BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 May, 2006, 17:11 GMT 22:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: گورنر سے توقعات و چیلنج

سابق کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ علی جان اورکزئی
سابق کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ علی جان اورکزئی جنہیں صوبہ سرحد کا گورنر مقرر کیا گیا ہے
سابق گورنر سرحد خلیل الرحمان کی جگہ ان کی نسبت کئی گنا زیادہ سخت گیر طعبیت کے مالک سابق کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ علی جان اورکزئی کی تعیناتی کو کئی حلقے قبائلی علاقوں میں فوج کی گرفت مزید مضبوط کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

علی جان اورکزئی ہی سن دو ہزار دو میں کور کمانڈر پشاور تھے اور انہوں نے ہی قبائلی علاقوں میں پہلی مرتبہ فوج تعینات کی تھی۔ اس وقت وہ قبائلی علاقوں میں القاعدہ یا طالبان کی موجودگی سے انکار کرتے رہے لیکن بعد میں وہاں جو کچھ ہوا سب کو معلوم ہے۔

اس نئی تعیناتی سے ایک تاثر یہ بھی ملتا ہے کہ شاید حکومت اب بھی وزیرستان کا مسئلہ بات چیت سے زیادہ فوجی طریقے سے حاصل کرنے کی خواہش مند ہے۔ حکومت نے اس تاثر کی نفی کی ہے۔ تاہم تجزیہ نگاروں کے مطابق کسی بہترین فوجی کی جگہ اگر کسی اچھے سویلین کو اس کلیدی عہدے پر تعینات کیا جاتا تو شاید قبائلیوں سے بات چیت آسان ہو جاتی۔

ایک ایسے وقت جب وزیرستان میں شدت پسند اور ان کے حامی قبائلی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کر رہے ہیں، ایک سابق فوجی کی تعیناتی سے شاید مذاکرات کے دروازے اتنی آسانی سے نہ کُھل سکیں جتنے کسی سویلین کے آنے سے کُھل سکتے تھے۔

امن و عامہ اور طالبان
 شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان اس وقت حکومت سے نہ تو خود بات چیت کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے قبائلی سردار کو ایسا کرنے کی اجازت دینا چاہتے ہیں

وزیرستان میں امن و عامہ کی بحالی ان کے لیئے سب سے بڑا چیلنج ہوگی۔ شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان اس وقت حکومت سے نہ تو خود بات چیت کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے قبائلی سردار کو ایسا کرنے کی اجازت دینا چاہتے ہیں۔

قبائلی علاقوں میں پہلے ہی مقامی انتظامیہ فوج کے سامنے مفلوج دکھائی دیتی ہے۔ پولیٹکل ایجنٹ صرف سرکاری تقریبات میں دکھائی دیتے ہیں جب کہ کسی موضوع پر ذرائع ابلاغ سے بات کرنے یا کوئی ’آزاد‘ فیصلہ لینے کی حالت میں دکھائی نہیں دیتے۔

دوسری طرف فوج صرف اپنے قلعوں اور چوکیوں تک محدود ہے۔ ان کے لیئے نقل و حرکت تقریباً ناممکن ہے۔ عام قبائلی تو پہلے ہی خوف و ہراس کی فضا میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے میں علی جان مقامی انتظامیہ کو فعال بنا سکیں گے یہ ایک اہم سوال ہے۔

تاہم نئے گورنر کا ایک اہم ہتھیار ان کا قبائلی ہونا ہے۔ قبائلی علاقے اورکزئی سے تعلق رکھنے والے علی جان مقامی رسم و رواج سے بخوبی آگاہ ہیں۔ وہ کور کمانڈر پشاور رہنے کی وجہ سے یہاں کے قبائلیوں سے بھی واقف ہیں۔ ایک پٹھان ہونے کے ناطے انہیں قبائلیوں کے سامنے اپنا موقف رکھنے میں انہیں کوئی بڑی دقت پیش نہیں آنی چاہیئے۔

