BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بجلی کا کنٹرول صوبے کودیاجائے‘

صوبہ سرحد کی اسمبلی
ایوان نے قرارداد کو متفقہ طورپر منظور کرلیا
صوبہ سرحد کی اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کی جانے والی دو مختلف قراردادوں کے ذریعے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کا کنٹرول صوبے کے حوالے کیا جائے اور سرحد ٹیکسٹ بورڈ میں مداخلت فوری طورپر بند کی جائے۔

جمعرات کے روز سرحد اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر بشیر احمد بلور نے ایک نکتۂ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ذرائع ابلاغ میں خبریں آئی ہیں کہ وفاقی حکومت نے پیسکو سمیت بارہ الیکڑک کمپنیوں کو مالی خودمختاری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ صوبوں کے حقوق غصب کرنے کے مترادف ہے، پہلے ہی صوبہ واپڈا سے اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نئے فیصلے سے ٹھیکداروں کو اختیار مل جائے گا جس سے ایک محاذ کھلنے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجلی ہماری ہے اور اس پر ہمارا حق ہے اس لیے اسے ہمارے حوالے کیا جائے۔

بشیر بلور نے اس موقع پر سپیکر بخت جہان خان سے درخواست کے کہ قواعد معطل کرکے مجھے اس پر قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ سینئر صوبائی وزیر سراج الحق نے بھی ان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بجلی صوبے کی پیداوار ہے اور اس پر ہمارا حق ہے ان اداروں کو مالی خودمختاری دینے سے ملازمین کا مستبقل بھی خطرے میں پڑسکتا ہے پھر ہم کس کس سے لڑیں گے۔

محاذ کھلنے کا خطرہ
 وفاقی حکومت نے پیسکو سمیت بارہ الیکڑک کمپنیوں کو مالی خودمختاری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ صوبوں کے حقوق غصب کرنے کے مترادف ہے، پہلے ہی صوبہ واپڈا سے اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نئے فیصلے سے ٹھیکداروں کو اختیار مل جائے گا جس سے ایک محاذ کھلنے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے

سپیکر نے ایوان کے رائے سے قواعد معطل کرتے ہوئے بشیر بلور کو قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی جس پر اے این پی کے پارلیمانی لیڈر اور متحدہ مجلس عمل کے رکن مولانا تاج الامین جبل نے مشترکہ قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسمبلی وفاقی حکومت سے پر زور مطالبہ کرتی ہے کہ الیکڑک کمپنیوں کو مالی خودمختاری دینے کا فیصلہ فوری طورپر ختم کردے۔

قرارداد میں مزید بتایا گیا ہے کہ بجلی کا کنٹرول ون یونٹ سے پہلے کی طرح صوبے کو دیا جائے۔ ایوان نے قرارداد کو متفقہ طورپر منظور کرلیا۔

اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینڑین کے پارلیمانی لیڈر عبدالاکبر خان نے ایک نکتۂ اعتراض پر کہا کہ وفاقی حکومت سرحد ٹیکسٹ بورڈ میں تبدیلیاں کرنا چاہتی ہے لہذا مجھے بھی قواعد معطل کر کے اس کے خلاف قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

سپیکر بخت جہان خان نے ایوان کی رائے سے قواعد معطل کرتے ہوئے عبدالااکبر خان کو قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی۔ قرارداد میں انہوں نے کہا کہ یہ اسمبلی وفاق سے مطالبہ کرتی ہے کہ صوبے کے معاملات میں مداخلت بند کی جائے اور ٹیکسٹ بورڈ کو اپنے فرائض سرانجام دہی کی آزادی دی جائے۔ ایوان نے بعد میں قرارداد متفقہ طورپر منظور کر لیا۔

دریں اثنا ایک حکومتی رکن اسمبلی مولانا امانت شاہ نے باڑہ خیبر ایجنسی میں کشیدگی کے باعث پشاور میں ایف سی آر کے قانون کے تحت کاروباری مراکز کو بند کرنے کے احکامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے غریب ملازمین متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پشاور میں بند تمام کاروباری مراکز کو فوری طور پر کھولا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد