بلوچ جرگہ کے فیصلے کی حمایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بزرگ بلوچ رہنماء نواب خیر بخش مری نے خان آف قلات کی سربراہی میں ہونے والے بلوچ سرداروں کے قبائلی جرگہ کی اس تجویز سے اتفاق کیا ہے کہ بلوچستان کی ’خود مختاری‘ کے لیے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا ’اس طرح کے اقدام کے لیے یہ ایک انتہائی مناسب وقت ہے، اس سے بلوچ مزاحمتی تحریک کو تقویت ملے گی‘۔ یاد رہے کہ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد خان آف قلات میر داؤد سلیمان کی طرف سے اس سال ستمبر میں بلائے گئے قبائلی جرگہ میں بلوچ سرداروں نے بلوچستان کے حقوق کے لیے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم نواب مری یا ان کے کسی نمائندے نے اس جرگہ میں شرکت نہیں کی تھی۔ کراچی میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے نواب خیر بخش کا کہنا تھا کہ افغانستان کی سرحد سے لیکر ایران کی سرحد تک، اور کراچی سے لیکر پنجاب تک ’بلوچ مزاحمتی تحریک‘ زور پکڑ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پڑھے لکھے نوجوان بھی اب اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ ’یہ سخت جان لوگ ہیں، چار پانچ دن تک بھوکے بھی رہ سکتے ہیں اور ان (فوج) کے کمانڈوز سے زیادہ چل سکتے ہیں‘۔
نواب مری کا کہنا تھا کہ وہ پارلیمانی سیاست کو (حقوق کے حصول کا) مؤثر طریقہ نہیں سمجھتے ہیں۔ ’جتنا عرصہ اس نظام کے ساتھ رہیں گے وہ دونوں ہاتھوں سے سونے کی چڑیا (بلوچستان) کو لوٹیں گے‘۔ ان کے خیال میں ریاست اور اس کے اداروں سے علیحدہ ہوکر انہیں مفلوج کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں کسی قسم کی سیاسی تبدیلی کے بلوچستان پر ممکنہ اثرات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ دایاں بازو ہے جبکہ پی پی پی بائیں بازو کا تاثر دیتی ہے ’لیکن حقیقت میں یہ بھی پنجاب کا دوسرا ہاتھ ہے‘۔ نواب مری کے بقول بے نظیر بھٹو سے بڑا ’موقع پرست‘ سیاستدان کوئی نہیں۔ ’وہ امریکہ اور پنجاب کے دربار میں رہ کر سندھیوں کو گمراہ کرتی ہیں، وہ یہ کیوں نہیں کہتیں کہ سندھی آزاد ہوں‘۔ نواب خیر بخش سے جب پوچھا گیا کہ کیا بلوچستان کے حالات سے تنگ آ کر چین اپنے منصوبوں سے پیچھے ہٹے گا، تو ان کا کہنا تھا کہ منافع اتنا زیادہ ہے کہ ہے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹے گا، لیکن ہو سکتا ہے کہ بین الاقوامی حالات اور بلوچ قوم کی وجہ سے وہ ایسا کرنے پر مجبور ہو جائے۔ ’ویسے بھیڑیا کبھی بھیڑ کو چھوڑتا نہیں‘۔ | اسی بارے میں حقوق کی لڑائی کے لیئے بلوچ جرگہ23 September, 2006 | پاکستان ’پاکستان سےالحاق کو چیلنج کریں گے‘21 September, 2006 | پاکستان مسلح جدوجہد مؤثر ذریعہ ہے: مری31 August, 2006 | پاکستان بگٹی کے بعد کس کی باری ہے؟31 August, 2006 | پاکستان سرداری نظام ختم کرنےکا اعلان 24 August, 2006 | پاکستان ’مشرف بش کا غصہ ہم پر نکال رہا ہے‘15 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||