’بلوچستان آپریشن بند کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کرکے لاپتہ سیاسی کارکنوں کو عدالتوں میں پیش کیا جائے اور صوبے کے ترقیاتی منصوبے منتخب نمائندوں کی مشاورت سے بنائے جائیں۔ یہ مطالبے ایک غیر سرکاری تنظیم ’ایکشن ایڈ‘ کی جانب سے تنازعہِ بلوچستان پر قومی مذاکرہ کے عنوان سے منعقد کردہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے حکومتی اور حزب مخالف کے اتحاد کی سیاسی اور قومپرست جماعتوں کے سرکردہ رہنماوں نے کیے۔ پیپلز پارٹی کے رضا ربانی، بلوچستان اسمبلی میں حزب مخالف کے رہنما کچکول علی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ولی کاکڑ، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کےسینیٹر رضا محمد رضا اور دیگر نے کہا کہ فوجی حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ وفاق اور صوبوں میں خلیج بڑھ رہی ہے اور اگر اس کا فوری تدارک نہیں ہوا تو صورتحال صرف بلوچستان اور مرکز تک نہیں بلکہ تمام صوبوں تک پھیل سکتی ہے۔ حزب مخالف کی بیشتر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے کہا کہ حکومت اگر بلوچستان کے مسائل حل کرنا چاہتی ہے تو فوری طور پر آپریشن بند کرے اور لاپتہ سیاسی کارکنوں کو عدالتوں میں پیش کرے اس کے بغیر پیش رفت ممکن نہیں۔ بلوچستان میں فوجی کارروائی روکنے اور لاپتہ سیاسی کارکنوں کو منظر عام پر لانے کے حزب مخالف کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ جان محمد جمالی نے کہا کہ بلوچستان میں طاقت کے زور پر مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں حصہ لینے پر بینظیر بھٹو اور نواز شریف پر پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ حکمران مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل سید مشاہد حسین نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے بلوچستان کے لیے اچھا ترقیاتی پیکیج دیا ہے اور عام معافی دینے کی بھی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مناسب وقت ہے کہ بات چیت شروع ہو اور معاملات مذاکرات سے طئے ہوں۔ ان کے مطابق بلوچستان کے متعلق پارلیمان کمیٹی کی سفارشات پر عمل ہورہا ہے اور صوبائی خود مختاری کے بارے میں اقدامات کیے جارہے ہیں اور آئندہ سال صوبائی خود مختاری سمیت آئین میں ترامیم کا ایک پیکیج لائے گی۔ حکمران مسلم لیگ کے سینیٹر ایس ایم ظفر نے بلوچستان میں جاری آپریشن کی مخالفت کی اور حکومت سے درخواست کی کہ آپریشن بند کیا جائے۔ ان کے مطابق بدقسمتی سے تہتر کے آئین پر عمل نہیں ہوا اور اگر ایسا نہ ہوتا تو آج یہ مسائل نہیں ہوتے۔ ایس ایم ظفر نے کہا کہ صوبوں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دیے جائیں تو اس سے بھی بیشتر مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ بلوچستان میں اگست کے آخر میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد یہ پہلا موقع ہے جس میں مرکزی اور صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ دونوں سطح کی حزب مخالف کی سیاسی اور قومپرست جماعتوں کے نمائندے مل بیٹھے ہیں۔ | اسی بارے میں مشرف کی کوئٹہ آمد پر’کشیدگی‘07 December, 2006 | پاکستان نسواں قانون، ماڈریشن کی جیت08 December, 2006 | پاکستان مینگل کے محافظوں کو عمر قید09 December, 2006 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیے مظاہرہ09 December, 2006 | پاکستان بلوچستان دھماکہ: 1 ہلاک،4 زخمی09 December, 2006 | پاکستان مشرف کے قیام کے دوران دھماکے09 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||