علی جان اورکزئی کسی بھی قبائلی کی طرح اپنے علاقے کے وسائل اور اہمیت سے آگاہ ہیں۔ سن دو ہزار دو میں ان کے ساتھ فوجی ہیلی کاپٹر میں قبائلی علاقوں کا دورہ کرنے کا ایک موقعہ ملا تو انہوں نے خصوصاً ہیلی کاپٹر کا رخ اپنی سرسبز اورکزئی ایجنسی موڑا اور اس کے اوپر کئی چکر لگائے۔ بعد میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ علاقے سیاحت، معدنیات غرض ہر قسم کے قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں صرف مسئلہ انہیں استعمال میں لانا ہے۔ یقین کیا جاسکتا ہے کہ اب وہ بطور گورنر ان وسائل کو وہاں کی پسماندہ آبادی کی ترقی کے لیئے استعمال میں لانے کی کوشش کریں گے۔

نئے گورنر کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے ماضی میں امریکی حکام سے تعلقات اچھے نہیں رہے۔ اس کی وجہ ان کا امریکی فوج کی دعوت پر وہاں کے دورے کے دوران ہوائی اڈوں پر سخت تلاشی تھی۔ اس پر ناراض ہوکر انہوں نے مستقبل میں کبھی بھی امریکہ نہ جانے کا اعلان کیا تھا۔

نئے گورنر کا اہم ہتھیار
 قبائلی علاقے اورکزئی سے تعلق رکھنے والے علی جان مقامی رسم و رواج سے بخوبی آگاہ ہیں۔ وہ کور کمانڈر پشاور رہنے کی وجہ سے یہاں کے قبائلیوں سے بھی واقف ہیں۔ ایک پٹھان ہونے کے ناطے انہیں قبائلیوں کے سامنے اپنا موقف رکھنے میں انہیں کوئی بڑی دقت پیش نہیں آنی چاہیئے

گورنر سرحد کی تبدیلی کو ہمیشہ پاکستانی سیاست میں کافی اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ اس کی وجہ دیگر تین صوبوں کے برعکس گورنر سرحد کے پاس قبائلی علاقوں کا اضافی چارج بھی ہے لیکن قبائلی علاقے خصوصاً وزیرستان میں گزشتہ چار برسوں کے حالات نے اسے مزید اہم بنا دیا ہے۔

مستعفی ہونے والے گورنر خلیل الرحمان کو تو ذرائع ابلاغ پہلے ہی وزیرستان کی صورت حال کا شکار قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کے دور میں شمالی وزیرستان اور باجوڑ میں حالات نے کافی تشویشناک صورت اختیار کر لی تھی۔ خیبر ایجنسی میں بھی غیرقانونی ایف ایم چلانے پر دو گروہوں میں تصادم ہوا اور درجنوں ہلاکتیں ہوئیں۔

نئے گورنر کے لیئے بظاہر چیلنج زیادہ اور آسانیاں کم دکھائی دیتی ہیں۔ وہ فوج کی قبائلی علاقے میں آمد کے ذمہ دار ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ فوج کو اب کس حد تک قبائلیوں کے لیئے قابل قبول بناتے ہیں کس طرح حالات میں تبدیلی لاتے ہیں۔

وزیرستان فوج قبائلی دلدل میں !
وزیرستان طالبان کے جال میں
قبائلیباجوڑ پر حملہ
امریکہ مخالف جذبات بھڑکے ہیں:ہارون
ایف ایمباڑہ میں نیا فساد
ایف ایم ٹیکنالوجی کا فرقہ ورانہ استعمال
آڈیو، ویڈیو کیسٹیںمولانا اور گانا
زلزلے کا ’عذاب‘: خطبوں سے ٹپوں تک
اسی بارے میں
گورنر سرحد کا انتباہ
17 October, 2004 | پاکستان
صوبہ سرحد کے گورنر کا حلف
15 March, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد