سندھ وفاقی حکومت کا مقروض | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سندھ کی بجٹ دستاویز کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ محصولات دینے والا صوبہ سندھ وفاقی حکومت کے تینتیس ارب نوے کروڑ روپے کا مقروض ہے۔ ان دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت نے ستر کے عشرے سے سن انیس سو نوے تک صوبے کو ترقیاتی منصوبوں کی مد میں زیادہ سود پر کیش ڈیولپمنٹ قرضے دیئے تھے جس کے باعث صوبے کو سود میں بہت زیادہ ادائیگیاں کرنی پڑیں۔ دستاویز کے مطابق وفاقی قرضے کی مد میں ایک سو ستر ارب انتیس کروڑ روپے ادا کیے گئے ہیں جس میں انیس ارب انسٹھ کروڑ روپے اصل رقم جبکہ ستانوے ارب ستر کروڑ روپے کا سود شامل ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ حکومت نے بین الاقوامی اداروں سے قرض لےکر زیادہ سود سے نجات کے لیئے صوبائی حکومت نے اپنا بینک قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس پر آئندہ مالی سال سے عمل درآمد شروع کیا جائےگا۔ بجٹ دستاویزات میں سندھ کی پسماندگی کا بھی اعتراف کیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق دیہی علاقوں میں غربت گمبھیر صورت اختیار کرچکی ہے جبکہ شہری علاقوں میں بھی جہاں سماجی ترقی نہیں ہوئی غربت کافی حد تک موجود ہے۔ واضح رہے کہ سندھ کا یہ اصولی موقف رہا ہے کہ وفاق کی جانب سے وسائل کی تقسیم محصولات کی وصولی کی بنیاد پر کی جائے۔ صوبوں میں اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے صدر مشرف کی جانب سے وسائل کی تقسیم کا آرڈیننس جاری کیا گیا جس میں وسائل کی تقسیم کی بنیاد آبادی کو بنایا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس کی مخالفت کی تھی ان کا کہنا ہے کہ صوبہ سندھ سے ساٹھ فیصد سے زائد محصولات لیئے جاتے ہیں اس کے بدلے میں اس کو بہت کم وسائل فراہم کیئے جاتے ہیں جس سے اس میں پسماندگی اور غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔ | اسی بارے میں بجٹ کوریج زیادہ ترمثبت06 June, 2006 | پاکستان تین کھرب کے خسارے کا بجٹ05 June, 2006 | پاکستان 1300 ارب روپے سے زیادہ کا بجٹ05 June, 2006 | پاکستان بجٹ اجلاس: ایوان میں کیا ہوا؟05 June, 2006 | پاکستان پندرہ فیصد مہنگائی کے، گیارہ فیصد دفاع کے05 June, 2006 | پاکستان بجٹ میں عوام کو کیا ملا؟05 June, 2006 | پاکستان متبادل بجٹ کیا ہو سکتا تھا؟05 June, 2006 | پاکستان نئے مالی سال کا بجٹ: خصوصی ویڈیو10 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||