BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 June, 2007, 15:56 GMT 20:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’طوفان کی پیشگی اطلاع نہ ملی‘

متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں طوفان کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی
سندھ میں حالیہ بارشوں میں متاثر ہونے والے ساحلی علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں محکمۂ موسمیات کی جانب سے طوفان کی آمد کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

تاہم سندھ حکومت کا ماننا ہے کہ انہوں نے الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے یہ اطلاع پہنچائی تھی۔

پاکستان میں ٹی وی اور ریڈیو پر موسم کی بدلتی صورتحال کے بارے میں اطلاع دی جاتی ہے اور شہروں میں ہر شخص اس سے باخبر ہوجاتا ہے مگر پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں جہاں نہ ٹی وی ہے اور نہ اور کوئی وسیلہ، وہاں لوگ اس سے محروم رہتے ہیں۔

محکمۂ موسمیات کے کراچی میں ڈائریکٹر توصیف عالم کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سے ایڈوائیزری جاری ہوتی ہے جو ویب پیج پر بھی دی جاتی ہے تاکہ لوگ اس سے باخبر ہوسکیں۔

 محکمۂ موسمیات کے کراچی میں ڈائریکٹر توصیف عالم کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سے ایڈوائیزری جاری ہوتی ہے جو ویب پیج پر بھی دی جاتی ہے تاکہ لوگ اس سے باخبر ہوسکیں۔ سندھ، بلوچستان، سرحد اور پنجاب کے چیف سیکریٹریوں کو یہ ایڈوائیزری فیکس کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریوں کو بھی مطلع کیا جاتا ہے۔ توصیف عالم نے بتایا کہ وزیراعظم سیکریٹریٹ اور گورنروں کو بھی اس کے بارے میں اطلاع کی جاتی ہے۔
سندھ، بلوچستان، سرحد اور پنجاب کے چیف سیکریٹریوں کو یہ ایڈوائیزری فیکس کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریوں کو بھی مطلع کیا جاتا ہے۔ توصیف عالم نے بتایا کہ وزیراعظم سیکریٹریٹ اور گورنروں کو بھی اس کے بارے میں اطلاع کی جاتی ہے۔

محکمۂ موسمیات کی جانب سے طوفان کے دوران ماہی گیروں کو سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے مگر ماہی گیروں کا کہنا ہے انہیں یہ اطلاع نہیں ملتی۔

کراچی سے پچاس کلومیٹر دور مچھیروں کی بستی کے نوجوان عبدلواحد کہتے ہیں کہ انہیں کوئی بھی بتانے نہیں آتا ہے اور اگر کوئی شخص شہر جاتا ہے تو وہاں سے پتہ چل جائے تو ٹھیک ہے ورنہ انتظامی سطح پر کوئی اطلاع نہیں ملتی۔

یہی شکایت کھارو چھان ضلع ٹھٹہ کے لوگ بھی کرتے ہیں۔ کھارو چھان میں سمندر سے کچھ گز کے فاصلے پر رہنے والے محمد مراد کا کہنا ہے کہ وہ بے فکر گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک طوفان آگیا اور حکومت کی جانب سے انہیں کوئی آگاہی نہیں دی گئی تھی۔

 سمندر کے قریب کوسٹ گارڈ، نیوی اور میری ٹائیم سیکیورٹی کی چوکیاں اور وائرلیس نظام موجود ہے۔ محمد مراد بتاتے ہیں کہ طوفان آنے سے قبل ہی کوسٹ گارڈ راتوں رات بھاگ گئے تھے اور انہیں کچھ بھی نہیں بتایا تھا حالانکہ ان اہلکاروں کا وہ خوشی اور مجبوری دونوں سے خیال رکھتے ہیں۔
سمندر کے قریب کوسٹ گارڈ، نیوی اور میری ٹائیم سیکیورٹی کی چوکیاں اور وائرلیس نظام موجود ہے۔ محمد مراد بتاتے ہیں کہ طوفان آنے سے قبل ہی کوسٹ گارڈ راتوں رات بھاگ گئے تھے اور انہیں کچھ بھی نہیں بتایا تھا حالانکہ ان اہلکاروں کا وہ خوشی اور مجبوری دونوں سے خیال رکھتے ہیں۔

حکومت کے پاس کسی آفت اور طوفان سے لوگوں کو آگاہ کرنے کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں ہے۔ حکومت کا بھی تمام تر انحصار ریڈیو اور ٹی وی پر ہی ہوتا ہے۔

سندھ حکومت کے مشیر اطلاعات حامد عابدی بتاتے ہیں کہ لوگوں کو اطلاع مل جاتی ہے کیونکہ محکمہ موسمیات بتا دیتا ہے کے طوفان کتنا دور ہے، کب اثر انداز ہوگا، اسی سے وہ الیکٹرانک میڈیا سے اعلانات کراتے ہیں اور دیہی علاقوں میں مساجد سے اعلانات کیے جاتے ہیں کیونکہ جہاں بجلی نہیں ہے وہاں بیٹریوں سے مساجد کے لاؤڈ اسپیکر چلائے جاتے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ لوگوں کو پہلے ہی اطلاع کردی گئی تھی جس وجہ سے نقصانات کم ہوئے ہیں مگر لوگوں کا خیال ہے کہ طوفان ٹل گیا ورنہ زیادہ جانی نقصان ہوسکتا تھا۔ ٹھٹہ کے لوگوں کا بھی کہنا ہے کہ انیس سو ننانوے میں بھی اسی سبب وہ جانی نقصان اٹھا چکے ہیں۔

بعد از طوفان
بلوچستان اور سندھ میں املاک کو نقصان
شہری آبادی
جنوب ایشیا میں پاکستان سب سے آگے۔
لاہور میں مون سون
پنجاب کے دارالحکومت میں شدید بارش
تربتتربت میں افراتفری
’پینےکا پانی نہیں، ملبے سے تعفن اٹھ رہا ہے‘
بارش کے بعد بےگھر عورتبارش کے بعد ہیضہ
کراچی میں ہیضہ پھیلنے کا خطرہ
احمد علی شاہ کھارو چھان کا احوال
’سمندری طوفان کی کوئی اطلاع نہیں تھی‘
سمندری طوفان’قدرت کا انتقام‘
سمندری طوفان قدرت سے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد