ایک خط: بجٹ سے ’مہنگائی آوے ہی آوے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج کل حکومت کا دالوں کی قیمتیں کم کرنے پر زور ہے اور مختلف دالیں چھتیس سے اٹھاون روپے فی کلو گرام یوٹیلیٹی سٹورز پر فروخت کرنے کے دعوے ہورہے ہیں۔ لیکن کیا پاکستان کے غریب کا مسئلہ صرف دال ہے؟ ’جناب اور بھی غم ہیں زمانے میں دال کے سوا۔‘ یہ بات اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی کے رہائشی ثناء اللہ بھٹہ نامی شخص نے بی بی سی کو بھیجے گئے خط میں لکھی ہے اور حکمرانوں کی توجہ مبذول کراتے ہوئے مزید لکھتے ہیں کہ ’جناب آپ ساڑھے چار ہزار روپے ماہانہ آمدن والے غریب کا بجٹ بنا کر دکھائیں اور گول مول باتوں سے نہ ٹرخائیں۔‘ وہ پوچھتے ہیں کہ ایک غریب آدمی، اس کی بیوی، تین بچے اور دو بوڑھے والدین یعنی سات افراد پر مشتمل ایک خاندان ساڑھے چار ہزار میں کیسے گزارا کرسکتا ہے؟ انہوں نے خط میں نیچے ضروری اشیاء کی فہرست بھی دی ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ مکان کا کرایہ، بجلی، گیس اور پانی کا بل، بچوں کے سکول کی فیس، بچوں کے کپڑے جوتے، علاج معالجے، خوشی غمی، دفتر آنے جانے کے اخراجات اور پورے مہینے کا سودا سلف کتنے میں ملتا ہے۔
ثناء اللہ نے اپنے خط میں مرحوم وزیراعظم محمد خان جونیجو کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے بڑی گاڑیوں کے استعمال پر پابندی لگائی لیکن اب دوبارہ وہ چونچلے شروع ہیں۔ ’میں نے ایک اخبار میں خبر پڑھی کہ چترال کے غریب نے اپنی بیٹی سات سو روپوں میں بیچ دی اور دوسری طرف یہ خبر بھی پڑھی کہ سینیٹ کے چیئرمین نے ایک کروڑ دس لاکھ روپے کی مرسیڈیز گاڑی خرید رہے ہیں۔‘ انہوں نے بیت المال سے غریبوں کی مدد کو سراہا ہے اور کہتے ہیں کہ تعلیم کا بجٹ فوج سے زیادہ ہونا چاہیے۔ واضح رہے کہ یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے لیے حکومت نے بجٹ پیش کردیا ہے جو اب قومی اسمبلی سے منظوری کے مراحل میں ہے۔ حکمران نئے بجٹ کو عوام دوست قرار دے رہے ہیں اور حزب مخالف والے اُسے عوام دشمن کہتے ہیں۔ لیکن ثناء اللہ کہتے ہیں کہ حکومت نے توڑ موڑ کر بہت ٹیکس لگائے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس بجٹ سے بس ’مہنگائی آوے ہی آوے‘۔ |
اسی بارے میں پندرہ فیصد مہنگائی کے، گیارہ فیصد دفاع کے05 June, 2006 | پاکستان مہنگائی کی نئی لہر02 July, 2005 | پاکستان سینیٹ میں مہنگائی پر بحث07 February, 2005 | پاکستان سات برس: افراطِ زر میں سو فیصد اضافہ24 May, 2005 | پاکستان اسلام آباد: مہنگائی کاایک اور ریکارڈ12 March, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||