دفاعی بجٹ میں 27 ارب کا اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال برائے سن دو ہزار چھ اور سات میں دفاعی بجٹ کے لیئے دو کھرب پچاس ارب اٹھارہ کروڑ بیس لاکھ روپے مختص کیئے ہیں۔ دفاع کا بجٹ رواں سال کے لیئے مختص کردہ رقم دو سو تئیس ارب پچاس کروڑ دس لاکھ روپوں کی نسبت گیارہ فیصد زیادہ ہے لیکن رواں ماہ کی تیس تاریخ کو ختم ہونے والے اس مالی سال کے دوران فوج نے دفاع کے لیئے مختص رقم سے سترہ ارب چھپن کروڑ بیس لاکھ روپے زیادہ استعمال کیئے ہیں۔ دفاعی بجٹ میں ریٹائرڈ فوجیوں کی پنشن کی مد میں دی جانے والی پینتیس ارب روپے سے زیادہ کی رقم شامل نہیں ہے کیونکہ حکومت نےگزشتہ برسوں سے اس رقم کو شہری حکومت کے اخراجات کی مد میں ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے اور اس بارے میں دفاعی مبصرین کہتے ہیں کہ اس کا مقصد دنیا کو دفاعی بجٹ کی رقم کم دکھانا ہے۔ کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ حکومت ہر سال دفاعی بجٹ کم دکھانے کے لیئے اس میں دس سے بارہ فیصد اضافہ کرتی ہے لیکن مالی سال ختم ہونے کے بعد ’نظرثانی شدہ‘ دفاعی بجٹ کے اعداد و شمار مختص کردہ رقم سے ہمیشہ زیادہ ہی سامنے آتے ہیں۔ دفاع کے لیئے مختص رقم کے بارے میں حکومت نے بتایا کہ دفاعی انتظامیہ کے لیئے نئے مالی سال میں ایک ارب چورانوے کروڑ نوے لاکھ روپے مختص کیئے گئے ہیں جبکہ باقی رقم دفاعی خدمات کی مد میں خرچ ہوگی۔ رواں مالی سال میں دفاعی انتظامیہ کی مد میں تنتالیس کروڑ روپے مانگے گئے تھے اور اس مد میں اخراجات اڑتالیس کروڑ ساٹھ لاکھ روپے کیئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ تعلیم اور صحت کے بجٹ میں کیا جانے والا اضافہ روپوں کے اعتبار سے دفاع کے بجٹ سے بہت کم ہے۔ | اسی بارے میں پندرہ فیصد مہنگائی کے، گیارہ فیصد دفاع کے05 June, 2006 | پاکستان بجٹ اجلاس: ایوان میں کیا ہوا؟05 June, 2006 | پاکستان نئے مالی سال کا بجٹ: آپ کیا کہتے ہیں05 June, 2006 | پاکستان بجٹ میں عوام کو کیا ملا؟05 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||