BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 February, 2007, 10:55 GMT 15:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سائیں کیا خاطر کریں۔۔۔

علی احمد کا یہ خودساختہ تعلیمی ادارہ، استاد سے زیادہ بچوں کے موڈ پر چلتا ہے۔
’سر آپ جس سے کہیں گے ملواؤں گا لیکن میں خود آپ کے ہمراہ نہیں ہوں گا بلکہ ایک دوست کو آپ کے ساتھ کردوں گا۔وہ آپ کے لیے بلوچی سے ترجمہ بھی کرے گا۔ بے گھروں سے بھی ملوائے گا۔ مگر پلیز آپ میرا نام نہ لینا۔ بس میں آپ کے ساتھ جعفر آباد تک چلوں گا اور اس کے حوالے کردوں گا‘۔

میں نے کہا ٹھیک ہے۔

اور یوں جیکب آباد کے ایک گاؤں سے علی الصبح سفر کا آغاز ہوا۔ پینتالیس منٹ میں ہم بلوچستان کے سرحدی شہر جعفر آباد میں داخل ہوگئے۔ شہر کے آغاز میں گاڑی ایک گلی میں مڑگئی ایک اور صاحب خاموشی سے ایک گھر سے نکلے اور پیچھے بیٹھ گئے۔ جب گاڑی کے پہیے حرکت میں آئے تو انہوں نے بلوچی انداز میں حال احوال شروع کیا۔ میں نے اپنا فرمائشی مینیو ان کے سامنے رکھ دیا۔ جواب ملا بے فکر رہیں سب ہو جائے گا۔

میرے اس علاقے میں آنے کا محرک کوئی ڈیڑھ دو ماہ قبل شائع ہونے والی یہ خبر تھی کہ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور دیگر انسانی امدادی اداروں کو حکومتِ پاکستان اور بلوچستان کی صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ اجازت دی ہے کہ بلوچستان کے دو اضلاع ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں جاری فوجی آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کو انسانی امداد پہنچائی جاسکتی ہے۔ ان اداروں کا اندازہ ہے کہ کم ازکم چوراسی ہزار بگٹی اور مری پچھلے دو برس کے دوران دربدر ہوئے ہیں اور ان کی زیادہ تعداد نےجعفر آباد، نصیر آباد اور ان سے متصل سندھ کے علاقے کشمور اور کندھ کوٹ کی جانب نقل مکانی کی ہے۔ جبکہ بہت سے لوگ کوئٹہ کی طرف بھی نکلے ہیں اور یہ دربدر خاصی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

جعفر آباد پہلے ضلع نصیر آباد کا ہی حصہ تھا جسے قریباً دس برس پہلے ایک نیا ضلع بنایا گیا۔ ون یونٹ بننے سے قبل یہ ضلع جھٹ پٹ کے نام سے مشہور تھا اور صوبہ سندھ میں شامل تھا۔ چنانچہ دیگر علاقوں سے یہاں آنے والے بلوچ اسے آج بھی سندھ کے نام سے جانتے ہیں۔ شاید یہی نفسیاتی وجہ ہے کہ بگٹیوں کی خاصی تعداد نے اسے دوسرا صوبہ تصور کرتے ہوئے یہاں پناہ لینے کی کوشش کی۔

بلوچ پناہ گزین
یہ دربدر خاصی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں

شہر کا بازار پار کرنے کے بعد گاڑی دوڑ رہی ہے۔ اچانک دائیں جانب کچھ جھونپڑی نما چیزیں نظر آئیں۔ میرے گائیڈ نے اشارہ کیا: ’سر یہ آپ کے وہ دوست ہیں جن سے آپ ملنے آئے ہیں‘۔

ہم دونوں کھیت پار کرکے ان تک پہنچے۔ ایک دادی اماں جو شاید بیمار تھیں یا پھر ضعیف، ایک ایسی جھونپڑی نما چھپر تلے رضائی میں پوری طرح لپٹی بیٹھی تھیں جہاں ان کے علاوہ کسی دوسرے کے بیٹھنے کی گنجائش نہیں تھی۔

یہ بزرگ خاتون سوئی کے علاقے محمد کالونی کے ایک مزدور سعید خان کی والدہ تھیں۔ سعید خان نے نادرا کا جاری کردہ اپنا شناختی کارڈ جھٹ سے کوٹ کی لٹکی ہوئی جیب سے نکالا۔ کوٹ کیا تھا کچھ چیتھڑے لٹکے ہوئے تھے۔

سعید خان نے بتایا: ’دسمبر دوہزار پانچ میں جب سے ہم نے گھر چھوڑا ہے حکومت نے صرف یہ مدد کی ہے کہ نادرا کی گاڑی نے یہاں بیٹھے بیٹھےسب کا شناختی کارڈ بنا دیا‘۔ اس خالی زمین میں سعید خان کے تین بھائیوں اور سسرالیوں سمیت سات گھرانوں کے تئیس چھوٹے بڑے نفوس ڈنڈوں پر پھٹے پرانے کپڑے اور خشک گھاس کی چھت سی تانے سر چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔ کیا آپ نے ایسی جھونپڑی دیکھی ہے جو تین طرف سے کھلی ہوئی ہو۔

سعید خان کے دو بھائی تلاشِ معاش کے لیے حیدرآباد کی طرف نکل گئے۔ میں نے پوچھا گزارہ کیسے ہوتا ہے؟ کہنے لگا دھان کی فصل کا ایک ایکڑ کاٹنے پر ایک من چاول ملتا تھا۔ چار مہینے یہ کام کیا۔ اب ابلے ہوئے چاول کھاتے ہیں اور یہ جو سامنے پانی جمع ہے اسے ابال کر پیتے ہیں۔ اتنے میں ایک بچہ ابلے ہوئے چاول کی دیگچی اٹھا لایا۔ جوہڑ کے ابلے ہوئے پانی میں ابلے ہوئے چاول۔ سائیں آپ کی کیا خاطر کریں بس یہی ہے۔

گاڑی آگے بڑھتی چلی گئی۔ ایک بڑی سی کچی چار دیواری نظر آئی۔ گاڑی مڑ گئی۔ دو نوجوان اور کچھ بچے۔ دوتین بچوں کے ہاتھ میں مڑے تڑے سے پہلی جماعت کے قاعدے تھے۔ علی محمد نے بتایا کہ یہ اس نے اپنی جیب سے خریدکر کچھ بچوں کو دیے ہیں۔

بلوچ پناہ گزین
محمد کالونی کے ایک مزدور سعید خان کی والدہ

علی محمد خضدار میں پڑہتا تھا لیکن جب اس کے خاندان نے ڈیرہ بگٹی کے نواح سے نقلِ مکانی کی تو وہ بھی خضدار سے پڑھائی چھوڑ چھاڑ کر پناہ گزینوں کے دستے سے آن ملا۔ جب بھی کوئی بچہ پڑھنا چاہتا ہے علی محمد اسے پڑھا دیتا ہے۔ علی احمد کا یہ خودساختہ تعلیمی ادارہ غالباً واحد سکول ہے جو استاد سے زیادہ بچوں کے موڈ پر چلتا ہے۔

علی محمد نے بتایا کہ بہت پہلے امدادی ادارے اوکسفیم والے آئے تھے۔ انہوں نے کچھ خیمے اور دریاں دیں۔ پھر کچھ دن پہلے ایدھی والے آئے انہوں نے پندرہ کلو چاول، دس کلو چینی، گھی کا دس کلو کا ڈبہ اور تین رضائیاں فی خاندان دیں۔ کچھ دنوں کے لیے چاول چھڑنے کے ایک مقامی کارخانے میں دیہاڑی ملی تھی۔ آج کل وہاں کام بند ہے۔ میں نے پوچھا واپس کیوں نہیں جاتے اب تو لڑائی بھی تھم گئی ہے اور نواب بھی نہیں رہا۔ کہنے لگا کیا کریں جا کر۔ غیرت گوارہ نہیں کرتی۔

کیا خاطر کریں۔۔۔
 ابلے ہوئے چاول کھاتے ہیں اور یہ جو سامنے پانی جمع ہے اسے ابال کر پیتے ہیں۔ اتنے میں ایک بچہ ابلے ہوئے چاول کی دیگچی اٹھا لایا۔ جوہڑ کے ابلے ہوئے پانی میں ابلے ہوئے چاول۔ سائیں آپ کی کیا خاطر کریں بس یہی ہے۔
سعید خان

علی محمد کے کزن شاہ محمد دیناری کلپر کی دو سو ایکڑ زمین تھی۔ جب سال بھر پہلے لڑائی تیز ہوگئی اور راکٹ گولے معمول بن گئے تو اس کے سو کے لگ بھگ رشتہ داروں نے ایک ساتھ زمین چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ شاہ محمد کے بقول دو ٹریکٹر ٹرالیوں میں جتنے لوگ آ سکتے تھے چڑھ گئے۔ ایک ٹریکٹر والے نے تین ہزار اور دوسرے نے دوہزار روپے لیے اور اب ہم اس چار دیواری میں رہتے ہیں۔ اگر آپ اسے اندر سے دیکھنا چاہیں۔

اندر کا احاطہ اتنا بڑا ہے کہ اس میں بارہ پندرہ خیمے لگے ہوئے تھے۔ کاٹن کی شلوار قمیض پہنے سردی میں کھلے گریبان بچوں کے ہمراہ کچھ بکریاں اور مرغیاں بھی ادھر ادھر دوڑ رہی تھیں۔

شاہ محمد کلپر نے بتایا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ صاف پانی کا ہے۔ ’ہم سب سیم نالے کا پانی پینے پر مجبور ہیں۔اس پانی میں فصلوں پر چھڑکا جانے والا کیمیکل بھی ملا ہوتا ہے۔ شہر سے صاف پانی خرید کر لانے کی اوقات نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے پتھری اور ہیپی ٹائیٹس عام ہے۔ دو بچوں نے اپنی قمیضیں اٹھا دیں۔ ان کا ایک ایک گردہ پتھری اور انفیکشن کی وجہ سے نکالا جا چکا تھا۔

میں نے کچھ اور لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی بھی مائیکروفون دیکھ کر آمادہ نہ ہوا۔ علی محمد کہنے لگا ہمیں کسی سے کچھ نہیں چاہیے بس ہم اس چاردیواری میں چھپے رہنا چاہتے ہیں۔ میں نے پوچھا یہ چار دیواری کس کی ہے۔ کہنے لگا نام بتانا اچھا نہیں ہے بس اللہ کے کسی بندے نے ہمیں دے دی ہے۔

یہ لوگ جوہڑ کے ابلے ہوئے پانی میں ابلے ہوئے چاول کھاتے ہیں

ڈیرہ بگتی میں گڑ بڑ سے پہلے ہندوؤں کے سینکڑوں خاندان نسلوں سے آباد تھے۔ بازار کا کم و بیش سارا پرچون کاروبار انہی کے ہاتھ میں تھا۔

انوپ کمار کی بھی وہیں پرچون کی دکان تھی۔ پچھلے مارچ میں اس نے اپنے خاندان کے پانچ افراد کے مرنے کے بعد باقی لوگوں کے ساتھ اپنا گھر چھوڑا۔ انوپ کے دو بھائی اس وقت کوئٹہ میں ہیں۔ ایک بھائی سندھ کے شہرڈھرکی میں رکشہ چلاتا ہے اور انوپ باقی گھر والوں کے ساتھ جعفر آباد میں کرائے کے مکان میں رہ رہا ہے۔ جعفر آباد میں، جہاں ڈیڑھ برس پہلے پندرہ سو روپے میں مکان مل جاتا تھا، آج تین ہزار سے کم میں نہیں ملتا۔

انوپ کا خاندان اب تک اپنی بچت پر گزارا کررہا ہے۔پہلی دفعہ ایک مقامی کپڑے والے نے اسے اگلے ہفتے سے تین ہزار روپے ماہانہ نوکری کی پیشکش کی ہے۔

انوپ نے بتایا کہ تین چار ماہ پہلے وہ ڈیرہ بگٹی گیا تھا لیکن چار پانچ دن سے زیادہ نہیں رہ پایا۔ ’گھر میں جو کچھ تھا صاف ہوگیا۔ سرکاری لوگ کہتے ہیں بگٹی سامان لے گئے۔ بگٹی کہتے ہیں سرکاری لوگوں نے لوٹ لیا۔ دروازے کھڑکیاں ٹوٹے پڑے ہیں۔ اب وہ رہنے جیسی نہیں رونے جیسی جگہ بن گئی ہے۔ نواب اکبر خان کے زمانے میں ہم نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ وطن چھوڑنا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح‘۔

انوپ نے بتایا کہ ہندؤوں کی صرف دو دکانیں بگٹی بازار میں کھلی ہوئی تھیں۔ باقی جس کا جدھر منہ اٹھا چلا گیا۔ ’میرے کئی جاننے والے کندھ کوٹ میں کام نہ ملنے کے سبب مندر کی روٹی پر گزارہ کررہے ہیں۔ جو لوگ واپس گئے بھی ہیں ان میں زیادہ تر سرکاری ملازم ہیں جنہیں نوٹس دے کر بلوایا گیا۔ مگر ان میں سے بھی اکثریت نے اپنے بیوی بچوں کو پیچھے چھوڑ رکھا ہے یہ سوچ کر کہ جانے کل کیا ہو‘۔

میں نے کہا اب تو حکومت سب کو واپسی کی پیشکش کررہی ہے اس پر غور کیوں نہیں کرتے۔

ان بچوں کا ایک ایک گردہ پتھری اور انفیکشن کی وجہ سے نکالا جا چکا ہے

اس پر انوپ تلملا گیا۔ ’ڈی سی او کہتا ہے دس ہزار روپے معاوضہ ملے گا واپس آ جاؤ۔ بھلا بتاؤ جن کا پانچ پانچ لاکھ دس دس لاکھ کا کاروبار ختم ہوگیا انہیں دس ہزار کا لالچ دیا جارہا ہے۔ اگر پھر سے گولے اور بم پڑے تو کیاحکومت ہماری ذمہ داری لے گی۔اب تک جو مرگئے ہیں ان کا معاوضہ کہاں ہے۔ میرے تو پانچ گھر والے مرے ہیں‘۔

میں نے پوچھا تو پھر کیا پروگرام ہے۔پوری زندگی یہیں رہوگے یا کراچی حیدرآباد یا کہیں اور جاؤ گے۔

کہنے لگا بادشاہ کیا ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے کیا۔کبھی تو یہ بادشاہت بھی بدلے گی۔پھر جائیں گے ہم سب اللہ کے حکم سے انشااللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے بتایا گیا کہ اوکسفیم این جی او کا پروجیکٹ ڈائریکٹر یہاں پر موجود ہے۔ میں نے موبائل پر رابطے کی کوشش کی تو جواب ملا کہ ہم اس وقت فیلڈ میں مصروف ہیں۔ آپ یہ سمجھیں کہ جب تک آپ یہاں ہیں ہم فیلڈ میں ہیں۔

البتہ ایک مقامی این جی او سکوپ کے روحِ رواں اور ایک یونین کونسل کے ناظم عبدالرسول بلوچ گفتگو پر آمادہ ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے جون میں جو سروے ہوا تھا اس کے حساب سے جعفر آباد شہر سے باہر پناہ گزینوں کے تین ہزار سے زائد خاندان شمار کئے گئے تھے۔ نصیرآباد میں بھی کم و بیش یہی حالات تھے۔ لیکن جون کے بعد کوہلو اور ڈیرہ بگتی کے خاندانوں کے علاوہ سبی کے کئی علاقوں سے بھی لوگ آ رہے ہیں۔

یونیسف ہو یا اسلامک ریلیف یا کوئی اور بین الاقوامی ایجنسی، سب یہاں کھل کے کام کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔اب تک جو بھی ریلیف کا سامان آیا ہے زیادہ تر ہم جیسی مقامی این جی اوز کے توسط سے تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
میں نے پوچھا طبی امداد کی کیا صورتحال ہے۔ عبدالرسول نے بتایا کہ ناقص پانی کے سبب پناہ گزینوں میں گردے اور پیٹ کی بیماریاں اور ہیپاٹائیٹس کی شرح بڑھ رہی ہے لیکن طبی امداد میسر نہیں ہے۔ ویسے بھی اس علاقے میں زیادہ تر کوالیفائیڈ ڈاکٹر سرکاری نوکری میں ہیں اس لیے وہ بھی کچھ کرنے سے گھبراتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ انفرادی سطح پر امداد دینے کا کتنا رحجان ہے۔ کہنے لگے کہ مقامی لوگ ان پناہ گزینوں کو عارضی طور پر بیٹھنے کے لیے اپنی اراضی دینے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔

ایک قوم پرست سماجی کارکن رفیق احمد کا کہنا تھا کہ سال بھر پہلے اوکسفیم نے اشیائے خوردونوش اور خیموں کی صورت میں امداد دی تھی لیکن وہ بھی ہزاروں نہیں بلکہ سینکڑوں کنبوں تک پہنچ پائی۔ جس کے نتیجے میں پناہ گزینوں کی مایوسی اور بڑھ گئی اور بہت سے اب سندھ اور جنوبی پنجاب کا رخ کررہے ہیں۔ لیکن اب بھی اچھی خاصی تعداد جعفر آباد اور نصیر آباد میں جگہ جگہ پھیلی ہوئی ہے۔ بات عملاً ایک آدھ سروے سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔

یہ دونوں اضلاع سابق وزیرِ اعظم ظفر اللہ جمالی کے خاندان کا روایتی سیاسی گڑھ ہیں۔ جعفر آباد کے ناظم خان محمد جمالی سے میں نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔

امدادی اداروں کی کارکردگی کے بعد پناہ گزینوں کی مایوسی اور بڑھ گئی

کہنے لگے اب دونوں اضلاع میں کوئی پناہ گزیں نہیں ہے۔ سب ٹرکوں، پک اپس اور ٹریکٹر ٹرالیوں میں واپس چلے گئے۔ میں نے پوچھا کہ پھر وہ کون لوگ ہیں جو خالی زمینوں، نالوں کے کناروں اور کچی چاردیواریوں میں جھونپڑیاں بنا کر یا خیمے لگا کر بیٹھے ہیں۔

خان محمد جمالی نے کہا یہ پٹھان ہیں جنہیں ہم پاوندے کہتے ہیں۔یہ سردیوں میں نقلِ مکانی کرتے ہوئے ہرسال یہاں آتے ہیں۔ محنت مزدوری کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ اگر اکا دکا کوئی پناہ گزیں یہاں وہاں ہے تو اس کا ہمیں علم نہیں۔

میں نے پوچھا کہ اقوامِ متحدہ والوں نے پناہ گزینوں کی تعداد کے بارے میں جو اندازے لگائے ہیں وہ کیسے لگائے۔

جمالی صاحب نے کہا کہ اقوامِ متحدہ والوں نے نہ تو ہم سے رابطہ کیا اور نہ ہی ہمیں ان کے کسی سروے کا معلوم ہے۔ ہلالِ احمر والے سروے کرنا چاہ رہے تھے۔ معلوم نہیں کیا یا نہیں کیا۔ البتہ اوکسفیم والوں نے تین تین سو روپے کے کچھ امدادی پیکٹ ضرور تقسیم کئے تھے۔ میں نے پوچھا آپ کی مقامی حکومت نے بھی ان لوگوں کے لیے کچھ کرنے کا کبھی سوچا تھا۔ کہنے لگے وسائل ہوتے تو سوچتےاور اب تو ویسے بھی وہ جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں
’بگٹی کے مال مویشی نیلام‘
30 December, 2006 | پاکستان
’گمشدگیوں‘ کا سلسلہ جاری
17 January, 2007 | پاکستان
’بلوچستان آپریشن بند کریں‘
11 December, 2006 | پاکستان
سابق فراری بگتی کمانڈر ہلاک
19 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد