بجٹ کوریج زیادہ ترمثبت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کے قومی اخبارات نے عمومی طور پر وفاقی بجٹ کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے تاہم انگریزی اخباروں نے اپنے تبصروں میں بجٹ کے خسارہ اور عوام کے لیے کوئی قابل ذکر رعائیتیں نہ دینے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ روزنامہ جنگ لاہور کی شہ سرخی ہے۔ ’تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ، دالیں، کھاد، تعمیراتی مشینری اور ڈیری مصنوعات سستی‘۔ اخبار نے اس بات کو بھی بڑی سرخی سے پیش کیا ہے کہ حکومت قیمتوں پر کنٹرول کے لیے ہر ضلع میں ایک پرائس میجسٹریٹ کا تقرر کرے گی۔ روزنامہ نوائے وقت نے بھی اپنی شہ سرخی میں تو بجٹ کے مثبت نکات پیش کیے ہیں۔’تنخواہوں، پنشن میں اضافہ، چینی اور دالوں پر سبسڈی‘ تاہم اخبار نے بجٹ میں نئے ٹیکسوں کو نمایاں انداز میں پیش کیا ہے۔ اخبار بتاتا ہے کہ جائدادوں کے کرائے، پراپرٹی اور اسٹاک مارکٹ کے کاروبار پر ٹیکس لگادیا گیا۔ انگریزی اخبار ڈان نے بجٹ کی کوریج زیادہ جامع انداز میں کی ہے۔ اخبار نے اپنی سرخی میں کہا ہے کہ حکومت نے رعائیتوں کا بجٹ پیش کیا ہے کیونکہ عام انتخابات کا سال نزدیک ہے۔ اخبار نے ترقیاتی اخراجات میں ایک سو ترسیٹھ ارب روپے اور زراعت کے شعبہ میں تقریباً دس ارب روپے کے اضافہ کو بھی خاص اہمیت دی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر اخباروں نے ٹیلی وژن کیبل پر پچیس روپے ماہانہ ٹیکس کو بھی سرخیوں سے شائع کیا ہے۔ روزنامہ ڈان نے پہلے صفحہ پر بجٹ پر ایک تبصرہ بھی شائع کیا ہے۔ تبصرہ نگار کا کہنا ہے کہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں حکومت گزشتہ بجٹ کی نسبت بیس فیصد زیادہ خرچ کرے گی لیکن وزیر مملکت نے یہ نہیں بتایا کہ یہ اضافی پیسے کہاں سے آئیں گے۔ اخباروں نے بجٹ پر حزب مخالف اور کاروباری طبقے کا ردعمل بھی شائع کیا ہے۔اخباروں کے مطابق سرکاری ملازمین کی ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافہ مذاق ہے۔ روزنامہ ڈان میں پراپرٹی ڈیلروں کے حوالہ سے خبر ہے کہ پراپرٹی پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس سے شہری زمین کی قیمتوں اور کاروبا رپر زیادہ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ پلاٹوں کی مارکیٹ میں قیمت سرکاری قیمت سے کم ہوتی ہے۔ البتہ بعض لوگوں نے رائے دی ہے کہ نئے ٹیکس سے قیمتیں دو سے پانچ فیصد کم ہوسکتی ہیں۔ اخبار نے اسٹاک مارکٹ کے بروکرز کے حوالہ سے یہ خبر بھی دی ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کے کاروبار پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس کے نفاذ سے حصص کا کاروبار سست پڑ جائے گا کیونکہ یہ ٹیکس حصص کی خریداری پر لگایا جارہا ہے خواہ سرمایہ کار کو بعد میں فائدہ ہو یا نقصان۔ دی نیشن نے بجٹ پر اداریہ بھی لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ یہ محتاط بجٹ ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ پریشان کن بات یہ ہے کہ حکومت غربت کے خاتمہ کے لیے واضح نظر آنےوالے اقدامات کرنے کے اپنے وعدے پورے نہیں کرسکی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس بجٹ کے بعد معاشی ترقی تو ہوگی لیکن امیر اور غریب کا فرق اور بڑھے گا۔ | اسی بارے میں ’عوامی توقعات پوری نہیں ہوئیں‘05 June, 2006 | پاکستان صدر اور وزیر اعظم کے اضافی اخراجات05 June, 2006 | پاکستان تین کھرب سےزیادہ کے خسارے کا بجٹ05 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||