PTCL میں ’چھانٹی‘ پر ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں ٹیلیفون کے محکمے کے ملازمین نے سنیچر سے علامتی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے، جبکہ دفاتر کا بائیکاٹ پہلے ہی گذشتہ دو ہفتوں سے جاری ہے۔ ہڑتالی ملازمین کو خدشہ ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹڈ کی نجکاری کے بعد ملازمتوں میں بڑے پیمانے پر کمی کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، جس سے بلوچستان میں تعینات اہلکار زیادہ متاثر ہونگے۔ پاکستان ٹیلی کام ایمپلائز یونین کے صوبائی صدر حاجی ظاہر نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر ان کے مطالبات منظور نہ کیے گئے تو ملک بھر میں ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے چوبیس سو دس ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کر دیا جائے گا اور صرف نو سو کو نوکریوں پر بحال رکھا جائے گا۔ ان کے بقول پاکستان بھر میں پچاس فیصد ملازمین کو فارغ کرنے کا منصوبہ ہے، جس سے کوئی پینتیس ہزار ملازمین متاثر ہوں گے۔ ہڑتال کی وجہ سے نہ تو خراب ٹیلیفون ٹھیک کیے جا رہے ہیں اور نہ ہی نئے کنکشن لگائے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بلوچستان میں پی ٹی سی ایل کے جنرل مینیجر اکرم خان آفریدی یاد رہے کہ نجکاری کے بعد پی ٹی سی ایل کی ملکیت متحدہ عرب امارات کی ایک فرم ’ایتصلات‘ کے پاس ہے۔ | اسی بارے میں پی ٹی سی ایل کی نجکاری منظور20 June, 2005 | پاکستان پی ٹی سی ایل: 2.6 ارب ڈالرکی بولی18 June, 2005 | پاکستان یونینوں میں پھوٹ، ہڑتال موخر15 June, 2005 | پاکستان ہڑتالی لیبرلیڈر بدستور زیرِحراست14 June, 2005 | پاکستان پی ٹی سی ایل، چھاپے اورگرفتاریاں12 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||