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی شرکت کی ہے اور گرفتار قائدین اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور نیشنل پارٹی کے لیڈر کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں سیاسی اور جمہوری احتجاج کے راستے روکے جارہے ہیں جس کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ان سے جب پوچھا کہ حزب اختلاف کی تمام جماعتیں یا اپنے آپ کو محکوم کہلوانے والی جماعتوں کا اتحاد پونم مشترکہ لائحہ عمل کیوں نہیں اختیار کرتیں تو انھوں نے کہا کہ یہ کمزوری ان میں پائی جاتی ہے اور اس حوالے سے ڈاکٹر عبدالحئی اور بی این پی کے عبدالولی کاکڑ سے مذاکرات میں اس بات پر بحث ہوئی کی پونم کے سربراہ محمود خان اچکزئی سے رابطہ کیا جائے تاکہ کوئی مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جاسکے۔

جمعے کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات تھے اور خدشہ یہی تھا کہ بی این پی کے کارکنوں اور قایدین کو گرفتار کیا جائے گا لیکن احتجاج میں دیگر جماعتوں کے قائدین کی وجہ سے پولیس نے کسی کو گرفتار نہیں کیا ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے رکن عبدالولی کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس وقت ان کی جماعت کے کوئی پندرہ سو قائدین اور کارکن گرفتار ہیں۔انھوں نے کہا کہ ان کے کارکنوں اور قائدین کو صوبے کے دور دراز علاقوں میں واقع جیلوں میں رکھا گیا ہے جہاں ان پر تشدد بھی کیا جا رہا ہے۔

بی این پی کے لیبر سیکرٹری آغا حسن کو بھی گزشتہ روز گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ آج گوادر میں مظاہرے کے بعد بی این پی اور جمہوری وطن پارٹی کے مقامی قائدین سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ خضدار میں احتجاجی مظاہرے کے لیے جانے والی ریلی کو روکا اور مقامی قائدین سمیت سات افراد کو گرفتار کیا ہے۔

مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ پولیس نے اس موقع پر لاٹھی چارج بھی کیا ہے جس سے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے دو کارکن زخمی ہوئے ہیں۔ نوشکی سے بھی احتجاجی مظاہروں کی اطلاع ملی ہے۔

اسی بارے میں
بی این پی کے نائب صدر گرفتار
15 December, 2006 | پاکستان
بلوچ جرگہ کے فیصلے کی حمایت
17 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد