BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 December, 2006, 05:22 GMT 10:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کی کوئٹہ آمد پر’کشیدگی‘

مشرف
نواب بگٹی کی ہلاکت کے بعد صدر مشرف کا یہ پہلا دورہِ کوئٹہ ہوگا
صدر جنرل پرویز مشرف تین روزہ دورے پر جمعرات کو کوئٹہ پہنچ رہے ہیں، جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے اسی روز یوم سیاہ اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے۔

بزرگ سیاسی اور قبائلی رہنما نواب اکبر بگٹی کی اگست میں ہلاکت کے بعد صدر مشرف کا کوئٹہ کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔

اپنے دورے کے دوران وہ حکمران مسلم لیگ کے زیر انتظام ایک جلسہ عام اور کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ میں فوجی افسران سے خطاب جبکہ گردوں کے ایک ہسپتال کا افتتاح کریں گے۔

صدر کے دورے کے لیے شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں، خاص طور پر چھاؤنی کے علاقے میں جہاں آنے جانے والی تمام گاڑیوں کی اچھی طرح جانچ پڑتال کی جا رہی ہے جبکہ جگہ جگہ فوج اور ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں۔

ضلعی حکومت نے جمرات کو کوئٹہ میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے ۔ شہر بھر میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ا داروں کے اہلکار مختلف حساس مقامات پر تعینات ہیں۔

ہڑتال اور یوم سیاہ
 نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت اور صوبے میں جاری ’ماورائے قانون‘ گرفتاریوں کے خلاف احتجاج جاری رہے گا اور اس سلسلے میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی اور یوم سیاہ منایا جائے گا
سردار اختر مینگل

ادھر بلوچستان نیشنل پارٹی کے نظر بند سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت اور صوبے میں جاری ’ماورائے قانون‘ گرفتاریوں کے خلاف احتجاج جاری رہے گا اور اس سلسلے میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی اور یوم سیاہ منایا جائے گا۔

اختر مینگل کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کی دیگر سیاسی جماعتوں جن میں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، جمہوری وطن پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (نواز گروپ) اور عوامی نیشنل پارٹی شامل ہیں نے ہڑتال اور یوم سیاہ کے حوالے سے مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں لانگ مارچ اور پھر مظاہروں کے دوران مختلف اضلاع سے ان کے کوئی چھ سو سے زائد کارکن اور مقامی قائدین گرفتار کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق بدھ کو بھی مختلف شہروں میں چھاپے مارے گئے ہیں اور خضدار سے کچھ کارکنوں کی گرفتاری کی اطلاع بھی ہے۔

صدر پرویز مشرف کے دورے اور حزب اختلاف کی جانب سے ہڑتال کے اعلان کے بعد شہر میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں
بلوچستان اسمبلی کے چار سال
11 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد