سندھ، بلوچستان میں سمندری طوفان کا خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سمیت پاکستان کے تمام ساحلی علاقوں میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران طوفانی ہواؤں کے ساتھ شدید بارشوں کا امکان ہے۔ ممکنہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے فوج کو الرٹ کردیا گیا ہے اور ساحلی علاقے کے مکینوں کو مکان خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکومت سندھ کے مطابق ساحلی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منقتل کیا جا رہا ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے ماہی گیروں کو اگلے تین روز تک سمندر کا رخ نہ کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ سندھ کے صوبائی مشیر داخلہ وسیم اختر کے مطابق سمندر کے قریب علاقوں سے لوگوں کو ہٹایا جارہا ہے اور ان کی رہائش کے لئے اسکولوں میں انتظامات کئے گئے ہیں۔ ساحل کو تفریح کے لئے بند کردیا گیا ہے۔ وسیم اختر نے بتایا کہ بارش میں اٹہتر افراد کےہلاک ہونےکی تصدیق ہوئی ہے۔ مکمل فہرست تیار کرنے کے لیے کسی غیر جانبدار شخصیت کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے۔ غیر سرکاری اعداد و شمار کےمطابق مرنے والوں کی تعداد دو سو سے زیادہ ہے۔ ٹھٹھہ اور بدین کے اضلاع میں شدید بارشوں کے پیش نظر رینجرز نے کیمپ لگالئے ہیں۔ اس سے قبل طوفانی بارش کے تین روز بعد زندگی معمول پر لوٹ رہی تھی مگر طوفان کی پیش گوئی کے بعد لوگوں میں خوف کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ برطانیہ کی لیورپول یونیورسٹی سے وابستہ ماہر موسمیات محمد حنیف کے مطابق یہ طوفان جن علاقوں کے پاس سے گزرے گا، وہاں ایک سو سے ایک سو پچاس کلومیٹر کی رفتار سے ہوائیں چلیں گی۔
جس ’ڈپریشن‘ یا ہوا کے دباؤ میں کمی کی وجہ سے یہ طوفان بادو باراں آیا وہ ڈپریشن ابھی بحیرہ عرب میں موجود ہے۔ اس کی شدت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور پیر اور منگل کی درمیانی شب یہ سمندری طوفان میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق فی الحال یہ طوفان کراچی سے ایک سو پچاس کلومیٹر جنوب میں موجود ہے اور منگل کے روز ( بعد دوپہر) یہ کراچی کے جنوب میں اسّی سے سو کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا۔ طوفان کا رخ شمال مغرب یعنی بلوچستان کے ساحلی علاقوں کی طرف رہے گا۔ بدھ کو جیوانی گوادر اور پسنی سمیت بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں شدید بارش ہوگی۔ اندرون بلوچستان بھی موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ جس سے بلوچستان کے ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ رواں موسم کے دوران یہ بحیرہ عرب میں پیدا ہونے والا دوسرا سمندری طوفان ہے۔ اس سے قبل جون کے پہلے ہفتے میں اسی قسم کے ایک طوفان نے عمان میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلائی تھی۔ عمان بھی اس طوفان کی زد میں آئے گا۔
برطانیہ کے ہیڈلے سیٹر کے ماہرین نے جنوری میں پیش گوئی کی تھی کہ دو ہزار سات تاریخ کا گرم ترین سال ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل، انیس سو نواسی گرم ترین سال کہا جاتا ہے۔ ہیڈلے سینٹر لندن کی پیش گوئیاں عموماً ستر فیصد درست ثابت ہوتی ہیں۔ بحیرہ عرب میں بننے والے ان غیر معمولی طوفانوں کی وجہ گلوبل وارمنگ یا عالمی حدت میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سال خلاف معمول بحیرہ عرب زیادہ گرم رہا۔ معمول کے مطابق موسم گرما میں سب سے زیادہ گرم خلیج بنگال رہتا ہے۔اس وجہ سے پانی کے بھاپ بن کر اڑنے کا عمل زیادہ شدت سے جاری ہے اور غیر معمولی موسم کو جنم دے رہا ہے۔ |
اسی بارے میں کراچی میں طوفانی بارش، 44 ہلاک23 June, 2007 | پاکستان کراچی میں ایدھی محصور بے بس24 June, 2007 | پاکستان طوفان کےبعد زندگی معمول کی طرف25 June, 2007 | پاکستان ہورڈنگ ہٹانے کے لیے کہا تھا: گورنر25 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||