’آٹھ بجے کے بعد بازار بندہونگے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکومت نے بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے قومی پالسی کا اعلان کیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت پیر سے ملک بھر میں شام آٹھ بجے کے بعد تمام دکانیں اور بازار بند رکھی جائیں گی۔ لیکن تاجروں نے حکومت کے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کراچی میں جمعہ کی شام وزیر برائے پانی اور بجلی لیاقت جتوئی نے ایک پریس کانفرنس میں بجلی کی بچت کی قومی پالیسی کا اعلان کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں بجلی کی کھپت میں ہر سال دس فیصد اضافہ ہو رہا ہے، اور ہر سال دس لاکھ صارفیں اس نیٹ میں شامل ہو رہے ہیں۔ان کے مطاقب پاکستان کو اس وقت ساڑھے چار سو میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا پیر کو ملک بھر کے بازار، بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹور شام آٹھ بجے کے بعد بند ہوجائیں گے جبکہ میڈیکل اسٹور ، ہسپتال، کلینک ، ریسٹورانٹ ، بیکری، کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ زرعی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والے ٹیوب ویل سے بھی بجلی بچانے کی حکمت عملی بنائی گئی ہے، جس کے تحت اگر رات دس بجے سے صبح چھ بجے تک ٹیوب ویل چلائے جائیں تو مالکان کو پچہتر پیسے فی کلو والٹ پر چھوٹ دی جائے گی۔
لیاقت جتوئی نے بتایا کہ صوبائی حکومتیں شاپ ایکٹ کے قانون پر عملد رآمد کرائیں گی۔ اس قانون میں دکان کھولنے اور بند کرنے کا وقت موجود ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ سنیچر کو رات گئے تک بازار کھولنے کی اجازت دی جائے گی تاکہ چھٹی سے ایک روز قبل لوگ خریداری کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر لگے ہوئے سائن بورڈ بھی رات آٹھ بجے تک روشن رکھے جائیں گے اور شادی کے ہالوں میں زیادہ سے زیادہ دس بجے تک تقریبات منعقد کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ حکومت نے اس پالیسی پر عمل درآمد کے لئے میڈیا مہم بھی چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ بجلی کی بڑہتی ہوئی ضرورت پورا کرنے کے لیے ایران اور داغستان سے مذاکرات کیے جارہے ہیں، جس میں داغستان سے 6 عشاریہ پانچ سینٹ فی کلو والٹ میں بجلی خریدنے کے لیے بات ہوئی ہے۔ تاجر برادری اس فیصلے کو مناسب نہیں سمجھتی۔ فیڈرل چیمبر آف کامرس کے سابق چیئرمین ہارون رشید کا کہنا ہے ’شام آٹھ بجے دکان بند کرنے کا فیصلہ مسئلے کا حل نہیں ہے، حکام کو مسئلے کی بنیاد کو دور کرنا چاہیے‘۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں بجلی کی پیداوار بڑہائی جائے اور جو بجلی ضائع ہوتی ہے، کنڈا سسٹم اور بجلی کی روک تھام کے لیے اقدامات اکرنے کی ضرورت ہے۔ کراچی کے چھوٹے تاجروں کا کہنا ہے کہ گرمی میں لوگ شام سے خریداری کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں حکومت کے اس فیصلے سے انہیں بھی پریشانی ہوگی۔ زینب مارکیٹ کے ایک دکاندار محمد عرفان کا کہنا تھا کہ آٹھ بجے کے بجائے نو بجے بازار بند کی جانی چاہیے کیونکہ صارفین دوپہر میں خریداری کے لیے نکلتے ہیں۔ ایک دوسرے دکاندار محمد اسلم نے بتایا کہ حکومتی فیصلے سے تو دکانداروں کا خرچہ بھی نہیں نکلے گا۔ ’جب لوگ آنا شروع ہونگیں تو دکاندار جانے کی تیاری کر رہے ہوں گے۔ اس فیصلے کے بعد بھی لوڈشیڈنگ تو ہوتی رہے گی‘۔ الیکٹرانکس اشیا کے دکاندار عبدالوہاب کا کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پہلے ہی دکاندار پریشان ہیں ۔جنریٹر پر ہر روز پانچ سو کا پیٹرول جل جاتا ہے، جس کا خرچہ الگ ہوتا ہے۔ لاہور سے صحافی امداد علی سومرو نے بتایا ہے کہ لاہور کے ایوان صنعت و تجارت کے صدر شاہد حسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کے بحران کو قابو پانے کی لیے وہ حکومت سے ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہیں ۔ لیکن وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے جس سے صنعتی پیداوار متاثر نہ ہو۔ شاہد حسن کا کہنا تھا’ لوڈشیڈنگ اور بجلی کی بار بار بندی کی وجہ سے پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے لوڈشیڈنگ کے بجائے متبادل دن پر چھٹی زیادہ بہتر طریقہ ثابت ہوگا‘۔
مغرب کے بعد کاروباری مراکز اور مارکیٹیں بند رکھ کر بجلی بچانے کی تجویز کے متعلق ان کا کہنا تھا ان کی تمام تاجروں سے بات ہوئی ہے اور وہ لوگ اس تجویز پر متفق ہیں ۔ لاہور چیمبر آف کامرس کے لیسکو سے متعلق کمیٹی کے چیئرمن شیخ محمد ارشد کا کہنا ہے ’اصل میں حکومت بجلی کے بحران پر قابو پانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی ورنہ یہ بحران کوئی اتنا سنگین نہیں ہے کہ اس کو حل نہ کیا جائے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل کی صنعت کے پاس موجود جرنیٹرس سے پانچ سو میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ حکومت ان سے مدد لے کر صرف پانچ ارب رپے کے عیوض اس بحران سے نکل سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صنعت کاروں نے دو ماہ قبل چیئرمین واپڈا طارق حمید سے ملاقات میں ان کو یہ پیشکش کی تھی کہ صنعت کار اپنے جرنیٹرس واپڈا کو کرائے پر دینے کے لیے تیار ہے ان کو فی یونٹ ایک روپے اٹھتیس پئسے کرایہ ادا کیا جائے جس سے بجلی کے موجودہ بحران سے نکلا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں بجلی کے بحران کی بنیادی وجہ کراچی ہے۔’جہاں واپڈا سات سے آٹھ سو میگاواٹ زائد بجلی دے رہا ہے اور یہ بجلی لاہور اور دیگر شہروں کے حصے سے ناجائز طور پر کاٹ کر دی جا رہی ہے۔ لاہور اور دیگر شہروں کا حق کراچی کو دینا کہاں کا انصاف ہے‘۔ ان کے مطابق لاہور فیصل آباد اور دیگر صنعتی علاقوں کے لیے آٹھ سو میگاواٹ بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ابوظہبی سے جرنیٹرس خریدے گئے ہیں لیکن وہ نصب نہیں کیے جا رہے۔ ایوانِ صنعت و تجارت گجرات کے صدر رانا شہزادنے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ صنعتکاروں نے ہی یہ تجویز دی تھی کہ صنعتی علاقوں میں متبادل دنوں کو چھٹیاں کی جائیں۔’کاروباری مراکز رات کو عشاء کے بعد بند کر دیے جائیں، پوری دنیا میں ایسا ہوتا ہے لیکن پاکستان میں رات کو دو بجے تک کاروباری مراکز کھلے رہتے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تو تقسیم کار کمپنیاں یہ تک نہیں بتاتیں کہ ان کے پاس کتنی بجلی ہے اور لوڈ کتنا، اور کمی کتنی ہے۔ ہمیں بجلی کی کمی کا احساس ہے ہم لوڈشیڈنگ سے بھی نہیں بھاگتے لیکن کم سے کم لوڈشیڈنگ کیلیے بھی منصوبہ بندی ہونی چاہیے ۔ انہوں نے بتایا کہ گوجرانوالا میں بیس ہزار سے زائد صنعتی یونٹس ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ایک شیڈیول بنایا جائے کہ کس دن کون سی صنعت بند رکھنی ہے اور کس دن کون سے صنعتی علاقے کو بجلی فراہم کی جائے گی۔ ایوانِ صنعت و تجارت سیالکوٹ کے نائب صدر سرفراز بشیر نے تجویز دی کہ بجلی کے غیر ضروری استعمال کو روکنے لیے کمپنیاں گشتی ٹیمیں بنائیں جائيں جو شادی ہالوں، گھروں، دکانوں، گلیوں کو سجانے کے لیے ہونے والی غیر ضروری لائٹنگ کو روکنے کے لیے کام کریں۔اس ضمن میں کوئی قانون سازی کی جائے۔ وفاقی وزیر لیاقت جتوئی کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدام سے پانچ سو میگاواٹ کی بچت ہوگی، اگر درست طریقے سے لوڈ مئنیجمنٹ نہ کی گئی تو لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑےگا۔انہوں نے ایوان صدر، وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاؤس کو بھی اپیل کی کہ بجلی کا غیر ضروری استعمال نہ کیا جائے۔ | اسی بارے میں بجلی کی بندش، میران شاہ میں ہڑتال14 January, 2007 | پاکستان کھمبے تباہ، بجلی کی ترسیل بند08 July, 2006 | پاکستان کراچی مغرب کے بعد بازار بند02 June, 2006 | پاکستان کوئٹہ: بجلی کی بندش پر احتجاج 13 April, 2006 | پاکستان بلوچستان: بجلی کے کھمبے اڑا دیے23 June, 2005 | پاکستان بلوچستان: بجلی کا بحران جاری 02 February, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||