BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 June, 2005, 14:07 GMT 19:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حوالہ کاروبار، مبنی چینجرگرفتار

منی چینجر
یف آئی اے کا کہنا ہے کہ کچھ منی چینجر قانونی کاروبار کی آڑ میں حولے کا کاروبار بھی کرتے ہیں
منی لانڈرنگ اور حوالے کا کاروبار کرنے کے الزام میں کراچی کے علاقے نرسری سے ایک منی چینجر کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پاکستان میں حوالے کے کاروبار پر پابندی ہے اور خاص طور پر گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد حکومت نے اس کاروبار پر سختی کردی ہے۔ کیونکہ حکومتی اطلاعات کے مطابق دہشتگرد حوالے کے ذریعے پیسوں کر لین دین کرتے تھے۔

ایف آئی اے کو اطلاع ملی تھی کہ کچھ لوگ منی چینجر کے نام پر حوالے کا کاروبار کر رہے ہیں۔ جس پر ایف آئی اے کے انسپیکٹر محمد علی ابڑو کی سربراہی میں ایک ٹیم نے منگل کی شام کوجوڈیشل میجسٹریٹ کے ساتھ میگا کرنسی ایکسچینج کمپنی پر چھاپہ مارا۔

انسپیکٹر ابڑو کے مطابق ایف آئی اے نے ایک جعلی گاہک کے ذریعے حوالے کا کام کرایا اور ملزم کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ ایف آئی اے نے کمپنی کا تمام رکارڈ اپنی تحویل میں لیکر اس کے ڈائریکٹر محمد ایوب چیمہ کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کمپنی پہلے چیمہ انٹرنیشنل کے نام سے کام کرتی تھی۔

ایف آئی اے کے مطابق کمپنی بیرون ملک خاص طور پر برطانیہ سے حوالے کے ذریعے رقم کی لین دین کا کام کرتی تھی۔ کمپنی کے نمائندے گاہک کو شناختی کارڈ کے ساتھ ایک کوڈ نمبر دیتے تھے جس کے ذریعے رقم وصول کی جاتی تھی۔

ایف آئی اے کارپوریٹ سرکل نے ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔
ایف آئی اے کے ذرائع کا کہنا ہے چھاپے میں بڑی مقدار میں کرنسی اور شناختی کارڈ برآمد ہوئے ہیں جنہیں سیل کردیا گیا ہے۔ کمپنی کے ریکارڈ کی روشنی میں لاہور اور دیگر شہروں سے بھی گرفتاریاں متوقع ہیں۔

محمد علی ابڑو کے مطابق ایف آئی اے نے حوالے کے کاروبار کے سلسلے میں یہ پہلی کارروائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بعض دیگر کمپنیوں کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں کہ وہ منی چینجر کاروبار کے نام پر حوالے کا کاروبار کر رہی ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ مکمل چھان بین کے بعد ہی کارروائی کی جائے گی۔

665 کروڑ کہاں گئے؟
’ہمیں کچھ نہیں ملا‘: سرداروں کا شکوہ
66فضل الرحمٰن کی اپیل
’علما پیسہ دیکھ کر منہ میں پانی نہ آنے دیں‘
66اطلاع پرپچیس لاکھ
اعظم طارق کے قاتلوں کے بارے میں اطلاع پر انعام
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد