| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
قصہ خوانی میں دینار کی بھرمار
عراق سے ہزاروں میل دور اور بظاہر کوئی زیادہ تجارتی روابط نہ ہونے کے باوجود بڑی مقدار میں نئے عراقی دینار پاکستان کا رخ کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ ماہرین کے مطابق سٹے بازی ہے۔ آسان اور جلد منافع کی توقع میں لوگ اربوں عراقی دینار خرید رہے ہیں۔ صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے تاریخی اور معاشی مرکز قصہ خوانی بازار میں آج کل پھر ہلکی پھلکی سرگرمیاں دیکھنے کو مل رہیں ہیں۔ اس مرتبہ توجہ کا مرکز ہمسایہ ملک افغانستان کی کرنسی ’افغانی‘ نہیں بلکہ ہزاروں میل دور واقع عراق کا سکۂ رائج الوقت ’دینار‘ ہے۔ صرافہ بازار کے تاجروں کا کہنا ہے کہ اب تک تقریباً دس ارب دینار صرف پشاور کے اس چھوٹے سے بازار میں گردش کر رہے ہیں۔ اس کاروبار کی نوعیت کے بارے میں میں نے مقامی کرنسی ڈیلروں کی انجمن کے ایک عہدیدار شکیل احمد خان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ کرنسی بنیادی طور پر سٹے بازی کے لئے منگوائی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’یہ کرنسی سڑک کے راستے ایران اور افغانستان کے علاوہ دوبئی سے بھی پاکستان لائی جا رہی ہے۔لوگوں کا خیال ہے کہ افغانستان کی طرح امریکہ کے عراق پر قبضے کی وجہ سے اس کی قدر میں اضافہ ضرور ہوگا۔‘ پشاور کے کرنسی بازار میں اس وقت دس، پچیس اور پانچ ہزار کے دینار نوٹ دستیاب ہیں۔ ماضی میں سابق صدر صدام حسین کی تصاویر والی عراقی کرنسی رکھنے والے کئی تاجروں نے بری طرح نقصان بھی اٹھایا۔ لیکن پھر بھی امریکہ کی متعارف کروائی ہوئی نئی کرنسی ہاتھوں ہاتھ بک رہی ہے۔ اس بازار میں گزشتہ سولہ برس سے مختلف کرنسیوں کے اتار چڑھاؤ کا مشاہدہ کرنے والے بشیر احمد کا کہنا تھا: ’مختلف قسم کے لوگ اس کا کاروبار کر رہے ہیں۔ اب دوبارہ چوک یادگار کی رونقیں واپس لوٹ رہی ہیں۔‘ انہوں نے بتایا کے سرکاری اہلکاروں کے علاوہ فوجی اور صنعت کار بھی بڑی تعداد میں اس کرنسی پر بھروسہ کر رہے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر پشاور کے اس کرنسی بازار میں سٹے بازی عروج پر ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ کتنے لاکھوں کماتے اور کتنے ڈوبتے ہیں۔ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی سے نئی افغانی کو جو طاقت مل رہی ہے تاجر اُمید کر رہے ہیں کہ وہی حال شاید عراقی دینار کا بھی ہو۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||