BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 June, 2006, 17:28 GMT 22:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد بجٹ: دینی اساتذہ کو مراعات

صوبائی وزیر سراج الحق
صوبہ سرحد کی حکومت فلاحی بجٹ کی اصطلاح استعمال کرتی ہے
صوبہ سرحد میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے اپنے مسلسل چوتھے سالانہ بجٹ میں دینی تعلیم دینے والے اساتذہ، مدراس کے طلبہ کے علاوہ سینیئر شہریوں کے لیے چند خصوصی اقدامات تجویز کیئے ہیں۔

سینیئر صوبائی وزیر سراج الحق نے جوکہ محکمہ خزانہ کا اضافی قلمدان بھی رکھتے ہیں، دو ہزار چھ سات کے لیئے یہ بجٹ سرحد اسمبلی میں سنیچر کے روز پیش کیا۔

ایم ایم اے کی حکومت نے ماضی میں بھی بجٹ سازی میں فلاحی بجٹ کی نئی اصطلاح متعارف کرائی تھی۔ اس سے قبل بجٹ عموماً ترقیاتی اور غیرترقیاتی حصوں میں بٹے ہوتے تھے۔

ایم ایم اے کی حکومت نے نئے طریقے کے تحت اس مالی میزانیے کو فلاحی، ترقیاتی اور انتظامی تین شعبوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اس سال بھی یہی کیا گیا ہے۔ تاہم ان شعبوں کی تفریق کچھ مبہم اور غیرواضع سی ہے۔

فلاحی بجٹ کے تحت ہی سینیئر شہریوں کو جہاں سوشل سیکورٹی دی جا رہی ہے وہیں اس کے اندر سکولوں کے درجے بڑھانے جیسے ترقیاتی کام بھی سرانجام دئیے جا رہے ہیں۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی یہی کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

صوبائی حکومت کا دعوی ہے کہ آئندہ مالی سال میں فلاحی بجٹ بیالیس ارب روپے سے زائد رقم کا ہوگا جوکہ مجموعی بجٹ کا باون فیصد ہے۔ ترقیاتی بجٹ اس کے مقابلے میں صرف چھبیس ارب روپے پر مبنی ہے۔

اس سال فلاحی اقدامات میں صوبائی حکومت نے دینی تعلیم دینے والے اساتذہ اور مدارس کے طلبہ کے لیئے چند خصوصی اقدامات تجویز کیئے ہیں۔ عربی اور دینیات کی کی تعلیم دینے والے اساتذہ کی تنخواہوں کے سکیل بالترتیب نو سے یکسر بڑھا کر پندرہ اور سات سے بڑھا کر چودہ کر دیئے گئے ہیں۔

اسی طرح پانچوں وفاق ہائے مدارس کے فائنل امتحان میں پہلی تین پوزشنیں حاصل کرنے والے طلبہ اور طالبات کو پچیس، بیس اور پندرہ ہزار روپے کے انعام بھی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایم ایم اے کے ناقدین کے خیال میں یہ حلقہ ایم ایم اے کی اصل ’کنسٹیچوینسی’ یعنی اساس ہے اس لیئے ان کا خصوصی خیال رکھا جا رہا ہے۔

ایک اور ایسی ہی سکیم جس سے صوبائی حکومت کو فائدہ ہونے کا امکان ہے وہ ہے ستر سال سے زائد کی عمر کے افراد کے لیئے پانچ سو روپے ماہانہ کی سوشل سیکورٹی سپورٹ۔ ابتدائی طور پر یہ سہولت صوبہ کے دور افتادہ اور پسماندہ ضلعوں کوہستان اور شانگلہ میں عمر رسیدہ افراد کو میسر ہوگی۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ بعد میں یہ مراعات دیگر اضلاع کے افراد کو بھی حاصل ہوگی۔

پشاور کے ایک بڑے ہسپتال کے باہر مریضوں کے غریب رشتہ دار سڑک کے درمیان ڈی وائڈر پر راتوں کو سویا کرتے تھے۔ ان کے لیئے حکومت نے ایک سرائے تعمیر کروائی۔ اب اسے ایک کامیاب تجربہ قرار دیتے ہوئے نئے بجٹ میں ایسی ہی سرائیں مردان، ڈیرہ اسماعیل خان، ایبٹ آباد اور کوہاٹ کے بڑے ہسپتالوں کے قریب بھی تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب صوبائی حکومت سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو مفت کھانا فراہم کرنے کی سکیم کو دوبارہ شروع کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے آغاز ہوگا جس کے لیئے ایک کروڑ روپے مختص کیئے گئے ہیں۔

ایم ایم اے کی حکومت تعلیم اور طلبہ پر خصوصی توجہ دیتی آئی ہے۔ اس مرتبہ بھی تعلیم کے فروغ کے لیئے کئی اقدامات بجٹ میں شامل ہیں۔ اساتذہ اور مدارس کے طلبہ کے لیئے خصوصی اقدامات کے علاوہ ایم اے اور ایم ایس سی کرنے والے طالب علموں کے لیئے بھی ایک سال تک ایک ہزار روپے ماہانہ سوشل سیکورٹی سپورٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔ تاہم یہ واضع نہیں ہے کہ یہ سہولت صرف بے روزگاروں کے لیئے ہوگی یا سب کے لیئے۔

اسی بارے میں
بجٹ: پچیس ارب کے ٹیکس
06 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد