BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 June, 2006, 06:18 GMT 11:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پانچ ہزار کا نوٹ، ملا جلا ردِعمل

پانچ ہزار کا نوٹ
پانچ ہزار کے نوٹ سے تاجر برادری کو خصوصا فائدہ ہوگا
ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پانچ ہزار روپے کے نوٹ کے اجراء کے بعد سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ نئے نوٹوں کا اجراء موجودہ وقت کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کیا جا رہا ہے تاہم عوامی حلقوں میں اس اقدام پر ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔

پانچ ہزار روپے کے نوٹ کے علاوہ سٹیٹ بینک نے گزشتہ دنوں دس روپے کا نیا ہرے رنگ کا نوٹ بھی جاری کیا ہے۔ دونوں نوٹوں میں جدید ترین حفاظتی خصوصیات شامل کی گئی ہیں جن کی نقل تیار کرنا حکام کے مطابق ناممکن ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں عوام کا ایک بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے وہاں اکثریت کی تنخواہ یا ماہانہ آمدن چند ہزار روپے سے ذیادہ نہیں۔ ایسے میں پانچ ہزار روپے کا نوٹ بظاہر ایک مذاق دیکھائی دیتا ہے۔ لیکن سٹیٹ بینک حکام کا کہنا ہے کہ یہ موجودہ حالات کی ضرورت تھی۔

پشاور میں سٹیٹ بینک کے کرنسی افسر احسان اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تبدیلی عوام کی جانب سے بازار میں جعلی نوٹوں کی تعداد میں اضافے کی شکایات ملنے کے بعد لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

پانچ ہزار کے علاوہ دس روپے کا نیا نوٹ بھی جاری کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آج بھی ذیادہ تر کاروبار کا انحصار کیش پر ہوتا ہے۔ لہذا نئے پانچ ہزار کے نوٹ سے تاجر برادری کو خصوصاً فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’ اے ٹی ایم یا کریڈٹ کارڈ کلچر کے فروغ میں ابھی شاید مزید وقت لگے، تب تک نوٹوں کی اہمیت اپنی جگہ قائم ہے‘۔

حکام کو پانچ ہزار کا نوٹ جاری کرنے کی ضرورت شاید اس لیئے بھی محسوس ہوئی کہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی آ رہی ہے اور مہنگائی کی وجہ سے قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ایسے میں جب ایک ہزار روپے کا نوٹ بھی جاری ہوا تو کئی حلقوں نے اس پر حیرت کا اظہار کیا تھا تاہم اب وہ ایک ضرورت ہے۔

سٹیٹ بینک حکام کا دعوی ہے کہ نئے نوٹ یورپی کرنسی یورو کے مقابلے کے اور امریکی ڈالر سے زیادہ حفاظتی خصوصیات کے حامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان نوٹوں کو نابینا اشخاص بھی چھو کر پہچان سکیں گے۔

قائداعظم محمد علی جناح کی تصاویر کے علاوہ نئے دس روپے کے نوٹ پر باب خیبر جبکہ پانچ ہزار پر اسلام آباد کی فیصل مسجد کے عکس موجود ہیں۔ پرانے نوٹوں کے مقابلے میں نئے نوٹ چھوٹے بھی ہیں اور ان پر اجرا کا سال بھی تحریر ہے۔

نئے نوٹوں میں حفاظتی خصوصیات سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیئے سٹیٹ بنک نے تمام بینکوں کو پوسٹرز بھی فراہم کیئے ہیں۔

نئے نوٹ زیادہ حفاظتی خصوصیات کے حامل ہیں۔

نئے نوٹوں کے بارے میں پشاور کے چند شہریوں کی رائے جاننا چاہی گئی تو ان میں سے ایک محمد شہزاد کا کہنا تھا کہ یہ نوٹ کوئی زیادہ ’امپریس‘ کرنے والے ظاہر نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ’ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ درے (قبائلی علاقہ درہ آدم خیل) میں تیار ہوئے ہیں‘۔

ایک اور شہری عارف یوسفزئی کا کہنا تھا کہ’غریب آدمی سے اگر سو روپے کا نوٹ کھو جائے تو کافی دکھ ہوتا ہے اب اگر پانچ ہزار ایک ساتھ کھو گئے تو اس سے کئی گنا زیادہ دکھ ہوگا‘۔ تاہم ایک اور شہری کا ماننا تھا کہ اس نئے نوٹ سے تاجر برادری کو یقیناً فائدہ ہوگا جو اکثر بھاری رقم کے ساتھ دوسرے شہروں کا سفر کرتے ہیں۔

جعلی نوٹوں کے مسئلے پر قابو پانے کی کوششوں کے سلسلے میں اگلے مالی سال میں سٹیٹ بنک پچاس، سو، پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ بھی تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسی بارے میں
بیس روپے کا نوٹ کہاں گیا؟
24 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد