BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 June, 2006, 10:59 GMT 15:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بجٹ: پچیس ارب کے ٹیکس

عمر ایوب
وزیرِ مملکت برائے خزانہ عمر ایوب بجٹ پیش کر رہے ہیں
پاکستان حکومت نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال میں جہاں اٹھارہ ارب روپے کی مراعات کا اعلان کیا ہے وہاں پچیس ارب روپے کے نئے ٹیکس بھی لگائے ہیں۔

یہ بات منگل کے روز بجٹ کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے ٹیکس جمع کرنے والے ادارے سینٹرل بورڈ آف ریوینیو (سی بی آر) کے چیئرمین عبداللہ یوسف نے بتائی۔ ان کے مطابق نئے ٹیکسوں میں سے اگر مراعات کی رقم منہا کی جائے تو نئے ٹیکسوں سے کل آمدن آٹھ ارب روپے ہوگی۔

بجٹ کے متعلق وضاحتی بریفنگ وزیراعظم کے مشیر برائے مالیات ڈاکٹر سلمان شاہ نے دی جبکہ مملکتی وزیر برائے خزانہ عمر ایوب اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر شاہ نے بتایا کہ حکومت نے جو مراعات دی ہیں اس کے مطابق زرعی، طبی اور تعمیرات کے شعبوں میں استعمال ہونے والی بعض مخصوص مشینری اور آلات درآمد کرنے پر ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے جبکہ بیرون ملک سفر، کمپیوٹر ہارڈویئر، رئیل سٹیٹ، جائیداد سے وصول ہونے والے کرائے، بینکوں کی سہولیات، سٹاک مارکیٹ میں حصص کے کاروبار اور سگریٹ پر مزید ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ حکومت نے حاضر سروس سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں یکم جولائی سے پندرہ فیصد اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب نے بجٹ تقریر میں کہا ہے کہ اکتیس مارچ انیس سو ستتر تک ریٹائر ہونے والے ملازمین کے پینشن میں بیس فیصد جبکہ اس کے بعد ریٹائر ہونے والوں کے پینشن میں پندرہ فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

جب ڈاکٹر سلمان شاہ سے پوچھا گیا کہ بیس فیصد کا فائدہ حاصل کرنے والے پنشنرز کی عمر نوے برس ہو چکی ہے اور ملک میں کتنے ایسے افراد ہوں گے تو انہوں نے کہا کہ فوجی ساٹھ سال کی عمر سے پہلے بھی ریٹائر ہوتے ہیں اس لیے بیس فیصد پینشن میں اضافے کا فائدہ حاصل کرنے والے کی ضروری نہیں کہ عمر نوے برس ہو۔

اُس پر ان سے تیز و تند سوالات ہوئے کہ کیا آپ نے یہ فیصلہ صرف ریٹایرڈ فوجیوں کو فائدہ دینے کے لیئے کیا ہے تو واضح جواب نہیں دے پائے۔

بجٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ دوران ملازمت وفات پاجانے والے ملازم کے ورثا کو دو لاکھ سے دس لاکھ روپے فوری گرانٹ ان کے گریڈ کے اعتبار سے دی جائے گی۔ وفات پانے والے ملازم کے اہل خانہ سرکاری مکان پانچ برس تک رکھ پائیں گے اور ان کے گھرانے کے ایک فرد کو گریڈ ایک سے پندرہ تک کنٹریکٹ پر ملازمت دی جائے گی۔ سرکاری پلاٹوں میں ایسے افراد کے اہل خانہ کے لیئے دو فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہلاک ہوجانے والے ملازمین کا پیکیج مختلف ہوگا اور اس کا تعین ان کی ’قربانی‘ کے مطابق ہوگا۔

حاضر سروس سرکاری ملازمین کے تنخواہوں میں یکم جولائی سے پندرہ فیصد اضافے کا اعلان۔

حکومت نے نئے بجٹ میں سرکاری ڈرائیوروں اور ’ڈسپیچ رائیڈرز، کے ’اوور ٹائم، اور گریڈ ایک سے سولہ تک کے ملازمین کے آمد و رفت کے الاؤنس میں پچاس فیصد اضافہ کیا ہے۔ انیس سو چھہتر کے ’اولڈ ایج بینیفٹ‘ کے قانون کے تحت پنشن پانے والوں کی ماہانہ پینشن حکومت نے ایک ہزار روپے سے بڑھا کر تیرہ سو روپے کر دی ہے۔

ورکرز ویلفیئر فنڈ سے بیٹی کی شادی کے لیئے ورکرز کو ملنے والی گرانٹ تیس ہزار روپے سے بڑھا کر پچاس ہزار روپے کی گئی ہے۔ جبکہ کارکنوں کی موت کی صورت میں امداد ڈیڑھ لاکھ سے بڑھا کر دو لاکھ روپے کی گئی ہے۔

صنعتی کارکنوں کے بچوں کے وظیفے میں دو سو روپے اضافہ کیا گیا ہے اور انہیں ملنے والے منافع کو چھ ہزار روپوں سے دوگنا کیا گیا ہے جبکہ کم از کم غیر ہنر مند افراد کا ماہانہ معاوضہ چار ہزار روپے مقرر کیا ہے۔ اس بارے میں کچھ ناقدین کہتے ہیں کہ پاکستان میں ’اولڈ ایج بینیفٹ‘ کے قانون کے تحت بیشتر صنعتکار اپنے ملازمین کا ٹیکس بچانے کی خاطر اندارج ہی نہیں کراتے اس لیئے صنعتی کارکنان کو فائدہ صرف ایک حد تک ہوسکے گا۔ اساتذہ کے لیئے تعلیمی اسناد کی بنیاد پر پانچ سو روپے، سات سو روپے اور ایک ہزار روپے ماہانہ الاؤنس دیا جائے گا۔ بجٹ میں انعامی بانڈز کی شرح منافع میں صفر اعشاریہ پانچ فیصد سے ایک اعشاریہ پانچ فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔

حکومت نے تنخواہ دار مردوں کے لیئے ٹیکس سے مستثنیٰ آمدن کی حد ایک لاکھ سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے کی ہے جبکہ خواتین کی آمدن دو لاکھ روپے تک ٹیکس سے مستشنیٰ ہوگی۔ نئے بجٹ میں انکم ٹیکس کی شرح تو کم کی گئی ہے لیکن گھر کے کرائے اور طبی الاؤنس سمیت جو متعدد الاؤنس ٹیکس سے مستثنیٰ تھے ان پر چھوٹ ختم کردی گئی ہے اور اب مجموعی آمدن پر صفر اعشاریہ دو فیصد سے بیس فیصد تک آمدن ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ سینیئر شہریوں کے لیئے عمر کی حد پینسٹھ کے بجائے ساٹھ برس کر دی گئی ہے اور ان کی چار لاکھ تک سالانہ آمدن ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی۔

عمر ایوب نے بجٹ تقریر میں کہا کہ حکومت دالوں کی قیمت کم کرنے کے لیئے ڈھائی ارب روپوں کی سبسڈی دے گی اور چھ جون سے ملک بھر کے یوٹیلٹی سٹورز پر دالوں کی کم قیمت پر فروخت شروع ہوگی۔ ان کے مطابق حکومت نے تحصیل سطح تک کم از کم ایک یوٹیلٹی سٹور کھولنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

جب ان سے منگل کے روز بریفنگ میں پوچھا کہ حکومت حالیہ چینی کے بحران پر سبسڈی دینے کے باوجود بھی قابو نہیں کر پائی اور عوام پر چالیس ارب روپوں کا اضافی بوجھ پڑا تو اب دالوں کی قیمت پر سبسڈی سے قیمت کیسے کنٹرول ہوگی تو ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ حکومت نے اس بارے میں مربوط لائحہ عمل مرتب کیا ہے۔

جب ان سے ایک صحافی نے پوچھا کہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے الیکشن کمیشن کے دس برس پرانے گوشواروں پر مقدمہ بنایا جاتا ہے تو ’چینی چور وزراء، کے خلاف کیوں کارروائی نہیں ہوتی تو اس پر وہ جواب ٹال گئے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت برڈ فلو کی وجہ سے پولٹری کی صنعت کو ہونے والے نقصان سے بحالی کے لیئے ایک ارب روپے خرچ کرے گی اور ڈیری کی پیداوار کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ ساٹھ کروڑ روپوں کی لاگت سے ’پاکستان ڈیری ڈیولپمینٹ بورڈ، قائم کیا جا رہا ہے جو نجی کمپنیوں کو مال مویشیوں کی افزائش کے لیئے فارم قائم کرے گا۔ ان کے مطابق حکومت کسانوں کو نئے مالی سال میں سستی کھاد فراہم کی خاطر ساڑھے بارہ ارب روپے کی سبسڈی دے گی۔

جب ان سے پوچھا کہ جائیداد سے حاصل ہونے والے کرایہ پر پانچ فیصد مقررہ ٹیکس اور ’رییل سٹیٹ، پر دو فیصد ’کیپیٹل ویلیو ٹیکس لگے گا اور کیبل ٹی وی آپریٹرز سے فی کنیکشن پچیس روپے حکومت ٹیکس لے گی تو کیا اس سے عام آدمی پر بوجھ نہیں بڑھے گا تو عبداللہ یوسف نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد کرائے کم کرنا اور وہ سیکٹر جو ٹیکس کے دائرے میں نہیں تھے انہیں ٹیکس کے جال میں لانا ہے۔

بینکوں سے ایک دن میں پچیس ہزار روپوں سے زیادہ رقم نکلوانے پر عائد ٹیکس کی شرح صفر اعشاریہ ایک فیصد کو دوگنا کیا جارہا ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں حصص بیچنے والے کو دوگنا ٹیکس یعنی 0.01 فیصد ادا کرنے ہوں گے۔ اس سے علاوہ سروسز سیکٹر پر چھ فیصد ’ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

دفاعی بجٹ بڑھ گیا
دفاع کے لیئے مزید 27 ارب روپے مختص
اخباراتکوریج مثبت رہی
زیادہ اخبارات نے مثبت پہلؤوں کو اجاگر کیا
اقتصادی سروے
ایک لاکھ سکول بنیادی سہولیات سے محروم
صنعتکارتوقع پوری نہیں ہوئی
صنعتکار اور تاجر بجٹ سے مطمئن نہیں
بجٹآپ کیا کہتے ہیں
بجٹ، آپ کی جیب اور باورچی خانہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد