گوادر! کونسا گوادر؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب انیس سو اٹھانوے میں مجھے پہلی مرتبہ گوادر جانے کا موقع ملا تو حالات یہ تھے کہ کراچی سے روزانہ صرف ایک بس چلتی تھی جو اٹھائیس گھنٹوں میں گوادر پہنچتی تھی۔ شاید اسی لئے پی آئی اے نے رعایتی کرائے کے ساتھ روزانہ دو فوکر فلائٹس کا بندوبست کر رکھا تھا جس میں تھوڑے سے خوشحال ماہی گیر، مریض، کوسٹ گارڈ افسران، پی آئی اے کے اہلکار، مقامی سیاستدان اور سمگلر سفر کرتے تھے۔ ایک مرکزی بازار تھا اور وہ بھی چند سو گز بعد ختم ہوجاتا تھا۔ واحد تعمیراتی پروجیکٹ کوہ باطل پر زیرِ تعمیر موٹل تھا۔تین طرف سے ہرے سمندر سے گھری پہاڑی سے نیچے دیکھیں تو ماہی گیروں کی پختہ جیٹی اور مچھلیوں سے لدی لانچیں دکھائی پڑتی تھیں۔ ان میں کچھ لانچیں وہ ہوتیں جن میں اوپر اوپر مچھلیاں ہوتیں اور نیچے اومان اور جبلِ علی سے سمگل کردہ شراب کی پیٹیاں ہوتیں۔ یہ واحد سرمایہ کاری تھی جس میں کوسٹ گارڈز، مقامی تاجر اور بااثر ماہی گیر برابر کےحصے دار ہوا کرتےتھے۔
پرانے شہر کا اومانی بازار، اکا دکا کاریں، سلطنتِ اومان کے زمانے کی کچھ کھنڈراتی سرکاری عمارات، دو تین سستے ہوٹل، درجن بھر چائے کے کھوکے، دبئی کی مکتوم فیملی کی جانب سے تحفے میں ملے ہوئے دو بجلی کے جنریٹرز جن سے روزانہ آٹھ گھنٹے بجلی خارج ہوتی تھی اور ان میں سے بھی ایک جنریٹر اکثر خراب رہتا تھا جس کے بعد گرمی کے مارے لوگ سڑک پر ٹائر جلا کر اور کسی سرکاری دفتر پر پتھراؤ کرکے اپنی بھڑاس نکال لیتے تھے۔پٹرول سے پیاز تک سب کچھ ایران سے سمگل ہوتا تھا۔تو یہ تھا آٹھ برس پہلے کا گوادر۔ اور آج یہ صورت ہے کہ پی آئی اے اور ائر بلیو کی روزانہ فلائٹس ہیں مگر سیٹ نہیں ملتی۔ مسافر بھی بدل گئے ہیں۔اب کراچی، لاہور، اسلام آباد اور ساہیوال کے سٹیٹ ایجنٹ ، بلڈرز، دو چار صنعت کار، درجن بھر فوجی افسر اور بیوروکریٹ اور ایک آدھ چینی انجینیر کسی بھی فلائٹ میں مل جائیں گے۔ میں کراچی سے گوادر کوسٹل ہائی وے پر ایک سو بیس کیلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے راستے میں دو جگہ رکتے ہوئے ساڑھے سات گھنٹے میں گوادر پہنچ گیا۔ شہر سے کوئی چالیس کلومیٹر دور سے اس طرح کے بورڈ نظر آنے لگے۔ زمین برائے انڈسٹریل زون، برائے پروسسینگ زون، کوہسار ہاؤسنگ سکیم، زمین برائے سبزی منڈی، زمین برائے یہ ، برائے وہ، برائے فلاں ، برائے ڈھمکاں، سپورٹس کمپلیکس، ڈی سیلینیشن پلانٹ، جناح ایونیو، میرین ڈرائیو، پرل کانٹی نینٹل، میرینا ریزورٹ، کینیڈین سٹی پام بیچ، نیو ٹاؤن، ایکسپریس وے پر کام کرنے والے بلڈوزر، ڈمپرز، لگژری کوچز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آٹھ برس پہلے لوگ دس، بیس، پچاس، سو یا ہزار پر گفتگو کرتے تھے اب پلاٹ، ایکڑ، لیز، ٹرک، کروڑ روزمرہ گفتگو کا حصہ ہیں۔پانچ برس پہلے جو زمین پچاس ہزار ایکڑ میں کوئی نہیں لے رہا تھا اب پانچ لاکھ ایکڑ میں خرید کر اس کے پلاٹ پچاس لاکھ میں بیچ رہا ہے۔ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ ایک مقامی ایجنٹ نے باہر سے آنے والے ایک شخص سے سمندر کے اس حصے کا بھی سودا کرلیا جہاں سردیوں میں پانی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔جب اس پلاٹ کا خریدار گرمیوں میں واپس آیا تو اس جگہ پانی لہریں ماررہا تھا۔
پسنی سے جیوانی تک کا تین سو کلومیٹر ساحل اسلام آباد کے بلیو ایریا، لاہور کے ڈیفنس اور کراچی کے گلشنِ اقبال میں گوادر کے نام سے بک رہا ہے۔ حکومتِ بلوچستان نے دو لاکھ ایکڑ سے زائد زمین کو وزیروں، ارکانِ پارلیمان، فوجی افسروں ، بیوروکریٹس اور من پسند سیاستدانوں کو تحفے میں دے ڈالا۔ مسلح اور نیم مسلح اداروں نے راتوں رات اپنی خاردار باڑھوں کو سینکڑوں خالی ایکڑوں پر آگے اور آگے بڑھا لیا۔ اگر پانچ ماہ پہلے جسٹس افتخار چوہدری والی سپریم کورٹ کا ایک بنچ سیاسی بنیاد پر کی گئی الاٹمنٹوں کو منسوخ نہ کردیتا اور لینڈ ٹرانسفر پر فوری پابندی نہ لگا دیتا تو آج شاید پورٹ کی زمین بھی فروخت ہو چکی ہوتی۔ گویا پچھلے تین چار برس سے گوادر انیسویں صدی کا امریکی وائلڈ ویسٹ بنا ہوا ہے۔جہاں ہر آباد کار بینڈ ویگن پر چڑھا سونے کی تلاش میں دوڑ رہا ہو۔ لیکن سب اندھیرا نہیں ہے۔ چار برس سے قائم گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( جی ڈی اے) نے نئے گوادر کا جو ماسٹر پلان تیار کیا ہے۔اس کی روشنی میں ڈویلپمنٹ اور تعمیرات کے لیے ستر کے لگ بھگ این او سی جاری کیےگئے ہیں۔ تین یا چار ہاؤسنگ سکیموں میں ڈویلپمنٹ کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ ہر ہاؤسنگ سکیم پر لازم ہے کہ وہ اپنے تیس فیصد پلاٹ جی ڈی اے کے پاس بطور ضمانت رکھوائے تاکہ اگر کوئی ہاؤسنگ اسکیم کھارے پانی کو میٹھا کرنے والا ڈی سیلینیشن پلانٹ لگانے یا تعمیر کے دوران ماحولیاتی قوانین کا خیال رکھنے یا الاٹیوں کے ساتھ کیےگئے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو جائے تو جی ڈی اے بطور ضمانت رکھے گئے پلاٹوں کو فروخت کر کے یہ کام مکمل کروا سکے۔ جی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل احمد بخش لہڑی کا اندازہ ہے کہ نئے گوادر میں آئندہ دس سے پندرہ برس کے دوران تین ساڑھے تین لاکھ لوگوں کے بسنے اور کاروبار کرنے کی گنجائش ہوگی۔اور ان میں سے بھی اکثریت وہ ہوگی جن کا یہاں پورٹ یا اس سے منسلک منصوبوں سے روزگار وابستہ ہوگا۔
اس بات کا کم ہی امکان ہے کہ پاکستان کے دیگر علاقوں سے عام آدمی یہاں آ کر بسے۔ چنانچہ پلاٹوں کی خریدوفروخت بسنے بسانے کی سنجیدہ کوشش سے زیادہ فوری منافع بخش سرمایہ کاری کی نیت سے ہو رہی ہے اور پلاٹوں کی فا ئلیں اگلے کئی برس تک ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ منتقل ہوتی رہیں گی۔ گوادر ڈریم کی تعبیر کا دارومدار گوادر ڈیپ سی پورٹ کے اقتصادی مستقبل پر ہے۔ پہلے پہل ایوب خان کے زمانے میں اس بارے میں سوچا گیا کہ گوادر چونکہ تیل کی سب سے بڑی عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے دہانے پر ہے اور اس کی ارضیاتی ہییت ایک قدرتی بندرگاہ جیسی ہے اس لیے یہ جگہ ایک متبادل پورٹ کے طور پر نہایت سود مند رہے گی۔ تاہم اس زمانے کے علاقائی حالات کے حساب سے اسکی اقتصادی افادیت ثابت نہیں ہوپارہی تھی۔یہ افادیت نوے کے عشرے میں واضح ہونی شروع ہوئی جب وسطی ایشیا کی ریاستیں سوویت یونین سے الگ ہوئیں اور چین نے ایک اقتصادی سپرپاور کے طور پر ابھرنا شروع کیا اور اسے اپنی مصنوعات کی نقل و حمل اور تیل کی بڑھتی ہوئی صنعتی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختصر فاصلے پر واقع ڈیلیوری پوائنٹس کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اگر بیجنگ میں بیٹھ کر آپ گوادر کو دیکھیں تو وہ آپ کو ایک ایسی جگہ نظر آئے گی جہاں اگر ایک پورٹ ہو، سو کیلومیٹر دور خلیج سے آنے والے تیل کو صاف کرنے کے لیے ایک بہت بڑی ریفائنری ہو۔اس صاف تیل کو مغربی چین تک آئیل ٹینکرز یا پائپ لائن کے ذریعے ڈھائی ہزار کلومیٹر تک پہنچانے کا امکان ہو اور پھر اسی روٹ سے تیار شدہ مصنوعات بیرونی دنیا تک پہنچانے کی گنجائش ہو تو کتنا فائدہ ہوگا؟ چین مشرقِ وسطی اور افریقہ سے اپنی ضروریات کا چالیس فیصد تیل منگواتا ہے۔ یہ سارا تیل آبنائے ملاکا سےگزر کے چین کے مشرقی ساحل پر پہنچتا ہے اور وہاں سے ہزاروں میل پر پھیلے ہوئے اندرونِ ملک پہنچایا جاتا ہے۔اگر یہی تیل گوادر سے قراقرم پار کر کے لایا جاسکے تو ٹرانسپورٹیشن کے خرچے میں اربوں ڈالر بچ سکتے ہیں اور کسی بھی وقت آبنائے ملاکا بند ہونے کی لٹکتی تلوار سے بھی نجات مل سکتی ہے۔
پاکستان کا خیال یہ ہے کہ اگر چین اور بعد میں وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی راستہ قائم ہوجاتا ہے تو نہ صرف اسے ٹرانزٹ ٹریڈ کی مد میں ایک مستقل آمدنی حاصل ہوگی بلکہ ڈیوٹی فری گوادر زون میں جو صنعتیں قائم ہوگئیں ان کے سبب پاکستانی شہریوں اور اقتصادیات کو بھی ایک مستحکم سہارا مل پائے گا۔ یہ وہ وژن تھا جس کے نتیجے میں مارچ سن دو ہزار دو میں گوادر پورٹ کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔ ساڑھے چار سو چینی انجینئروں اور چھ سو کے لگ بھگ پاکستانی ماہرین اور ورکرز نے مقررہ ہدف سے چھ ماہ قبل پہلے مرحلے میں تین گودیوں کی تعمیر مکمل کرلی۔ دوسرا مرحلہ سن دو ہزار دس تک مکمل ہوگا جس میں گیارہ مزید گودیاں تعمیر ہوں گی۔ پورٹ میں تیس ہزار ٹن وزن تک کے جہاز آ سکیں گے۔ پورٹ کے حکام کہتے ہیں کہ اس جگہ چالیس سے زائدگودیوں کی گنجائش ہے مگر توسیع کا دارومدار بزنس پر ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ گوادر پورٹ کو ایک ایسے وقت بزنس کہاں سے ملے گا جب اسکے آزو بازو، ایران کی بندرگاہ چاہ بہار، اومان کی بندرگاہ سلالہ اور دوبئی کی پورٹ راشد اور جبلِ علی ڈیوٹی فری زون پہلے سے موجود ہے ۔ اس کام کے لیے حکومتِ پاکستان نے پورٹ آف سنگا پور اتھارٹی (پی ایس اے) کو چالیس برس کے لیے بندرگاہ کا نظم و نسق سونپ دیا ہے۔اس عرصے میں پی ایس اے بندرگاہ کی توسیع اور صنعتی زون کے قیام پر پانچ سے آٹھ بلین ڈالر صرف کرے گی۔ حکومتِ پاکستان کو بندرگاہ کی آمدنی میں سے نو فیصد اور صنعتی زون کی آمدنی میں سے پندرہ فیصد حصہ ملے گااور حکومتِ پاکستان اپنے حصے میں سے حکومتِ بلوچستان کو سات فیصد حصہ دے گی۔ یعنی آسان زبان میں اگر وفاقی حکومت کو بندرگاہ کی سو روپے کی آمدنی میں سے پندرہ روپے ملیں گے تو بلوچستان کو سو روپے میں سے تقریباً ستر پیسے ملیں گے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر بلوچستان کے قوم پرست حلقے کہہ رہے ہیں کہ دکھ سہیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں۔گوادر کے ایک سیاسی کارکن عابد سہرابی کے بقول زمین ہماری استعمال ہورہی ہے، آبادی ہماری ادھر ادھر ہوگی لیکن ہمیں صرف بتایا گیا ہے کہ یہ سب ہم تمہاری ترقی کے لئے کررہے ہیں ۔ہم سے کبھی نہیں پوچھا گیا کہ آپ کی کیا رائے ہے۔اس تناظر میں سوائے اسکے ہم کیا کہیں کہ کھایا پیا کچھ نہیں،گلاس توڑا بارہ آنے۔
شاید اسی بے چینی کے نتیجے میں زیرِ تعمیر گوادر پورٹ پرگزشتہ تین برس کے دوران متعدد بار راکٹ گرے اور تین چینی انجینیئروں کا بھی قتل ہوا۔ ایک اور قوم پرست کارکن کا کہنا ہے کہ جب امن و امان کی یہ صورتحال ہو کہ اہم شخصیات اور چینی حکام کو بکتر بند گاڑیوں میں سفر کروایا جائے، بیچی جانے والی زمینوں کے سینکڑوں دعویدار روزانہ عدالتوں میں نظر آئیں اور پیسے والوں کے اغوا کی وارداتیں بھی شروع ہوجائیں تو وہاں سرمایہ کیسے آئے گا اور کون کام کرے گا۔اگر اسلام آباد والے گوادر اور بلوچستان کو دو الگ الگ مسئلے سمجھ رہے ہیں تو وہ بڑی سخت غلطی کررہے ہیں۔ گوادر کی موجودہ آبادی اسی ہزار کے لگ بھگ ہے جو مچھیروں، کشتیاں بنانے والوں اور چھوٹے موٹے دوکانداروں پر مشتمل ہے۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ پورٹ کا پراجیکٹ ان کی زندگی میں کیا تبدیلی لائے گا تو ان کے پاس اس کا کوئی قطعی جواب نہیں ہے۔وہ حوالہ دیتے ہیں کہ صدر پرویز مشرف جب آخری دفعہ یہاں آئے تھے تو انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ مقامی لوگوں کو ہنرمند بنانے کے لیے ٹکنیکل ٹریننگ سینٹر قائم کیا جائے گا۔
لیکن عملی صورت یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے پورٹ پر کام کرنے کے لیے جن ایک سو بیس افراد کو اسلام آباد میں ٹیکنکل تربیت دلوائی تھی ان میں سے نصف کو عارضی کنٹریکٹ پر ملازمت ملی۔ اس کے علاوہ پینتالیس اعلٰی ہنرمندوں اور کوالیفائیڈ مقامی انجینیروں کو بھی مستقل ملازمت کے وعدے کے باوجود عارضی کنٹریکٹ پر رکھا گیا۔یہ بھی طے نہیں ہے کہ پورٹ آف سنگاپور اتھارٹی ان لوگوں کو رکھے گی یا نہیں۔ گوادر پورٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کموڈور منیر واحد سے میں نے پوچھا کہ پورٹ آف سنگاپور اتھارٹی سے سمجھوتے میں کیا اتھارٹی کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ ملازمتوں میں مقامی کوالیفائیڈ لوگوں کو ترجیح ملے گی۔ کموڈور صاحب کا جواب تھا کہ اس طرح کی کوئی لازمی شق معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ ممکنہ طور پر بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے نئے ماسٹر پلان میں ایک ہزار گھر بنانے کا بھی منصوبہ ہے۔تاہم اس وقت تک ضرورت مندوں کی چار ہزار سے زائد درخواستیں حکام کے پاس جمع ہوچکی ہیں۔ جب کراچی کے قریب پورٹ قاسم بنی تھی تو وہاں پہلا جہاز چھ برس بعد لنگر انداز ہوا تھا۔گوادر میں یقیناً بندرگاہ کی سرگرمیاں شروع ہونے میں اس سے کم وقت لگے گا۔
لیکن بندرگاہ کا دوسرا فیز مکمل ہونے میں تین سے چار برس موٹر وے اور بین الاقوامی معیار کے ائیرپورٹ کی تعمیر میں کم از کم سات برس اور ریلوے لائن کی تعمیر میں کم ازکم دس برس درکار ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان، ایران اور خود بلوچستان کی سیاسی صورتحال بھی گوادر پورٹ کی اقتصادی قسمت کے مستقبل میں اہم کردار ادا کرے گی ۔ لیکن وہ جو چینی محاورہ ہے کہ ہزار میل کا سفر بھی پہلے قدم سے شروع ہوتا ہے۔چینی انجینیروں نے یہ محاورہ کم ازکم گوادر کے ساحل تک تو پہنچا ہی دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||