پاکستان: شہروں کی طرف دوڑ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اگلے سال تک دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی شہروں میں مقیم ہو گی اور جنوبی ایشیا میں شہروں کی طرف منتقلی کے تناظر میں پاکستان سر فہرست ہوگا۔ پاکستان میں شہری آبادی میں غیر معمولی رفتار سے اضافہ ہونے کے باعث سال دو ہزار تیس تک ملک کی نصف آبادی شہروں میں رہ رہی ہوگی۔ دنیا میں آبادی کی صورتحال پراقوام متحدہ کے ادارے یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ (یو۔این۔ایف۔پی۔اے) کی یہ رپورٹ بدھ کو پاکستان سمیت دنیا کے ایک سو سے زائد ممالک میں بیک وقت جاری کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال دو ہزار تیس تک جنوبی ایشیا کی شہری آبادی دوگنی ہو کر ڈھائی ارب سے زیادہ ہو جائے گی اور شہروں کے یہ نئے باسی زیادہ تر غریب لوگ ہوں گے۔
آبادی کی یہ منتقلی صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں ہو گی بلکہ چھوٹے شہروں اور قصبوں کی آبادی بڑے شہروں کی نسبت زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھے گی۔ پاکستان میں شہری آبادی کی افزائش سے متعلق رپوٹ اقوام متحدہ کے ادارے یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ (یو۔این۔ایف۔پی۔اے) اور قائداعظم یونیورسٹی کے ادارہ برائے ترقیاتی معیشت (پائڈ) نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔ رپورٹ کے اہم نکات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے یو۔این۔ایف۔پی۔اے کی پاکستان میں نمائندہ ڈاکٹر فرانس ڈونے نے کہا کہ قیام پاکستان کے چند سال بعد شہروں میں آبادی کی افزائش کی شرح سترہ فیصد تھی جو اب بڑھ کر پینتیس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ شہروں کو آنے والے ان لوگوں میں سے بیشتر کا مسکن شہروں کے پسماندہ علاقے اور کچی آبادیاں ہوتی ہیں۔ رپورٹ میں درج تفصیل کے مطابق شہری آبادی میں اس تیز رفتار اضافے کی وجہ دیہات سے شہروں کی جانب ہجرت ہی نہیں بلکہ شہروں میں آبادی کی شرح میں اضافہ بھی ہے۔
موجودہ دور میں پاکستان میں ہر تین میں سے ایک فرد شہر میں رہتا ہے جبکہ شہروں اور دیہات میں آبادی کی رفتار میں اضافے میں پائے جانے والے فرق کے باعث سال دو ہزار تیس میں ہر دو میں سے ایک پاکستانی شہری علاقوں کا رہائشی ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق چند برس پہلے تک شہروں کی طرف منتقل ہونے والی یہ آبادی زیادہ تر مردوں پر مشتمل ہوتی تھی لیکن اب ان میں خواتین کی شرح بھی مردوں کے مساوی ہو چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کی شہروں میں منتقلی کی وجہ معاش کی تلاش ہے۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ یہ خواتین شہروں میں جا کر گھروں میں ملازمتیں کر کے اپنے مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔ رپورٹ میں شہروں کی جانب خواتین کی ہجرت سے پیدا ہونے والے مسائل اور مواقع پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ شہروں میں آنے والی خواتین مجموعی طور پر اپنے آپ کو خوش اور خوشحال سمجھتی ہیں جبکہ درحقیقت وہ خاصی کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ لیکن چونکہ انکے حالات دیہی زندگی کی نسبت بہتر ہوتے ہیں، اس لیے بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی کے باوجود وہ خود کو زیادہ با اختیار اور خوش محسوس کرتی ہیں۔ شہر میں پیدا ہونے اور پلنے والےان خواتین کے بچوں میں غذائیت کی مقدار بھی ان بچوں سے بہتر پائی گئی ہے جنہوں نے ابتدائی زندگی دیہات میں گزاری۔ |
اسی بارے میں فیملی پلاننگ کے لیے قرآن سے مدد22 December, 2006 | انڈیا فرانسیسی معاشرے میں تبدیلی کااشارہ 08 November, 2005 | آس پاس پیوٹن گھٹتی ہوئی آبادی سے پریشان10 May, 2006 | آس پاس چین میں بیویوں کی کمی ممکن 12 January, 2007 | آس پاس شہری آبادی دیہی آبادی سے زیادہ27 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||