BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 June, 2007, 22:44 GMT 03:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امدادی کارروائیوں میں ’تاخیر‘

امدادی سرگرمیاں
امدادی سرگرمیوں کی پہلی ترجیح سمندر میں پھنسے غیر ملکی جہازوں کے عملے کو بچانا تھا
بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر لوگ متاثر ہوئے ہیں جبکہ حزب مخالف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت امدادی سرگرمیاں بروقت شروع کرنے میں ناکام رہی ہے۔

تربت سے آنے والی اطلاعات کے مطابق سولبند میں سیلابی پانی میں گھری ایک مسجد کی چھت پر پینتیس کے قریب افراد پناہ لیے ہوئے ہیں، لیکن چوبیس گھنٹے گزر جانے کے باوجود انہیں محفوظ مقام پر منتقل نہیں کیا جا سکا۔


سولبند میرانی ڈیم کے قریب واقع ہے۔ متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ڈاکٹر اسماعیل بلیدی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مسجد پر پناہ لیے ہوئے افراد میں سے دو کی موت واقع ہو چکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صوبائی حکومت سے ان افراد کی مدد کے لیے بارہا رابطہ کیا لیکن چوبیس گھنٹے گزر جانے کے باوجود ابھی تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ یاد رہے کہ متحدہ مجلس عمل بلوچستان کی صوبائی مخلوط حکومت کا حصہ ہے۔

اسی طرح گندھاوا کے قریب چار افراد اٹھارہ گھنٹے تک سیلابی ریلے میں پھنسے رہے اور انہیں مقامی لوگوں نے ہی محفوظ مقام پر منتقل کیا۔

حکومت ناکام
 صوبائی حکومت متاثرہ لوگوں کو ریلف دینےمیں ناکام ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد اضافہ ھوسکتا ہے
سینیٹر مالک بلوچ

سیلابی ریلوں سے ریل کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے اور اس وقت ریل گاڑیوں کو مختلف مقامات پر روک لیا گیا ہے۔ بولان کے علاقے میں بھاری پتھرگرنے سے ریل کی پٹڑی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

اس کے علاوہ کئی علاقوں میں بجلی کی ترسیل معطل ہے جبکہ گیس پائپ لائن کا ایک بڑا ٹکڑا سیلابی پانی میں بہہ گیا ہے، جس سے کوئٹہ، قلات، زیارت اور بعض دوسرے علاقوں میں گیس کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

کوئٹہ سے صحافی ایوب ترین کے مطابق وزیراعظم شوکت عزیز نے بلوچستان میں سیلاب سے متا ثرہ افراد کی فوری مدد کے لیے بیس کروڑ روپے کی گرانٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔

بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ طارق قیوم چودھری نے رات گئے صوبائی دارالحکومت میں دی گئی ایک بریفنگ میں دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے کسی بھی حصے میں اس وقت لوگوں کو جانی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

امدادی کاموں میں تاخیر پر قوم پرست جماعتوں نے سخت احتجاج کیا ہے۔ نیشنل پارٹی کے سینیٹر ڈاکڑ مالک بلوچ کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت متاثرہ لوگوں کو ریلف دینےمیں ناکام ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

میرانی ڈیم میں خطرناک درجے تک پانی جمع ہو رہا ہے

ڈاکٹر مالک نے خبردار کیا کہ میرانی ڈیم میں خطرناک درجے تک پانی جمع ہو رہا ہے، جس سے بند ٹوٹنےکا امکان بڑھ رہا ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ سید احسان شاہ بھی انہیں خدشات کا شکار نظر آئے۔

بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں دو دن قبل آنے والے یمین طوفان سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بیس سے تجاوز کر چکی ہے، جـبکہ ہزاروں افراد ابھی تک کھلے آسمان تلے امدادی کارروائیوں کے منتظر ہیں۔

سیکرٹری داخلہ طارق قیوم سے بریفنگ کے دوران جب پوچھا گیا کہ پسنی میں موجود نیوی کے ہیلی کاپٹر تربت میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ کیوں نہیں لے رہے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ (نیوی کے ہیلی کاپٹر) پہلے مرحلے میں سمندر میں پھنسےغیر ملکی بحری جہازوں کے عملے کو بچانے میں مصروف رہے ہیں۔

احمد علی شاہ کھارو چھان کا احوال
’سمندری طوفان کی کوئی اطلاع نہیں تھی‘
سمندری طوفان’قدرت کا انتقام‘
سمندری طوفان قدرت سے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ
بعد از طوفان
بلوچستان اور سندھ میں املاک کو نقصان
اسی بارے میں
سندھ: سمندری طوفان، ایمرجنسی
23 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد