BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 June, 2007, 10:06 GMT 15:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’طوفان کی اطلاع نہیں تھی‘

محمد مراد، شفیع موگر اور عباس
محمد مراد نے دعوی کیا کہ حکومت کی جانب سے انہیں طوفان کی کوئی آگاہی نہیں دی گئی
ٹھٹہ کے ساحلی علاقے کھارو چھان کے لوگ گزشتہ چار روز سے جاری بارش میں گھروں تک محدود ہوگئے ہیں۔

ساحل سمندر پر رہنے والے محمد مراد کا دعوی ٰ ہے کہ وہ بے فکر گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک طوفان آگیا۔ حکومت کی جانب سے انہیں کوئی آگاہی نہیں دی گئی۔

سمندر کے قریب کوسٹ گارڈ کی ایک چیک پوسٹ ہے۔ ایسی ہی چو کیاں دیگر مقامات پر بھی ہیں جو آپس میں وائرلیس نظام سے منسلک ہیں۔ یہ تمام چوکیاں منگل تک ویران تھیں۔

محمد مراد بتاتے ہیں کہ طوفان آنے سے قبل ہی یہ اہلکار راتوں رات بھاگ گئے تھے اور انہیں کچھ بھی نہیں بتایا تھا حالانکہ ان اہلکاروں کا وہ خوشی اور مجبوری دونوں میں خیال رکھتے ہیں۔

کھارو چھان میں بجلی کا کوئی نظام نہیں۔ اس لیے لوگوں تک معلومات کی رسائی کا واحد ذریعہ ریڈیو ہے مگر مکینوں کو شکایت ہے کہ ریڈیو نے بھی طوفان کی آمد کی کوئی اطلاع نہیں دی تھی جب طوفان سر پر آگیا تو ریڈیو نے بتایا تھا۔

انیس سو ترانوے، ننانوے اور دو ہزار تین میں جو طوفان آئے تھے، انہوں نے اس علاقے کی معیشت کو تباہ کردیا ہے
شفیع موگر

طوفان کے بعد گزشتہ چار روز سے ملاح ماہی گیری کے لیے سمندر میں نہیں جاسکے۔

اس علاقے میں گھر چٹائیوں سے بنائے جاتے ہیں جو طوفان کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

مقامی تنظیم ڈیلٹا ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے رہنما شفیع موگر کا کہنا ہے کہ انیس سو ترانوے، ننانوے اور دو ہزار تین میں جو طوفان آئے تھے، انہوں نے اس علاقے کی معیشت کو تباہ کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انیس سو ننانوے میں شدید طوفان آیا تھا اور لوگوں سے گھر خالی کروائے گئے تھے، مگر کیمپوں میں ان کی انتہائی بری حالت تھی، اب انتظامیہ پھر کہہ گئی ہے تو لوگ گھر چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔

تحصیل ناظم حاجی احمد علی خان نے بتایا کہ انیس سو ننانوے میں جو شدید طوفان آیا تھا اس موقع پر لوگوں سے گھر خالی کروائے تھے اور کھارو چھان خالی ہوگیا تھا۔ کیمپ لگائے گئے تھے، وہاں پر لوگوں کو کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں ملی تھی۔

’سمندری پانی آگے بڑھنے کی وجہ سے زیر زمین پینے کا پانی بھی کڑوا ہوگیا ہے‘

انہوں نے کہا کہ تحصیل کی سطح پر وہ سروے کر کے ضلعی حکومت کو بھیج دیں گے، آگے ان کی مرضی ہے کیونکہ ان کے پاس وسائل موجود نہیں ہے۔

ایک ماہی گیر محمود کا کہنا تھا کہ طوفان میں ان کا بہت نقصان ہوا ہے۔ ان کے ہوڑے ( لانچ) آپس میں ٹکرا کر ٹوٹ گئے ہیں۔ ایک ہوڑے کی قیمت تین سے چار لاکھ روپے ہوتی ہے۔ جال سمندر میں بہہ گئے ہیں جبکہ ایک جال ایک سے سوا لاکھ روپے کی مالیت کا ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں طوفان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی۔ اچانک طوفان آنے سے کئی ماہی گیر جو اس وقت سمندر میں تھے ابھی تک واپس نہیں لوٹے ہیں۔

محمود کا کہنا تھا کہ ان کے یہاں فاقہ کشی کی نوبت ہے اور سمندری پانی آگے بڑھنے کی وجہ سے زیر زمین پینے کا پانی بھی کڑوا ہوگیا ہے۔

احمد علی شاہ کے بقول آج کل کوئی مزدوری بھی نہیں لے رہا ہے

احمد علی شاہ نامی ایک مزدور کا کہنا تھا کہ بارش کے موسم کا دکاندار بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں جو چٹائی دو سو روپے میں ملتی تھی، اس کی قیمت پانچ سو روپے کر دی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ آج کل مزدوری بھی نہیں مل رہی ہے۔ آسمان پر کالے بادل دیکھ کر وہ گھبرا جاتے ہیں۔

کھارو چھان میں کیلے اور پان کے بھی بڑے باغات ہیں جو زیر آب آگئے ہیں۔ کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

بارش کی وجہ سے سڑکیں ٹوٹ گئی ہیں جو ایک طویل عرصے کے بعد بنی تھیں اور لوگوں کی آمدررفت کا ذریعہ ڈاٹسن پک اپ ہے۔

بعد از طوفان
بلوچستان اور سندھ میں املاک کو نقصان
سمندری طوفان’قدرت کا انتقام‘
سمندری طوفان قدرت سے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ
طوفانِ باد و باراں
کراچی میں گرمی کے بعد طوفانی بارش اور ہلاکتیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد