BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 June, 2007, 09:54 GMT 14:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لوگ پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں‘

تربت
تباہ شدہ مکانوں کے ملبے کے نیچے مرے ہوئے مویشی موجود ہیں
تربت کی پینتیس یونین کونسلوں میں سے سات سمندری طوفان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

اس علاقے میں جو کچےگھر تھے وہ تمام منہدم ہوگئے ہیں تاہم پکے مکانات کھڑے نظر آتے ہیں۔ علاقے میں مواصلات اور بجلی کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔

تربت شہر کی زیادہ تر سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں۔ شہر کے بیشتر نواحی علاقوں کا رابطہ شہر سے تاحال کٹا ہوا ہے اور وہاں ہونے والی تباہی کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

تربت میں افراتفری کا عالم ہے اور شہر میں ایسے ہزاروں لوگوں موجود ہیں جو اپنے تباہ شدہ گھروں کے ملبے میں سے بچا کچھا سامان ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔ ان افراد میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے جو شدید گرمی میں ملبے سے اپنا سامان نکالنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

یہ متاثرین شہر کے مرکز میں واقع سکولوں اور مسجدوں میں لگائے گئے پناہ گزین کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں جہاں مقامی این جی اوز انہیں کھانا اور پانی فراہم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن متاثرہ افراد کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ تمام لوگوں کو خوراک کی فراہمی ممکن نہیں۔

علاقے میں میرانی ڈیم سے آنے والے پانی نے تمام کنوؤں کو بھر دیا ہے اور اب علاقے میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت ہے۔ کنوئیں آلودہ پانی سے بھر گئے ہیں اور لوگ اب پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں۔

علاقے میں جو کچےگھر تھے وہ منہدم ہوگئے ہیں

تباہ شدہ مکانوں کے ملبے کے نیچے مرے ہوئے مویشی موجود ہیں جس سے علاقے میں تعفن پھیل رہا ہے اور وبائی بیماریاں پھوٹنے کا خطرہ ہے۔ طوفان کو چار دن گزر جانے کے باوجود حکومت کی جانب سے بھی تاحال امدادی کام شروع نہیں کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دو سی ون تھرٹی طیارے امدادی سامان لے کر بدھ کو تربت ائرپورٹ پر اترے تھے تاہم متاثرین تک امداد نہیں پہنچ پائی ہے۔

تربت میں امداد کے منتظر متاثرین نے اجتجاجی جلوس بھی نکالا اور ضلع ناظم کے دفاتر میں گھسنے کی کوشش بھی کی جس پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔ پولیس کی اس کارروائی پر مشتعل متاثرین پولیس تھانے میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ کی۔ اس واقعے میں چند پولیس اہلکار اور مظاہرین زخمی بھی ہوئے ہیں۔

بارش کے بعد بےگھر عورتبارش کے بعد ہیضہ
کراچی میں ہیضہ پھیلنے کا خطرہ
احمد علی شاہ کھارو چھان کا احوال
’سمندری طوفان کی کوئی اطلاع نہیں تھی‘
بعد از طوفان
بلوچستان اور سندھ میں املاک کو نقصان
طوفانِ باد و باراں
کراچی میں گرمی کے بعد طوفانی بارش اور ہلاکتیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد