کراچی: سینکڑوں گھر تباہ، بجلی پانی بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں سنیچر کی شام تین گھنٹے تک جاری رہنے والے طوفانِ باد و باراں کے بعد اب بھی شہر میں زندگی بحال نہیں ہو سکی ہے۔ طوفان سے سب سے زیادہ نقصان گڈاپ ٹاؤن میں ہوا جس کے ناظم مرتضی بلوچ نے بتایا کہ وہاں کل بائیس لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور ایک ہزار گھروں کی چھتیں یا دیواریں گری ہیں۔ مختلف اندازوں کے مطابق کراچی میں کل ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو سے زائد ہے۔ مرتضیٰ بلوچ نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خیموں کا بندوبست کیا ہے لیکن کوئی وہاں آنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا پورے گڈاپ ٹاؤن میں بجلی بند ہے جس کی وجہ سے ٹیوب ویل بھی بند ہیں جس سے پینے کا پانی بھی نہیں مِل رہا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً بیس کروڑ کا نقصان ہو چکا ہے۔ مرتضیٰ بلوچ نے کہا کہ گورنر سندھ نے کہا تھا کہ اس علاقے میں مدد بھیجی جائے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اس سے قبل گورنر سندھ عشرت العباد نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کے ورثاء اور زخمیوں کو فوری طور پر معاوضہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ شہر کی سڑکوں سے ملبہ طوفان کے بعد فوری طور پر ہٹا دیا گیا تھا۔ دریں اثناء بارشوں میں سائن بورڈ گرنے سے ہلاکتوں کے بعد حکومت نے شہر بھر میں آویزاں بڑے سائن بورڈ ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا کہ اس پر فوری عمل کیا جائیگا، دوسری جانب شہر میں کے ای ایس سی کے تمام تر دعوؤں کے باوجود کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بحال نہیں ہوسکی ہے۔ گورنر نے بی بی سی کو بتایا کہ بڑے بڑے ہورڈنگ ہٹانے کا فیصلہ گزشتہ سال بھی کیا گیا تھا۔ اس سے قبل ایدھی فاؤنڈیشن کے چیف رضاکار رضوان ایدھی نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ اتوار کی صبح تک ایدھی کے سرد خانے میں ایک سو پندرہ لاشیں پہنچائی گئی ہیں جن میں زیادہ تر طوفانِ باد و باراں کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔
رضوان ایدھی کا کہنا تھا کہ یہ افراد دیواریں، سائن بورڈ اور درخت گرنے، کرنٹ لگنے اور سڑک حادثات میں ہلاک ہوئے جبکہ کچھ طبعی اموات بھی ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ لاشیں شہر کے مختلف علاقوں، ہسپتالوں سے پہنچائی گئی ہیں جن میں کئی لاوارث بھی ہیں۔ اس طوفان میں زخمی ہونے والے دو سو سے زائد افراد کو، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں جناح، سول ، عباسی شہید اور سعود آباد ہسپتالوں میں داخل کروایا گیا تھا اور ان میں ہنگامی حالت نافد کر دی گئی تھی۔
کراچی میں بارش کے دوران ہلاک ہونے والوں میں کئی لوگ ایسے بھی تھے جو اپنی منزل کی طرف سفر کر رہے تھے کہ راستے میں ان کے اوپر درخت یا سائن بورڈ گر پڑے۔ یہ سائن بورڈ بجلی اور ٹیلی فون کی تاروں پر بھی گرے جس سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا۔ گزشتہ سال ہونے والی بارش میں بھی اسی طرح درخت اور سائن بورڈ گرے تھے، جس کے بعد ان کے خلاف مہم شروع کی گئی تھی۔ سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ کراچی میں تیرہ ادارے ہیں جو شہر کا نظام چلا رہے ہیں اور وہ ان تمام کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ سٹی حکومت نے ایک قانون پاس کیا تھا جس کے تحت سٹی حکومت کی حدود میں لگائی گئیں ہورڈنگس کا سائز کم کیا گیا اور سال بھر میں بتیس بڑی ہورڈنگز گرا دی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بارش کے دوران سٹی حکومت کی حدود میں کوئی بھی ہورڈنگز نہیں گرا جتنے بھی ہورڈنگز گرے ہیں وہ تمام کینٹونمنٹ کے علاقوں میں گرے ہیں۔ کراچی میں سنیچر کو سارا دن سخت گرمی اور گھٹن کے بعد شام کو ساڑھے چار بجے تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ ہوا اس قدر شدید تھی کہ کئی مقامات پر درخت، بجلی اور ٹیلیفون کے کھمبے اکھڑ کر سڑکوں پر آگرے، اس کے علاوہ بڑے سائن بورڈ بھی زمین بوس ہوگئے تھے۔ محکمۂ موسمیات نے مزید شدید بارش کی پیشگوئی کی تھی۔ سندھ اور بلوچستان کے ماہی گیروں کوگہرے سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں کراچی میں طوفانی بارش، 44 ہلاک23 June, 2007 | پاکستان سیلاب و آسمانی بجلی سے 16 ہلاک16 June, 2007 | پاکستان پاکستان شدیدگرمی کی لپیٹ میں 09 June, 2007 | پاکستان پاکستان:’سنگین‘ موسمیاتی تبدیلیاں11 June, 2007 | پاکستان صوبہ سرحد: شدید طوفان، ’19 ہلاک‘18 May, 2007 | پاکستان کشمیر: تودہ گرنے سے آٹھ افراد ہلاک22 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||