BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 June, 2006, 16:41 GMT 21:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک خط: بجٹ سے ’مہنگائی آوے ہی آوے‘

بجٹ کا غریب آدمی کے لیے کیا مطلب؟
آج کل حکومت کا دالوں کی قیمتیں کم کرنے پر زور ہے اور مختلف دالیں چھتیس سے اٹھاون روپے فی کلو گرام یوٹیلیٹی سٹورز پر فروخت کرنے کے دعوے ہورہے ہیں۔ لیکن کیا پاکستان کے غریب کا مسئلہ صرف دال ہے؟ ’جناب اور بھی غم ہیں زمانے میں دال کے سوا۔‘

یہ بات اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی کے رہائشی ثناء اللہ بھٹہ نامی شخص نے بی بی سی کو بھیجے گئے خط میں لکھی ہے اور حکمرانوں کی توجہ مبذول کراتے ہوئے مزید لکھتے ہیں کہ ’جناب آپ ساڑھے چار ہزار روپے ماہانہ آمدن والے غریب کا بجٹ بنا کر دکھائیں اور گول مول باتوں سے نہ ٹرخائیں۔‘

وہ پوچھتے ہیں کہ ایک غریب آدمی، اس کی بیوی، تین بچے اور دو بوڑھے والدین یعنی سات افراد پر مشتمل ایک خاندان ساڑھے چار ہزار میں کیسے گزارا کرسکتا ہے؟

انہوں نے خط میں نیچے ضروری اشیاء کی فہرست بھی دی ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ مکان کا کرایہ، بجلی، گیس اور پانی کا بل، بچوں کے سکول کی فیس، بچوں کے کپڑے جوتے، علاج معالجے، خوشی غمی، دفتر آنے جانے کے اخراجات اور پورے مہینے کا سودا سلف کتنے میں ملتا ہے۔

خط سے اقتباس
 میں نے ایک اخبار میں خبر پڑھی کہ چترال کے غریب نے اپنی بیٹی سات سو روپوں میں بیچ دی اور دوسری طرف یہ خبر بھی پڑھی کہ سینیٹ کے چیئرمین نے ایک کروڑ دس لاکھ روپے کی مرسیڈیز گاڑی خرید رہے ہیں۔
انہوں نے لکھا ہے کہ ساڑھے چار ہزار روپے ماہانہ کمانے والے شخص کے اہل خانہ کو گوشت، پھل، دودھ، دہی کھانے کا کوئی حق نہیں ہے لیکن کپڑے دھونے کا صابن اور سرف کے اخراجات ملا کر حکومت اس کا بجٹ بنادے تو حقائق سامنے آجائیں گے۔

ثناء اللہ نے اپنے خط میں مرحوم وزیراعظم محمد خان جونیجو کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے بڑی گاڑیوں کے استعمال پر پابندی لگائی لیکن اب دوبارہ وہ چونچلے شروع ہیں۔

’میں نے ایک اخبار میں خبر پڑھی کہ چترال کے غریب نے اپنی بیٹی سات سو روپوں میں بیچ دی اور دوسری طرف یہ خبر بھی پڑھی کہ سینیٹ کے چیئرمین نے ایک کروڑ دس لاکھ روپے کی مرسیڈیز گاڑی خرید رہے ہیں۔‘

انہوں نے بیت المال سے غریبوں کی مدد کو سراہا ہے اور کہتے ہیں کہ تعلیم کا بجٹ فوج سے زیادہ ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے لیے حکومت نے بجٹ پیش کردیا ہے جو اب قومی اسمبلی سے منظوری کے مراحل میں ہے۔ حکمران نئے بجٹ کو عوام دوست قرار دے رہے ہیں اور حزب مخالف والے اُسے عوام دشمن کہتے ہیں۔

لیکن ثناء اللہ کہتے ہیں کہ حکومت نے توڑ موڑ کر بہت ٹیکس لگائے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس بجٹ سے بس ’مہنگائی آوے ہی آوے‘۔

گل میر خانقرضوں پر گزارہ
گریڈ نو کے ایک سرکاری ملازم کا بجٹ
دلاور مسیحایک خاکروب کا بجٹ
مشکل سے چار ہزار روپے مہینے پر گزارہ
بجٹعوام کو کیا ملا؟
بجٹ:تنخواہ دار طبقے کے لیئے ناپ تول کر رعایتیں
دفاعی بجٹ بڑھ گیا
دفاع کے لیئے مزید 27 ارب روپے مختص
 قومی اسمبلی اے کی گل اے؟
پنجاب کے ایم این ایز کی جرنیلوں پر تنقید
اسی بارے میں
مہنگائی کی نئی لہر
02 July, 2005 | پاکستان
سینیٹ میں مہنگائی پر بحث
07 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد