’خیبرمیں ہلاکتوں کی تعداد 38‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پا کستان کےقبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ہونے والی شدید بارش کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد اڑتیس تک پہنچ گئی ہے تاہم حکومت بائیس افراد کے جان بحق ہونے کی تصدیق کر رہی ہے۔ خیبر ایجنسی کے تحصیل لنڈی کوتل کے متاثرہ لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ سیلابی ریلوں، مکانات کی چھتوں اور دیواروں کے گرنے کی وجہ سے لنڈی کوتل میں اٹھارہ، علی مسجد میں پانچ اور تیراہ کے علاقے میں پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم پولٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار فضل محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں اب تک بائیس افراد کے ہلاک ہونے کی رپورٹ موصول ہوئی ہے جبکہ دس افراد زخمی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے میں چار پُلوں کے بہہ جانے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مرکزی شاہراہ ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بند ہوگئی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کی غرض سے چلنے والے سینکڑوں ٹرک سڑک کے کنارے کھڑے ہیں جبکہ عام لوگ چھوٹی گاڑیوں یا پیدل سفرطے کر کے اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک متاثرہ شخص شاکر آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ چو بیس گھنٹے گزر جانے کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے کسی قسم کی امدادی سرگرمی شروع نہیں ہوئی ہے۔ انکے مطابق بجلی کے نظام کے درہم بر ہم ہونے کی وجہ سے ٹیوب ویلوں کے نہ چلنے سےلوگوں کو پینے کے پانی کی دستیابی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
شاکر آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ متاثرہ لوگوں نے قبائلی روایات کے مطابق گزشتہ رات اپنے عزیز و اقارب کے ہاں گزاری تھی۔ تاہم جمعہ کوگورنر صوبہ سرحد اور دیگر پولٹیکل حکام نےمتاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ لوگوں تک بہت جلد خور دنوش کی اشیاء پہنچادی جائیں گی جبکہ پاک افغان شاہراہ سمیت دیگر سڑکوں کو جمعہ کی شام تک ہر قسم کی آمدو رفت کے لیے کھولنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تحصیل لنڈی کوتل میں تقریباً سو سے زیادہ مکانات کو نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں تاہم پولٹیکل حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اس سلسلے میں ابھی تک مکمل رپورٹ نہیں ملی ہے۔ دوسری طرف صوبہ سرحد میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز سےجاری بارشوں کی وجہ سے ضلع مردان اور قبائلی علاقے باجوڑ میں دو دو افراد جبکہ سوات اور پشاور میں ایک ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ صوبائی ریلیف کمشین کے ایک اہلکار عنایت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ شاہ عالم داؤدزئی میں سیلاب آنے کی وجہ سے تقریباً چالیس افغان خاندانوں نے نقل مکانی کی ہے۔انکے مطابق ضلع ٹانک سے بھی نقصانات کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاک افغان شاہراہ کی بندش کی وجہ سے طورخم کے راستے افغانوں کی وطن واپسی کا سلسلہ عارضی طور پرروک دیا گیاہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جمعہ کے روز بھی دارلحکومت پشاور سمیت صوبہ سرحد کے بیشتر علاقوں میں بارش ہورہی ہے اور یہ سلسلہ سنیچر کے روز تک جاری رہے گا۔ پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار فضل محمود نے کہا کہ پاکستان اور افغانستا ن کو ملانے والی شاہراہ کا ایک بہت بڑا حصہ اور چار پل پانی میں بہہ گئے ہیں جس کی وجہ سے مواصلاتی رابطہ مکمل طور پرمنقطع ہوگیا ہے۔ ان کے بقول چار ٹرک، دوآئل ٹینکرز اور دو گاڑیوں کے بھی پانی میں بہہ جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ فضل محمود نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر بند سڑکیں کھول دیں تاکہ امدادی سامان لوگوں تک پہنچا یا جاسکے۔ ایک مقامی شخص خیال محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں موجود درجنوں کھمبوں کے گرنے کی وجہ سے بجلی کا نظام درہم بر ہم ہوگیا ہے اور سینکڑوں مکانات کی چھیتیں اور دیواریں گر گئی ہیں۔ ان کے مطابق سینکڑوں گھر زیر آب آگئے ہیں اور کئی افراد محفوظ مقامات کی تلاش میں پیدل ہی نکل پڑے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ نقصان سلطان کے علاقے میں پہنچا ہے۔ دریں اثناء قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کو ہونے والے شدید بارش کی وجہ سے تحصیل میرعلی میں تین خواتین ہلاک اور کم از کم تیرہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ شمالی وزیرستان کے متاثرہ لوگوں میں سے کچھ اپنے زخمیوں کے ساتھ سول ہسپتال میرعلی پہنچے ہیں۔ ایک شخص محب اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ مبارک شاہی، محمدی اور دولت خیل میں مکانات کے چھتیں گرنے سے تین خواتین ہلاک ہوگئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ زیادہ تر افراد سیلابی ریلے میں مکانات کی چھتوں اور دیواریں گرنے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔ محمد طاہر نے بی بی سی کو بتایا کہ شدید بارش کی وجہ سے شمالی وزیرستان کےتمام علاقوں میں نقصان ہوا ہے لیکن زیادہ تر نقصان مبارک شاہی، عیدک، زیرکی، محمدی، دولت خیل، ایسوڑی، میرعلی، وزیر، مسوکی،حیدرخیل اور خیسورہ میں ہوا ہیں جہاں ایک سو سے زیاد مکان منہدم ہوگئے ہیں اور لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ ایک متاثرہ شخص نظام اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے کسی قسم کی امدادی سرگرمی شروع نہیں ہوئی ہے۔ انکے مطابق بجلی کے نظام کے درہم بر ہم ہونے کی وجہ سےلوگوں کو پینے کے پانی کی دستیابی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں جرنیٹر موجود ہیں لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ تیل کی عدم دستیابی کی وجہ سے جرنیٹر چالو نہیں کرسکتے ہیں۔ شمالی وزیرستان کے پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا تھا کہ بارش سے نقصان ہوا ہے لیکن نقصان کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا کیونکہ انتظامیہ کے اہلکار سارے علاقے میں نہیں پہنچے ہیں۔ میرعلی کے ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ دریا ٹوچی میں سیلابی ریلے کی وجہ سے دریا کے کنارے واقعہ حفاظتی پوشتے بہہ گئے ہیں۔ | اسی بارے میں سرحد بارشیں : چھ افراد بہہ گئے 22 August, 2006 | پاکستان پاکستان: بارش سے کئی ہلاک24 July, 2006 | پاکستان بارشیں: کراچی میں چھ افراد ہلاک04 December, 2006 | پاکستان بلوچستان: شدید بارشوں سے تباہی04 December, 2006 | پاکستان پاکستان میں بارشوں کا سلسلہ11 February, 2007 | پاکستان لاہور: بارشوں سے سات افراد ہلاک11 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||