’طوفان کی پیشگی اطلاع نہ ملی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں حالیہ بارشوں میں متاثر ہونے والے ساحلی علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں محکمۂ موسمیات کی جانب سے طوفان کی آمد کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ تاہم سندھ حکومت کا ماننا ہے کہ انہوں نے الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے یہ اطلاع پہنچائی تھی۔ پاکستان میں ٹی وی اور ریڈیو پر موسم کی بدلتی صورتحال کے بارے میں اطلاع دی جاتی ہے اور شہروں میں ہر شخص اس سے باخبر ہوجاتا ہے مگر پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں جہاں نہ ٹی وی ہے اور نہ اور کوئی وسیلہ، وہاں لوگ اس سے محروم رہتے ہیں۔ محکمۂ موسمیات کے کراچی میں ڈائریکٹر توصیف عالم کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سے ایڈوائیزری جاری ہوتی ہے جو ویب پیج پر بھی دی جاتی ہے تاکہ لوگ اس سے باخبر ہوسکیں۔ محکمۂ موسمیات کی جانب سے طوفان کے دوران ماہی گیروں کو سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے مگر ماہی گیروں کا کہنا ہے انہیں یہ اطلاع نہیں ملتی۔ کراچی سے پچاس کلومیٹر دور مچھیروں کی بستی کے نوجوان عبدلواحد کہتے ہیں کہ انہیں کوئی بھی بتانے نہیں آتا ہے اور اگر کوئی شخص شہر جاتا ہے تو وہاں سے پتہ چل جائے تو ٹھیک ہے ورنہ انتظامی سطح پر کوئی اطلاع نہیں ملتی۔ یہی شکایت کھارو چھان ضلع ٹھٹہ کے لوگ بھی کرتے ہیں۔ کھارو چھان میں سمندر سے کچھ گز کے فاصلے پر رہنے والے محمد مراد کا کہنا ہے کہ وہ بے فکر گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک طوفان آگیا اور حکومت کی جانب سے انہیں کوئی آگاہی نہیں دی گئی تھی۔ حکومت کے پاس کسی آفت اور طوفان سے لوگوں کو آگاہ کرنے کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں ہے۔ حکومت کا بھی تمام تر انحصار ریڈیو اور ٹی وی پر ہی ہوتا ہے۔ سندھ حکومت کے مشیر اطلاعات حامد عابدی بتاتے ہیں کہ لوگوں کو اطلاع مل جاتی ہے کیونکہ محکمہ موسمیات بتا دیتا ہے کے طوفان کتنا دور ہے، کب اثر انداز ہوگا، اسی سے وہ الیکٹرانک میڈیا سے اعلانات کراتے ہیں اور دیہی علاقوں میں مساجد سے اعلانات کیے جاتے ہیں کیونکہ جہاں بجلی نہیں ہے وہاں بیٹریوں سے مساجد کے لاؤڈ اسپیکر چلائے جاتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ لوگوں کو پہلے ہی اطلاع کردی گئی تھی جس وجہ سے نقصانات کم ہوئے ہیں مگر لوگوں کا خیال ہے کہ طوفان ٹل گیا ورنہ زیادہ جانی نقصان ہوسکتا تھا۔ ٹھٹہ کے لوگوں کا بھی کہنا ہے کہ انیس سو ننانوے میں بھی اسی سبب وہ جانی نقصان اٹھا چکے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’خیبرمیں ہلاکتوں کی تعداد 38‘29 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: امدادی کام میں دشواریاں28 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: امدادی کارروائیوں کا آغاز28 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: 20ہلاک، ہزاروں بےگھر27 June, 2007 | پاکستان طوفان اور بارشیں، ہزاروں لوگ بے گھر27 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||