BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بے بس و بے گھر مہاجر بلوچ

بے بس بلوچ
اپنے ہی ملک میں مہاجر اور پناہ گزین بننے پر مجبور ہونے والے بلوچ جھونپڑیوں پر مشتمل بستیاں بنا کر شدید غربت و بے بسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں
بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن میں بے گھر ہونے والے سینکڑوں افراد اب تک ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کاہان میں واقع اپنے گھروں کو لوٹنے سے خوفزدہ ہیں۔

بلوچستان میں جاری کشیدگی نے خود اپنے ہی ملک کے دوسرے حصے سندھ اور اپنے ہی صوبے کے دوسرے علاقوں میں مہاجر اور پناہ گزینوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ایک نئی آبادی کو جنم دیا ہے۔ یہ لوگ سندھ اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں جھونپڑیوں پر مشتمل بستیاں بنا کر شدید غربت و بے بسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں


صوبہ سندھ سے قریب تر بلوچستان کے میدانی ضلع جعفر آباد اور ڈیرہ الہیار کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں بلوچستان کشیدگی سے پیدا ہونے والے یہ نئے مہاجرین موجود ہیں اور بے گھری کو ایک سے ڈیڑھ سال کا عرصہ ہونے والا ہے۔

عبدالرزاق مری ڈیرہ الہیار کے قریب ان نئے مہاجرین کی بنائی گئی جھونپڑیوں میں سے ایک جھونپڑی میں رہتے ہیں۔

رزاق مری کاہان اپنے خاندان کا قافلہ اونٹوں پر لے کر تب روانہ ہوئے جب بقول ان کے کاہان اور کوہلو میں جنگ چھڑ گئی۔ ہر طرف جیٹ جہاز بم پھینکنے لگے۔

بے بس بلوچ
پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ وہ تبب نکلے جب کاہان اور کوہلو میں جنگ چھڑ گئی اور ہر طرف جیٹ جہاز بم پھینکنے لگے

ان کا کہنا تھا کہ انہیں صرف اپنی جان بچانے کی مہلت ملی۔ وہ کوئی سامان اپنے ساتھ نہ اٹھا سکے۔

رزاق مری ڈیرہ الہیار میں روزانہ کی اجرت پر مزدوری کرتے تھے جسے دہاڑی کا نام دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہاڑی کا کیا ہے کبھی ملتی ہے کبھی نہیں ملتی۔

رزاق اور ان کے خاندان کو موجودہ پناہ گاہ تک رسائی میں تین دن لگ گئے تھے۔

علی خان مری بھی ایک ایسے ہی بےگھر ہیں۔ جب وہ جنگ سے تنگ ہو کر کاہان کو ہلو سے نکلے تو ان کے پاس کوئی سواری نہیں تھی انہیں اپنا سفر پیدل ہی کیا اور اس میں انہیں آٹھ سے دس دن لگ گئے۔

علی خان اپنی جھونپڑی میں اتنا بیزار بیٹھا تھا۔اس شام سب سے آخر میں شریک گفتگو ہو سکا۔ انہیں اپنے علاقے کا دکھ تھا روزگار کا کوئی اور طریقہ نہ آنے کی فکر۔

علی خان کا کہنا تھا کہ جنگ نہ ہوتی تو ہم اپنے علاقے میں بہت خوش تھے۔ ڈیرہ الہیار میں جو مزدوری ملتی ہے وہ کاشتکاری سے منسلک ہے اور وہ کاشتکاری کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

علی خان بات کرتے ہوئے رونے کی حد تک جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے کہا حالات بہت خراب ہیں۔ بیماری کی صورت میں علاج کے لیے دربدر ہونا پڑتا ہے۔

اسی دوران محمد صدیق مری بھی آگئے۔ انہیں شکایت تھی کہ امدادی سامان ان کے خاندان کو نہیں مل رہا۔ انہوں نے سیاست دانوں کی سی روانی سے کہا ’ہمیں کیوں بھوکا ما را جا رہا ہے۔ کیا ہم پاکستانی نہیں‘۔

کوہلو اور کاہان سے نقل مکانی کرنے والے جن مری قبائل کے لوگوں سے ہماری بات چیت ہو سکی انہیں کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ کب اپنے علاقوں میں واپس جا سکیں گے۔ انہوں نے اپنی واپسی کو حالات کی بہتری سے جوڑ رکھا ہے۔

بے بس بلوچ
ان پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ جنگ نہ ہوتی تو ہم اپنے علاقے میں بہت خوش تھے

بلوچستان کی حکومت وقت نے کئی بار اعلان کیے ہیں کہ ڈیرہ بگٹی اور سوئی میں حالات معمول پر آگئے ہیں مگر سید بہادر شاہ اب بھی ڈیرہ بگٹی واپس جا کر اپنی حویلی آباد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

بہادر شاہ نے بتا یا کہ ابھی ڈیرہ بگٹی واپس جانے کا وقت نہیں آیا۔ ہم ڈیرہ بگٹی واپس جانا چاہتے ہیں مگر ذہنوں میں ایک خوف موجود ہے کہ ابھی کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔

بہادر شاہ بلوچستان کے نئے مہاجرین میں اس لیے منفرد ہیں کہ انہیں تلاش روزگار کی فکر نہیں۔ وہ سید اور پیر ہیں اور ان کا گزارہ مریدوں پر ہے۔

بلوچستان کے منفرد مہاجرین میں سب سے نمایاں ذکر نواب اکبر بگٹی کے پوتے شاہ زین بگٹی کا کیا جاتا ہے۔

یہ وہی شاہ زین ہیں جن کی کراچی سےگرفتاری کی اطلاع ان کے والد طلال بگٹی نے چند روز قبل کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوان میڈیا کو دی۔

ڈیرہ الہیار میں لوگوں کا کہنا تھا کہ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد شاہ زین نے پٹ فیڈر کے پنجابی ڈپ کے علاقے میں واقع کوٹ بگٹی میں مستقل کیمپ قائم کردیا تھا۔

 بے بس بلوچ
شدید ترین گرمی کے موسم میں ان کے پاس صرف یہی جھونپڑیاں ہیں جو سایا بھی دیتی ہیں اور پناہ بھی

ان کے مسلح محافظ ڈیرہ الہیار کے صحبت پور چو ک پر روزانہ موجود رہتے تھے۔ طلال بگٹی سے جب میں نے کوئٹہ میں رابطہ کیا تو انہوں نے کہا شاہ زین کا کیمپ نہیں تھا وہاں تو ہمارا گھر ہے وہ اپنے گھر میں رہتا تھا۔

کاہان کے متاثر رستم مری کا کہنا تھا کہ صرف جعفرآباد ضلع کے اوستہ محمد، صحبت پور، ڈیرہ الہیار اور دیگر شہروں میں پندرہ سے بیس ہزار متاثرین موجود ہیں۔جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔
رستم مری ایک سیاسی سماجی کارکن ہیں اور وہ بالاچ مری کے الیکشن میں کورنگ امیدوار بھی تھے۔
رستم مری کا کہنا تھا کہ متاثرین کی مدد کے لیے حکومت نے ایدھی رضاکاروں کو کام کرنے سے منع کردیا ہے۔ جب کہ دوسری این جی اوز کو بھی ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کاہان اور کوہلو کے علاقوں کا اب بھی محاصرہ جاری ہے۔ڈیرہ بگٹی جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ میں مری قبیلے کے لوگوں کو سوار ہونے سے منع کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ ڈاٹسن کو ڈیرہ بگٹی سے آگے نہیں جانے دیا جاتا۔
بلوچستان آپریشن کے متاثرین سندھ کے خیرپور میرس، سکھر، کندہ کوٹ، جیکب آباد، دادو،گھوٹکی، نوابشاہ اور سمیت کئی اضلاع میں بھی پناہ گزین ہیں۔

شدید گرمی کے ان دنوں میں یہ پناہ گزین گھاس پھونس کی جھونپڑیاں میں رہ رہے ہیں۔

ان متاثرین میں ایک سردار گوبند سنگھ بھی ہیں جو ڈیرہ بگٹی پرگزشتہ مارچ میں ہونے والی بمباری کے بعد ہجرت پر مجبور ہوئے۔

بے بس بلوچ
ان پناہ گزینوں کے مطابق کوئی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ڈیرہ بگٹی نہیں جا سکتا کیونکہ ابھی حالا ت ایسے نہیں ہیں۔

سردار گوبند سنگھ دو سو ہندو خاندانوں کے ہمراہ ڈیرہ بگٹی کی اُس حویلی میں رہائش پذیر ہیں جو کبھی نواب اکبر بگٹی کی رہائشگاہ بھی تھی۔

سردار گوبند سنگھ نے کشمور شہر میں مطب کھول رکھا ہے۔ ان کا ڈیرہ بگٹی میں بھی اس طرح کا کاروبار تھا۔ وہ اپنے تین بھائیوں کی خاندانوں کے سولہ ارکان کے ساتھ کشمور پہنچے تھے۔ سردار گوبند سنگھ کو حکومت کے ان اعلانات پر بھروسہ نہیں جن میں ڈیرہ بگٹی کے حالات معمول پر بتا ئے جاتے ہیں۔

سردار گوبند سنگھ نے کشمور میں اپنے مطب پر بات چیت کے دوران بتایا کہ ان کا گھر ڈیرہ بگٹی میں ہے اور وہ واپس ضرور جائیں گے مگر ابھی حالات واپسی کے لیے سازگار نہیں۔ ان کے بقول ’ابھی واپس جانے کا سوچتے ہوئے ڈر یہ لگا رہتا کہ جیسے اچانک کچھ نہ کچھ ہوجائے گا۔

انہوں نے بتا یا کہ جو لوگ ڈیرہ بگٹی جا رہے ہیں وہ ملازمت پیشہ ہیں ان کی مجبوری ہے مگر کوئی اپنے بیوی بچوں کو ساتھ ڈیرہ بگٹی نہیں جا سکتا کیونکہ ابھی حالا ت ایسے نہیں ہیں۔

سیمینار: خودمختاری
بلوچستان میں فوجی کارروائی روکنے کا مطالبہ
’حالت خراب ہے‘
بلوچستان سے ڈھائی لاکھ افراد کی نقل مکانی
وہ کہاں گئے؟
گمشدہ بلوچ کارکنوں کا معمہ حل نہ ہو سکا
فائل فوٹوبچوں کا اغوا
کوئٹہ میں بچوں کے اغوا کے واقعات میں اضافہ
خصوصی ضمیمہ
فوجی آپریشن میں اکبر بگٹی کی ہلاکت
ویب سائٹویب سائٹ پر دعویٰ
جلاوطن حکومت اور بلوچوں کی تردید
 بلوچ ویب سائٹوں پر پابندیانٹرنیٹ سنسر شپ
پاکستان میں بلوچ ویب سائٹوں پر پابندی
اسی بارے میں
خیر بخش مری عدالت سے بری
30 July, 2006 | پاکستان
بلوچستان میں مسلح جھڑپیں
26 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد