قدرت سے چھیڑ چھاڑ، آفات کو دعوت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس سال جون کا مہینہ کراچی سمیت پاکستان کے ساحلی علاقوں پر بڑا بھاری گزرا ہے، جس کی وجہ بحیرہِ عرب میں پیدا ہونے والے دو طاقتور طوفان ہیں۔ پہلا طوفان پانچ جون کو آیا جس نے پہلے خلیجی ریاست عمان، پھر ایران اور اس کے بعد پاکستان میں گوادر کے ساحلی علاقوں میں تباہی مچائی۔ اس طوفان کوگونو کا نام دیا گیا تھا اور کہا جا رہا ہے کہ خطے میں پچھلے 60 سالوں میں آنے والا یہ سب سے زیادہ طاقتور سمندری طوفان تھا۔ اور اب پچھلے چند دنوں سے بحیرہ عرب میں ایک اور طوفان برپا ہے، جو بھارتی ریاست گجرات کے بعد سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں طوفانی ہواؤں اور شدید بارشوں کا سبب بن رہا ہے۔ اپنی آمد سے قبل ہی اس طوفان نے کراچی میں دو سو سے زائد افراد کی جان لے لی۔ سمندری طوفانوں کے یوں یکے بعد دیگرے آنے کے بارے میں موسمی تغیرات کی ایک ماہر صفیہ شفیق کہتی ہیں کہ درجۂ حرارت میں اضافہ طوفانوں کے بار بار آنے اور ان کی شدت میں اضافے کا ایک سبب ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ طوفان تو اس علاقے میں آتے رہے ہیں لیکن پچھلے چند سالوں میں دیکھا گیا ہے کہ ان کی تعداد کے ساتھ ساتھ شدت بھی بڑھ گئی ہے، جو کہ عالمی حدت میں اضافے کا ایک منطقی نتیجہ ہے۔ عالمی حدت اور درجۂ حرارت بڑھنے کی وجہ بتاتے ہوئے صفیہ شفیق نے کہا کہ گرین ہاؤس گیسز جو کوئلہ، تیل اور دوسری ہائیڈروکاربن مصنوعات کے جلنے سے پیدا ہوتی ہیں، وہ زمین کے اطراف خلاء میں جمع ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے سورج کی حدت بھی زمین کے گرد جمع ہوجاتی ہے اور وہاں سے باہر نکل نہیں پاتی۔ نتیجتاً زمین پر ہوا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور موسموں میں تبدیلی پیدا ہورہی ہے۔ ساحلی علاقوں میں پھیلے ہوئے تمر کے خود رو قدرتی جنگلات (mangrove)مچھلیوں، جھینگوں اور کیکڑوں کی افزائش کا ذریعہ تو ہوتے ہی ہیں لیکن یہ سمندری طوفانوں کے خلاف قدرتی حفاظتی دیوار کا کام بھی کرتے ہیں۔ ساحلی ماحولیاتی نظام کے ماہر طاہر قریشی کہتے ہیں ’ہم لوگ تمر کے جنگلات جتنے کاٹ رہے ہیں اس سے اتنا ہی قدرتی آفات کے اثرات بڑھ رہے ہیں۔ قدرتی نظام کو چھیڑا جائے گا تو قدرت جوابی کارروائی کرے گی۔‘
طاہر قریشی بتاتے ہیں کہ دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں ایک زمانے میں چھ لاکھ ہیکٹرز پر تمر کے جنگلات پھیلے ہوئے تھے اور یہ اتنے گھنے تھے کہ اس میں انڈس ٹائیگر اور آئی بیکس بھی پائے جاتے تھے، لیکن دریا میں پانی کی قلت اور دوسرے اسباب کے نتیجے میں یہ جنگلات کم ہوتے چلے گئے اور اب یہ صرف 80 تا 85 ہزار ہیکٹرز کے علاقے میں رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے ساحلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی تمر کے جنگلات کو ختم کیا گیا۔ طاہر قریشی کہتے ہیں کہ سونامی کے بعد سری لنکا اور انڈونیشیا سمیت بہت سے متاثرہ ممالک نے اس بات کو محسوس کیا کہ انہوں نے بڑے پیمانے پر تمر کے جنگلات کا صفایا کر کے قدرتی آفات کے لیے راستہ ہموار کیا۔ ’یہ ممالک اب بڑے پیمانے پر تمر کی شجرکاری کر رہے ہیں تاکہ آئندہ سونامی یا اس جیسی قدرتی آفات کے اثرات کو کم کیا جا سکے‘۔ |
اسی بارے میں ’سائیکلون یمین بلوچستان سےٹکرائےگا‘26 June, 2007 | پاکستان مکران ڈویژن میں بعد از طوفان طغیانی26 June, 2007 | پاکستان سندھ، بلوچستان میں سمندری طوفان کا خطرہ25 June, 2007 | پاکستان کراچی: سینکڑوں گھر تباہ، بجلی پانی بند25 June, 2007 | پاکستان بلوچستان طوفان، 40 کشتیاں غرق 05 June, 2007 | پاکستان سندھ: سمندری طوفان، ایمرجنسی23 September, 2006 | پاکستان سندھ: ساحلی علاقوں میں طوفان 02 October, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||