کھمبے تباہ، بجلی کی ترسیل بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمور سے سوئی کے درمیان نامعلوم افراد نے بجلی کے تین کھمبوں کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جس سے ڈیرہ بگٹی اور سوئی کو بجلی کی ترسیل منقطع ہوگئی ہے جبکہ مسلح قبائلیوں اور پنجاب رینجرز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاع ہے۔ کوئٹہ میں بجلی فراہم کرنے والے محکمے کے ترجمان نے بتایا ہے تینتیس کے وی کے تین سٹرکچر کھمبوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا گیا ہے۔ صوبہ سندھ کے شہر کشمور سے بلوچستان کے شہر سوئی کو بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے بتایا ہے کہ ڈیرہ بگٹی اور سوئی کو بجلی کی ترسیل معطل ہے تاہم گیس پلانٹ مقامی جنریٹرز کی مدد سے چل رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی میں فراریوں کے کیمپوں میں سرچ آپریشن جاری ہے جہاں سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی ڈیرہ بگٹی سے کاہان چلے گئے ہیں۔ اس بارے میں جمہوری وطن پارٹی کے ترجمان آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ یہ سب جھوٹ ہے، نواب اکبر بگٹی اپنے علاقے میں موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی تین مرتبہ اسی طرح کی خبریں جاری کی گئی تھیں جن میں کبھی ایران اور کبھی افغانستان کا کہا گیا ہے جو بعد میں جھوٹ ثابت ہوئی ہیں۔ ڈیرہ بگٹی سے آنے والی اطلاعات کے مطابق سنیچر کی صبح پانچ ہیلی کاپٹر سوئی پہنچے ہیں جہاں سے وہ مختلف علاقوں کی طرف چلے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیرہ بگٹی اور صوبہ پنجاب کے سرحدی علاقے پر واقعہ ڈولی چیک پوسٹ پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا ہے جس کے بعد پنجاب رینجرز کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور اس میں رینجرز کے ایک اہلکار کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ | اسی بارے میں سوئی آپریشن، متعدد ہلاک14 June, 2006 | پاکستان ’بجلی کا کنٹرول صوبے کودیاجائے‘22 June, 2006 | پاکستان کراچی بجلی بحران پرہائی کورٹ نوٹس 03 July, 2006 | پاکستان بلوچستان: دھماکے اور راکٹ باری04 July, 2006 | پاکستان کوئٹہ:سورج گنج بازار میں دھماکہ07 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||