بیس روپے کا نوٹ کہاں گیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ویسے تو پاکستان میں میں نئے کرنسی نوٹوں کا کاروبار کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ نوٹوں کے ہار بنانے کی صنعت اپنے عروج پر ہے اور نئے نوٹوں کی گڈّیاں بینکوں سے براہِ راست ہار بنانے والوں کے پاس چلی جاتی ہیں لیکن بیس روپے کے نئے نوٹ کی تو عوام نے شکل بھی نہیں دیکھی اور وہ منظرِ عام پر آنے سے پہلے ہی غائب ہوگیا ہے۔ اِس روپوشی کی ایک واضح وجہ تو ماہِ رمضان کی آمد آمد ہے۔ یہی مہینہ ہے جب نئے نوٹوں کی طلب کئی گنا ہو جاتی ہے، کیونکہ سبھی لوگ عیدی کے طور پر نئے نوٹ دینا اور لینا پسند کرتے ہیں۔ عید سے کچھ عرصہ پہلے بینکوں میں نئی گڈّیوں کے لئے سفارشیں پہنچنا شروع ہو جاتی ہیں اور اپنے خاص گاہکوں کو خوش کرنے کے لئے بینک والے نئے نوٹوں کی گڈیاں مہیّا بھی کر دیتے ہیں۔ لیکن اِن نوٹوں کی زیادہ تعداد اُن ایجنٹوں کے ہاتھ لگتی ہے جِن کا یہ کُل وقتی پیشہ ہے۔ انھی پیشہ ور افراد کے باعث چالیس کروڑ مالیت کے وہ نئے نوٹ آج تک عوام کے ہاتھ نہیں لگ سکے جنہیں جاری ہوئے ڈیڑھ ماہ کا عرصہ ہو چُکا ہے۔
پاکستان میں پانچ روپے کا نوٹ بند ہو جانے کے بعد سب سے چھوٹا نوٹ دس روپے کا رہ گیا ہے اور کثرتِ استعمال کے باعث اس کی حالت بھی دِگر گوں ہے۔ چھوٹا دُکاندار، رکشے والا اور دیہاڑی دار مزدور آپکو جگہ جگہ اس بات پر کُڑھتا نظر آئے گا کہ اسے جو معاوضہ دیا گیا ہے اُس میں پھٹے پُرانے نوٹ شامل ہیں جنھیں آگے چلانا مشکل ہو جائے گا۔ اُدھر انارکلی میں کرنسی کا چھابا لگا کر بیٹھنے والوں کا کا کاروبار بھی ماند پڑ رہا ہے کیونکہ ایک روپے دو روپے اور پانچ روپے کے نوٹ تبدیل کرنے کا دھندا تو اسی وقت ختم ہو گیا تھا جب اس مالیت کے سکے بازار میں آگئے تھے۔ رہ گئی بڑے نوٹوں کی بات تو اس کا کاروبار براہِ راست سٹیسٹ بنک کے باہر ہورہا ہے اور ہائی کورٹ کے نواح میں گنگا رام بلڈنگ کے سامنے بے شمار ایجنٹ ( زنانہ اور مردانہ ) نئے نوٹ تبدیل کرانے کی پیشکش کے ساتھ گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ کام خدمتِ خلق کے طور پر نہیں ہو رہا بلکہ ہر گڈّی پر دس سے پندرہ فی صد کمیشن وصول کی جاتی ہے۔
ماہِ رمضان میں جب نوٹوں کے تبادلے کا یہ کاروبار زور پکڑے گا تو گرمیء بازار کا یہ سلسلہ محرم کے آغاز تک چلے گا۔ پاکستان میں یہ عرصہ شادیوں کا سیزن کہلاتا ہے اور اس میں دیگیں اور شامیانے مہیّا کرنے والوں کے ساتھ ساتھ نوٹوں کے ہار بنانے والوں کا کاروبار بھی چمک اُٹھتا ہے۔ افراطِ زر کی بڑھتی ہوئی شرح کے باعث دس روپے والے نوٹوں کا ہار تو اب غریب آدمی کی عیاشی شمار ہوتا ہے اور کھاتے پیتے گھرانوں کے لوگ بیس والے نوٹ سے کم کا ہار قبول نہیں کریں گے اس لئے بیس روپے کا نیا نوٹ عوام کی جیبوں تک پہنچے نہ پہنچے، ہار بنانے والوں تک بہر حال پہنچ جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||