بلوچستان طوفان کی شدت تاحال برقرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں گونو نام کے طوفان کی شدت تاحال برقرار ہے ۔ گوادر کے قریب سربندر کے علاقے میں پانی کے کٹاؤ سے ایک سکول اور تین مکان پانی میں بہہ گئے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو گئے ہیں۔ گوادر کے تحصیل ناظم ماجد سہرابی نے بتایا ہے کہ طوفان شدت سے جاری ہے لیکن حکومت کے میرین سیکیورٹی ایجسنی کوسٹ گارڈز یا دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تاحال کوئی امدادی سرگرمیاں شروع نہیں کی گئیں۔ گوادر سے کوئی پچیس کلومیٹر دور سربندر کے علاقے میں سمندری پانی کا کٹاؤ تیز ہوگیا ہے جس سے ایک سکول اور تین مکان پانی میں بہہ گئے ہیں جبکہ درجن بھر چار دیواریوں کو نقصان پہنچا ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ علاقوں کی جانب منتقل ہو گئے ہیں۔ ماجد سہرابی نے کہا کہ گوادر میں ماہی گیروں کی کوئی دو سو کشتیوں کو نقصان پہنچا ہے اور بڑی تعداد میں کشتیاں ڈوب گئی ہیں اور ایک اندازے کے مطابق صرف ماہی گیروں کا کوئی ڈیڑھ کروڑ روپے کے نقصان ہوا ہے۔ گوادر کے علاوہ پسنی اور جیونی میں بھی طوفان سے نققصان پہنچا ہے۔ ماہی گیروں نے بتایا ہے کہ انہیں حکومت کی جانب سے طوفان کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی ورنہ وہ پہلے سے حفاظتی اقدامات کر لیتے اور ناں ہی کوئی مدد کی گئی ہے۔ کوئٹہ میں محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر ضیاءالدین نے بتایا ہے کہ ان علاقوں میں پیشگی اطلاع دے دی گئی تھی ۔ انہوں نے منگل کے دن کہا تھا کہ طوفان چوبیس گھنٹے میں تھم جائے گا لیکن بدھ کو رات تک طوفان جاری تھا۔ | اسی بارے میں بلوچستان: چھ مشتبہ افراد گرفتار10 February, 2005 | پاکستان بلوچستان طوفان، 40 کشتیاں غرق 05 June, 2007 | پاکستان بے بس و بے گھر مہاجر بلوچ04 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: بارشوں سے دس ہلاک03 March, 2005 | پاکستان بلوچستان میں مزید بارش کا امکان12 February, 2005 | پاکستان بلوچستان دھماکے، 30 ہلاک20 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||