سوئی آپریشن، متعدد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر سوئی کے قریب سکیورٹی فورسز نے بڑی کارروائی کی ہے جس میں سرکاری ذرائع نے پانچ قبائلیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ نواب اکبر بگٹی کے مطابق اس کارروائی میں کم سے کم بارہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ اکبر بگٹی کے مطابق اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز کا جانی نقصان ہوا ہے۔ پانچ مسلح قبائلیوں کو ہلاک کرنے کے دعوئے کے علاوہ سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ سات مسلح قبائلیوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ دریں اثناء صوبہ بلوچستان کے شہر سوئی میں انتظامیہ نے کہا ہے کہ فرنٹییر کور نے بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کیا ہے جبکہ یہاں کوئٹہ میں انسپکٹر جنرل پولیس نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے بم دھماکوں اور راکٹ باری میں ملوث سات افراد کو ضلع بولان سے گرفتار کیا ہے ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے بتایا ہے حکومت کے حمایتی بگٹی قبائلی اور فرنٹیئر کور کے اہلکار اپنے اپنے طور پر حکومت کے مخالف مسلح قبائلیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں اور اسی سلسلے میں پیر کوہ کے علاقے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی نے کوئٹہ میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ منگل کی صبح کوئی گیارہ ہیلی کاپٹروں اور دو طیاروں کی مدد سے سنگسیلہ کے قریب ٹوبہ اور زین ٹاپ کے علاقوں میں بمباری کی گئی ہے جس میں کم سے کم بارہ خواتین بچے اور مرد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں مال مویشی مارے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے فورسز کو زمین پر اتارا گیا اور وہاں بگٹی قبائلیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں فورسز کا جانی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان جھڑپوں میں دو ہیلی کاپٹروں کو نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کیمپ کمانڈ اینڈ کنٹرول کے طور پر استعمال ہوتا تھا اور بی ایل اے ایک بڑی کارروائی کا ارادہ رکھتی تھی جس پر فرنٹئیر کور نے یہ کارروائی کی ہے جو چھ گھنٹے تک جاری رہی ہے۔ یاد رہے سوئی سے کل صبح مقامی لوگوں نے بتایا تھا آٹھ کے لگ بھگ ہیلی کاپٹر فضا میں پرواز کر رہے ہیں اور سنگسیلہ کے قریب فضائی حملے کیئے گئے ہیں۔ لوگوں نے بتایا تھا کہ سوئی کی بگٹی کالونی سے لوگوں کو باہر نکلنے نہیں دیا جا رہا تھا۔ گزشتہ سال دسمبر کے آخری دنوں میں ڈیرہ بگٹی میں مبینہ فوجی کارروائی شروع کی گئی تھی لیکن گزشتہ چند ماہ سے بڑے حملے نہیں کیئے جارہے تھے۔ دریں اثنا ایک نامعلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنا نام آزاد بلوچ بتایا ہے اور کہا کہ وہ کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا نمائندہ ہے۔ آزاد بلوچ نے گزشتہ روز کوئٹہ کے سریاب روڈ پر دھماکے کے حوالےسے کہا کہ یہ حملہ انہوں نے نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ عام آدمی کو نشانہ بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتے ان کی جن کے ساتھ جنگ ہے وہ انہیں اور سب کو پتہ ہے۔ یاد رہے گزشتہ دنوں گیس پائپ لائن اور بجلی کے کھمبوں پر حملوں کی بھی انہوں نے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملے انہوں نے نہیں کیئے ہیں۔ آزاد بلوچ نے نوشکی میں ریل کی پٹڑی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ | اسی بارے میں سوئی آپریشن، متعدد ہلاک14 June, 2006 | پاکستان سوئی اور پنجگور میں دھماکے06 June, 2006 | پاکستان سوئی: آتش زدگی میں کئی زخمی26 May, 2006 | پاکستان تحصیلدار قتل، 3 کھمبے اڑا دیے گئے15 May, 2006 | پاکستان سوئی: تحصیلدار اور دو لیویز اغوا 13 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||