بارش کے بعد اب ہیضے کاخطرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں حالیہ طوفانی بارشوں کے بعد بیماریاں پھیل رہی ہیں اور کئی ہسپتالوں میں ہیضے کے مریض لائے جارہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کئے تو اس سے اموات واقع ہوسکتی ہیں۔ تاہم سہولیات کا نظام درہم برہم ہونے کا سب سے زیادہ اثر نواحی علاقوں پر پڑ رہا ہے۔ کراچی سے ملنے والی بلوچستان کی سرحد پرگڈاپ ٹاؤن میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں دو افراد اویس اور رضوان ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ اسی کے قریب ہسپتالوں میں داخل کئے گئے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی مریض ابھی تک گاؤں میں موجود ہیں مگر ایمبولینس کی سہولت موجود نہیں ہے۔ کراچی میں گزشتہ ایک ہفتے سے ہونے والی بارش کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے، جس سے کئی نشیبی علاقے بھی زیر آب آگئے ہیں۔ بارشوں سے شدید متاثرہ علاقے گڈاپ میں ہیضے کی صورتحال زیادہ خراب ہوگئی ہے جہاں بہت سے لوگ اس کا شکار ہوئے ہیں۔ گڈاپ ٹاؤن کے ناظم مرتضیٰ بلوچ کا کہنا ہے کہ سخت گرمی اور حبس ہے اور بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کی فراہمی ٹیوب ویل کے ذریعے ہوتی ہے جو بجلی پر چلتے ہیں۔ اس حالت میں لوگ مجبوراً بارش کا پانی اسعتمال کر رہے ہیں۔ مرتضیٰ بلوچ کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے بجلی فراہم کرنے والے مقامی ادارے کے ای ایس سی کے حکام سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس عملہ کم ہے اس لیے صرف شہر تک بجلی مہیا کرپانا ہی ممکن ہے۔ کراچی کے دو بڑے ہسپتالوں جناح اور سول ہسپتال میں بھی ہیضے کے شکار کے مریضوں کی آمد جاری ہے۔ جناح ہسپتال کی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
صوبائی وزیر صحت سردار احمد کا کہنا ہے کہ ہیضے کے مریضوں کی آمد گزشتہ تین ماہ سے جاری ہے، کبھی یہ تعداد چالیس، پچاس ہوجاتی اور کبھی ایک سو، ان میں کوئی کمی نہیں ہوتی لیکن تاحال کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔ پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بارش کے بعد ہیضہ پھیلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، اس لیے لوگوں کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ پی ایم اے کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ بارشوں کے بعد ہیضہ پھیلنے کے امکانات میں بےانتہا اضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ بارش، سیوریج اور پینے کا پانی آپس میں مل جاتے ہیں۔ اس سے پیٹ خراب ہوتا ہے اور الٹی اور دست کی بیماریاں ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جتنی جگہوں پر بارش کا پانی جمع ہے حکومت کی ذمے داری ہے کہ اسے صاف کرے۔ انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ پانی ابال کر استعمال کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیضے کے علاوہ شہر میں ڈینگی فیور کا بھی خدشہ موجود ہے۔ گزشتہ سال بھی بارشوں کے بعد اس میں تیزی آئی تھی۔ |
اسی بارے میں بلوچستان: 20ہلاک، ہزاروں بےگھر27 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: امدادی کام میں دشواریاں28 June, 2007 | پاکستان ’سائیکلون یمین بلوچستان سےٹکرائےگا‘26 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||