BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 June, 2006, 19:08 GMT 00:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عوامی توقعات پوری نہیں ہوئیں‘

صنعتکار
صنعتکار کی پیداواری لاگت میں کمی کے لیے کوئی اعلان نہیں ہوا
پاکستان کے صنعتکاروں تاجروں اور ماہرین زراعت نے قومی بجٹ پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا اور متعددنے قومی بجٹ میں پیش کیئے جانے والے اعداد و شمار اور ریلیف کے اعلانات پر حقیقی عملدرآمد پر شک کا اظہار کیا ہے۔

لاہور ایوان صنعت و تجارت کے صدر میاں شفقت نے کہا کہ یہ بجٹ عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترا۔ عوام جس ریلیف کی توقع کر رہے تھے وہ بھی نہیں ملی اور صنعتکار کی پیداواری لاگت میں کمی کے لیے کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں کمپیوٹر ہارڈوئر پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان کیا جس پر لاہور ایوان صنعت و تجارت کے صدر نے کہا کہ کمپیوٹر کے آلات پر پہلے ہی کوئی کسٹمز ڈیوٹی نہیں تھی اور وزیر خزانہ نے نجانے کونسی ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی بجائے اس پر پندرہ فیصد سیلز ٹیکس لگا دیا گیا ہے جس کی وہ مخالفت اور مذمت کرتے ہیں۔

پنجاب اکنامک فورم کے صدر میاں انجم نثار نے کہا کہ بنکوں کی سیونگ اکاؤنٹ میں منافع کی شرح بڑھنے سے وہ قرضوں پر مارک اپ بڑھادیں گے اور دوسری طرف توانائی کے یونٹ یعنی بجلی،گیس اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی گئی اور نہ ہی انہیں منجمد کیا گیا جس سے ملک میں صنعتی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا۔

ملک میں صنعتی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا۔

کاشتکار تنظیم کسان بورڈ کے ایک عہدیدار ابراہیم مغل نے کہا کہ زراعت کے لیئے جن اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے ان کا عام کسانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اس کے لیئے بجلی اور ڈیزل سستا ہوا نہ ٹریکٹر کی قیمت میں کمی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جو اقدامات زرعی شعبے کا نام لے کر کیئے گئے ہیں وہ دراصل جاگیردار طبقے مفادات کو پورا کرتے ہیں۔

ٹیکسٹائل انڈسٹری کے نمائندے خالد رفیق نے کہا کہ ایک طرف بند ہوتی ہوئی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو کچھ نہیں دیا دوسری طرف زرعی شعبے میں ریلیف کا اعلان تو کیا گیا لیکن کھیت کے کسان کو کچھ نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ مویشیوں کے فارم کو سہولیات دینے سے زراعت پر کوئی بڑا فرق نہیں پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر مخلص ہوتی تو ایسے اقدامات کرتی جس سے فی ایکٹر پیداوار میں اضافہ ہوتا۔

آل پاکستان انجمن تاجران کے سیکرٹری جنرل عبدالرزاق ببر نے کہا کہ تھوک کے مال پر پچاس لاکھ روپے تک کی فروخت پر جنرل سیلزٹیکس کو اشاریہ سات پانچ فی صد سے بڑھا کر تین فی صد کر دیا ہے جو تاجر کبھی قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بظاہر یوں لگتا ہے کہ یہ حکومت کے خلاف سازش کی گئی ہے تاکہ تاجر سڑکوں پر آکر احتجاج کریں۔

حکومتی اقدامات مصنوعی معلوم ہوتے ہیں

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے نمائندہ عبدالباسط نے کہا کہ پاکستان میں پولٹری کی صنعت جس بحران کا شکار ہے اس کے لیے ایک ارب روپے کے مبہم پیکج کا اعلان اس کے ساتھ ایک مذاق ہے اور وہ اسے مسترد کرتے ہیں۔

لاہور چیمبر آف کامرس کے سابق صدر افتخار ملک نے بجٹ کو گرین اور وہائٹ انقلاب کا نام دیا اور کہا کہ زراعت کے شعبے کے لیے جو اقدامات کیئے گئے ہیں اس سے ایک طرف دیہی علاقوں میں خوشحالی آئے گی تو دوسری طرف دیہی علاقوں سے شہروں میں آنے کے رجحان کا خاتمہ ہوگا۔

فلور ملزایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین ماجد عبداللہ نے کہا کہ وزیر خزانہ نے فوڈ سیکورٹی کی بات تو کی ہے لیکن یہ وضاحت نہیں کی کہ یہ کیا ہوگی اور اس کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات انہیں مصنوعی معلوم ہوتے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ مخدوم شہاب الدین نے کہا کہ اس بجٹ میں پیش کردہ اعدادو شمار کے درست ہونے پر انہیں شک ہے۔ لاہور ایوان صنعت و تجارت کے وائس پریذیڈنٹ آفتاب وہرہ نے کہا کہ اس بجٹ سے افراط زر میں اضافہ ہوگا اور کاروباری طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔

بجٹ سے افراط زر میں اضافہ ہوگا

صوبہ سرحد کی سیاسی جماعتوں اور تاجر برادری نے بھی وفاقی حکومت کی طرف سے پیش کردہ بجٹ کو اعداد وشمار کا ہیر پھیر قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر غضنفر بلور نے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ نے جو بجٹ پیش کیا ہے وہ ایک سیاسی تقریر کے علاوہ کچھ نہیں۔ ان کا کہنا تھا اس بجٹ میں انڈسٹریز اور بزنس کمیونٹی کے لیے کچھ نہیں رکھا گیا ہے بلکہ بینک سے پیسے نکلوانے پر پہلے اعشاریہ ایک فیصد ٹیکس تھا اسے بڑھاکر دو فیصد کردیاگیاہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید تھی کے لوکل انڈسٹریز کے لیے اس بجٹ میں کچھ نہ کچھ رکھا جائے گا لیکن اس پر بھی مزید سیلز ٹیکس لگادیا گیا ہے جو مقامی تاجروں کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ تاہم غضنفر بلور نے تعلیم کے لیے مختلف مدوں میں رقوم مختص کرنے کو سراہا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد