حوالہ کاروبار، مبنی چینجرگرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منی لانڈرنگ اور حوالے کا کاروبار کرنے کے الزام میں کراچی کے علاقے نرسری سے ایک منی چینجر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پاکستان میں حوالے کے کاروبار پر پابندی ہے اور خاص طور پر گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد حکومت نے اس کاروبار پر سختی کردی ہے۔ کیونکہ حکومتی اطلاعات کے مطابق دہشتگرد حوالے کے ذریعے پیسوں کر لین دین کرتے تھے۔ ایف آئی اے کو اطلاع ملی تھی کہ کچھ لوگ منی چینجر کے نام پر حوالے کا کاروبار کر رہے ہیں۔ جس پر ایف آئی اے کے انسپیکٹر محمد علی ابڑو کی سربراہی میں ایک ٹیم نے منگل کی شام کوجوڈیشل میجسٹریٹ کے ساتھ میگا کرنسی ایکسچینج کمپنی پر چھاپہ مارا۔ انسپیکٹر ابڑو کے مطابق ایف آئی اے نے ایک جعلی گاہک کے ذریعے حوالے کا کام کرایا اور ملزم کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ ایف آئی اے نے کمپنی کا تمام رکارڈ اپنی تحویل میں لیکر اس کے ڈائریکٹر محمد ایوب چیمہ کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کمپنی پہلے چیمہ انٹرنیشنل کے نام سے کام کرتی تھی۔ ایف آئی اے کے مطابق کمپنی بیرون ملک خاص طور پر برطانیہ سے حوالے کے ذریعے رقم کی لین دین کا کام کرتی تھی۔ کمپنی کے نمائندے گاہک کو شناختی کارڈ کے ساتھ ایک کوڈ نمبر دیتے تھے جس کے ذریعے رقم وصول کی جاتی تھی۔ ایف آئی اے کارپوریٹ سرکل نے ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔ محمد علی ابڑو کے مطابق ایف آئی اے نے حوالے کے کاروبار کے سلسلے میں یہ پہلی کارروائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بعض دیگر کمپنیوں کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں کہ وہ منی چینجر کاروبار کے نام پر حوالے کا کاروبار کر رہی ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ مکمل چھان بین کے بعد ہی کارروائی کی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||