BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 June, 2006, 18:23 GMT 23:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یہ اعدادوشمار کاگورکھ دھندا ہے‘

قاضی حسین احمد
قاضی حسین احمد نے کہا کہ بجٹ عام آدمی کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
پاکستان کی حزب مخالف کی جماعتوں نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ نئے مالی سال کے بجٹ کو اعداد وشمار کا گورکھ دھندا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک مایوس کن بجٹ ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، جماعت اسلامی اور جمیعت علماء اسلام (ف) کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ جس شرح سے ملک میں مہنگائی بڑھی ہے اس شرح سے نہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھی ہیں اور نہ ہی عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیئے مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔

قاضی حسین احمد نے بجٹ پیش کیے جانے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ امیروں کا بجٹ ہے اور عام آدمی کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے بجٹ کو اعداد و شمار کا ایک گورکھ دھندا قرار دیا اور کہا کہ صدر مشرف کے سات سالہ دور میں پینتالیس مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ غریب عوام معیاری تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے اور لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں۔

قاضی حسین احمد نے مختلف سوالات کے جواب میں کہا کہ فوجی جرنیل ملک کو لوٹ رہے ہیں اور کوئی ایسا کاروباری شعبہ نہیں جس میں جرنیل نہ گھسے ہوئے ہوں۔

اعتزاز احسن کے مطابق کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں ڈھائی سو گنا اضافہ ہوگیا ہے۔

پیپلزپارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے بجٹ کو مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ پندرہ فیصد تنخواہوں میں اضافہ سرکاری ملازمین کے ساتھ مذاق ہے کیونکہ ان کے بقول کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں ڈھائی سو گنا اضافہ ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوجی بجٹ میں اضافہ زیادہ کیا جاتا ہے لیکن اعداد و شمار کم بتائے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر آمدن بڑھ رہی ہے اور سرکاری خزانہ بھرا ہوا ہے تو پھر تعلیم اور صحت جیسے سماجی شعبوں کے لیے بجٹ میں معمولی اضافہ کیوں کیا گیا ہے۔

مولانا غفور حیدری، عمران خان، چودھری نثار علی خان نے بھی اِس بجٹ کو مایوس کن قرارد دیا ہے جبکہ وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب اور حکومت کے دیگر حامی حزب مخالف کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے اس بجٹ کو عوام دوست قرار دے رہے ہیں۔ عمر ایوب نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک بڑا بجٹ ہے جس میں عام آدمی کو ریلیف دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد