بےگھر بلوچوں کی ہلاکتوں کاخدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے ’یونیسیف‘ کے پاکستان میں نائب سربراہ رونلڈ وین دیک کا کہنا ہے کہ اگر بلوچستان کے اضلاع ڈیرہ بگٹی اور کوہلو سے نقل مکانی کرنے والے چوراسی ہزار افراد کو فوری طور پر خوراک اور بنیادی صحت کی سہولیات فراہم نہ کی گئیں تو متعدد افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ کاش ہم چھ ماہ پہلے اقدامات کرتے لیکن اب بھی وقت نہیں گزرا اور فوری طور پر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کو مرنے سے بچایا جا سکے‘۔ جمعہ کو بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انیس دسمبر کو بلوچستان حکومت نے اقوام متحدہ کو مدد اور مداخلت کے لیے خط لکھا اور اقوام متحدہ کے تمام متعلقہ اداروں نے فوری اقدامات کی منظوری دی۔ اقوام متحدہ کے نمائندے نے بتایا کہ ان کے سروے کے مطابق اٹھائیس فیصد بچوں کو ناقص خوراک ملتی ہے جس وجہ سے وہ صحت کے مسائل کا شکار ہیں جبکہ ان اٹھائیس فیصد متاثرہ بچوں میں سے چھ فیصد ایسے ہیں جنہیں فوری طور پر ہسپتال داخل کرنے کی ضرورت ہے اور اگر اس میں دیر کی گئی تو ان کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔
ان کے مطابق جب سروے کے دوران متاثرہ خاندانوں سے پوچھا گیا کہ گزشتہ تین ماہ میں کوئی پانچ سال یا اس سے کم عمر کا بچہ فوت ہوا تو اسّی فیصد کا جواب اثبات میں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع کوہلو اور ڈیرہ بگٹی سے عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے چوراسی ہزار افراد میں سے زیادہ تر متاثرین کوئٹہ، نصیرآباد اور جعفر آباد اضلاع میں مقیم ہیں اور ان میں تینتس ہزار بچے اور چھبیس ہزار خواتین بھی شامل ہیں۔ رونلڈ وین دیک نے کہا کہ بگٹی اور مری قبائل اکثر طور پر بلوچستان کے اضلاع کوئٹہ، جعفرآباد، نصیر آباد اور صوبہ سندھ کے ضلع جیکب آباد اور پنجاب کے ضلع ملتان اور ڈیرہ غازی خان کی طرف جاتے ہیں۔ ان کے مطابق سندھ اور پنجاب نقل مکانی کر کے جانے والے مری اور بگٹی قبائل کے افراد کی فی الوقت ان کے پاس معلومات نہیں۔ رونلڈ وین دیک نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ آئندہ ہفتے یونیسیف کا عملہ بلوچستان کے تینوں اضلاع کی ضلعی حکومتوں کے نمائندوں سے مل کر ستاون فوڈ سپلیمنٹری مراکز قائم کرے گا جبکہ ان کے مطابق دو سو افراد کو صحت کی سہولیات کی تربیت کا پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے تین متاثرہ اضلاع میں چھ ماہ کے ایمرجنسی امدادی پروگرام پر دس لاکھ ڈالر کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ جب ان سے پوچھا کہ چھ ماہ کے بعد کیا ہوگا تو انہوں نے جواب دیا کہ حکومت کہتی ہے کہ چھ ماہ بعد یہ لوگ اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت نے بلوچستان میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے بے گھر ہونے کی تصدیق کی ہے اور ان کے لیے کھانے پینے کی اشیاء کی عدم دستیابی کی وجہ سے بڑے پیمانے پر اموات کے خدشے کے پیش نظر عالمی ادارے سے امداد طلب کی ہے۔ صوبہ بلوچستان میں گزشتہ کئی ماہ سے حالات خراب ہیں کیونکہ بعض قوم پرست سیاسی جماعتیں زیادہ سے زیادہ صوبائی حقوق اور صوبے سے نکلنے والے تیل اور گیس سمیت قدرتی وسائل پر صوبے کا حقِ ملکیت تسلیم کروانے کی خاطر سکیورٹی افواج سے بر سرِ پیکار ہیں۔ اسے سلسلے میں نواب اکبر بگٹی بھی اپنے کچھ ساتھیوں سمیت فوج سے ایک جھڑپ میں چھبیس اگست کو ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد ان کے قبیلے کے کئی حامیوں نے ہتھیار ڈال دیے لیکن اب بھی ان کے پوتے اور نواسے مزاحمت کر رہے ہیں۔ بلوچستان کے ضلع کوہلو میں بھی نواب خیر بخش خان مری کے حامی مری قبائل حکومتی فورسز سے لڑ رہے ہیں جبکہ سردار عطاءاللہ مینگل کی پارٹی کے کئی سرکردہ رہنماوں سمیت بیسیوں کارکنوں کو جیل میں بند کردیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے کمیشن کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سوا سو سے زائد سیاسی کارکن پراسرار طور پر لاپتہ ہیں اور ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے وہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں۔ دوسری طرف بلوچستان حکومت کے ایک ترجمان نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے خاندانوں میں خوراک اور بنیادی صحت کی سہولیات کا فقدان ہے۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا کہ ایسی صورت حال چھ ماہ پہلے تو ہو سکتی ہے لیکن اب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نقل مکانی کرنے والے خاندانوں میں سے ساٹھ سے پینسٹھ فی صد اپنے علاقوں کو واپس جا چکے ہیں اور جو نہیں گئے اس کی ممکنہ وجہ حکومت کی طرف سے عائد کردہ کوئی پابندی نہیں بلکہ قبائلی چپقلس ہے۔ | اسی بارے میں حقوق کی لڑائی کے لیئے بلوچ جرگہ23 September, 2006 | پاکستان بلوچستان: کالجوں کی حالت زار 05 October, 2006 | پاکستان بلوچستان: شدید بارشوں سے تباہی04 December, 2006 | پاکستان مکران میں احتجاجی مظاہرے12 December, 2006 | پاکستان PTCL میں ’چھانٹی‘ پر ہڑتال16 December, 2006 | پاکستان سیکیورٹی فورسز کا انخلاء شروع20 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||