BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 June, 2005, 05:43 GMT 10:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خوشی اور داد کا طریقہ اظہار تبدیل

News image
نوٹوں کا خوشیوں اور عید سے بھی گہرا تعلق رہا ہے
پاکستاں میں تیس جون کے بعد پانچ روپے کے نوٹ کا استعمال بند ہوجائےگا اور بینک دولت پاکستاں نے ملک کے تمام بینکوں کو اس فیصلے سے مطلع کردیا ہے۔

پانچ روپے کا نوٹ بند ہو جانے سے شادی بیاہ، عید اور خوشی کے دیگر مواقع پر عقیدت اور داد دینے کے علامتی اظہار میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان وسیم خان نے بتایا کہ پانچ کا نوٹ دو جولائی انیس سو چھہتر کو متعارف کروایا گیا تھا۔ گذشتہ سال جولائی سے پانچ روپے کے نئے نوٹوں کا اجرا بند کر کے اس کی جگہ پر پانچ روپے کا سکہ جاری کردیا گیا ہے۔

وسیم خان کا کہنا ہےکہ اکیس مئی تک پانچ روپے کے دو ارب نوٹ مارکیٹ میں موجود تھے جس میں سے ایک عشاریہ چھ بلین واپس ہو چکے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ نوٹ پر لاگت زیادہ آتی ہے اور یہ تین ماہ میں خراب ہوجاتا ہے، اس کی عمر زیادہ نہیں ہوتی۔ جبکہ سکہ تیس سال چلتا ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ اے ٹی ایم مشین سے سکے حاصل نہیں کیے جا سکتے، وہاں سے صرف نوٹ جاری ہوسکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ میں دس روپے کا بھی سکہ متعارف کرایا جائیگا۔

چھوٹے کرنسی نوٹ ختم ہونے سے نوٹوں کے ہار بنانے والے اور شادی بیاہ دیگر تقریبات میں نوٹ نچھاور کرنے والے خاصے متاثر ہوں گے۔ ان ہاروں میں ایک، دو اور پانچ روپے کے نوٹ استعمال کیے جاتے تھے۔ کراچی کے علاقے صدر میں ہار بیچنے والے ایک دکاندار عقیل نے افسردگی سے کہا کہ پہلے ایک اور دوروپے والے نوٹ ختم کیے گئے، اب پانچ والے نوٹ ختم ہونے سے ہار میں بڑے نوٹ لگانے پڑیں گے جس سے یہ ہار مہنگا ہوجائے گا۔

اس سوال پر کہ اگر دس روپےکا بھی سکہ آگیا تو، انہوں نے کہا کہ پھر ہمیں اور کوئی کام کرنا پڑیگا کیونکہ پچاس اور سو والے نوٹ ہار میں ایک دو ہی لگتے ہیں باقی چھوٹے نوٹ لگائے جاتے ہیں، بڑے نوٹ لگانے سے ہار مہنگا ہوجائیگا، اسے کون خریدے گا؟

بس میں سفر کرنے والے ایک طالبعلم شہزاد کا کہنا تھا کہ ان سکوں کی وجہ سے جیب بوچھل ہو جاتی ہے۔ نوٹوں کا اتنا وزن نہیں ہوتا۔ ابھی اگر جیب میں پندرہ روپے بھی ہوں تو کھنکتے رہتے ہیں، جس سے پریشانی ہوتی ہے۔

نوٹوں کا خوشیوں اور عید سے بھی تعلق رہا ہے۔ عید پر عیدی کے لیے بنکوں سے خاص طور پر نئے نوٹ لیے جاتے تھے جسے پا کر بچے خوش ہو جاتے تھے۔ شادیوں اور دیگر تقریبات میں نوٹ نچھاور کیےجاتے تھے، لگتا ہے کہ یہ سلسلہ اب خاصا کم ہو جائے گا۔

ملیر سے تعلق رکھنے والے محمد اقبال نے بتایا کہ اب لوگ شادی اور خوشی کی دیگر تقاریب میں ہار کے بجائے نقد رقم لکھوانے کو ترجیح دے رہے ہیں یوں دولہے کو اب کم ہار پڑتے ہیں، اور ہار پہنانے کا رواج ختم ہو رہا ہے۔

مقامی گلوکار امام بخش شادی وغیرہ کی تقریبات میں اپنے فن کا مظاہرہ کرکے روزی کماتے ہیں، انہوں نے کہا کہ نوٹوں کی عدم دستیابی کا اثر شادی اور دیگر تقریبات میں گانے بجانے والوں کا بھی روزگار متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ دس روپے کا نوٹ جیب سے نکالنے میں دقت محسوس کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد