عزیزاللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ |  |
 | | | حالیہ دنوں میں بلوچستان میں فوج نے کئی کارروائیاں کی ہے |
سبی اور کوہلو کے سرحدی علاقے جالڑی سے آئے ہوئے مری قبیلے کے لوگوں نے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ ان کے علاقے میں فوجی کارروائی سے اڑتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں جبکہ کئی افراد کو زخمی اور 126 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری سطح پر ان دعووں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ جمعہ کو پانچ بزرگوں کے ہمراہ دو نوجوانوں اعظم مری اور علی خان مری نے کوئٹہ پریس کلب میں صحافیوں کو بتایا کہ انیس جنوری کو سبی سے کوئی پینتالیس کلومیٹر دور جالڑی، کاہشار، بادرہ، ببر کچھ اور دیگر قریبی علاقوں میں چار روز تک فوجی کارروائی کی گئی جس میں بچوں اور خواتین سمیت 38 افراد ہلاک ہوئے۔  | چار روز تک فوجی کارروائی  دو نوجوانوں اعظم مری اور علی خان مری نے کوئٹہ پریس کلب میں صحافیوں کو بتایا کہ انیس جنوری کو سبی سے کوئی پینتالیس کلومیٹر دور جالڑی، کاہشار، بادرہ، ببر کچھ اور دیگر قریبی علاقوں میں چار روز تک فوجی کارروائی کی گئی جس میں بچوں اور خواتین سمیت 38 افراد ہلاک ہوئے۔  |
ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے اور ایک سو چھبیس کے لگ بھگ کو گرفتار کیا گیا۔ علی خان مری نے کہا کہ گرفتار کیے گئے افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جن کا اب تک کچھ پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ایک بزرگ شہری قادر بخش مری نے بلوچی زبان میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے علاقوں کا دورہ کریں اور حالات کا خود اندازہ لگائیں۔ اس بارے میں صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر شعیب نوشیروانی سے رابطے کی بارہا کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ یاد رہے کہ انیس اور بیس جنوری کو فوج کے تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل شوکت سلطان سے رابطہ کیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ انہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے اور صوبائی حکومت ہی بہتر جواب دے سکے گی۔ لیکن صوبائی حکومت کے ترجمان نے کہا تھا کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں ہیں۔ صوبائی وزیر داخلہ رابطے میں کم ہی آتے ہیں۔ |