پیوٹن گھٹتی ہوئی آبادی سے پریشان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کے صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ اس وقت روسی قوم کا سب سے بڑا مسئلہ کم ہوتی ہوئی آبادی ہے۔ قوم سے اپنے سالانہ خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ شرح پیدائش میں کمی اور شرح اموات میں اضافہ کے باعث مردم نگاری (demography) کی صورتحال تشویش ناک ہو گئی ہے۔ انہوں نے ایک قومی پروگرام کا اعلان کیا جس کے تحت عورتوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی جائے گی اور حکومت انہیں زیادہ امداد دے گی۔ پیوٹن نے امریکہ کی طرز پر فوج کا بجٹ بڑھانے پر بھی زور دیا تاکہ ملک کا موثر دفاع کیا جا سکے۔ انہوں نے امریکہ کو ’قلعے‘ سے تشبیہہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اس کا دفاعی بجٹ روس کے مقابلے میں پچیس گنا زیادہ ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ان (امریکیوں) کا گھر ان کا قلعہ ہے۔ شاباش! اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اپنے گھر کو مضبوط اور قابل اعتماد بنانا چاہیے‘۔ تاہم انہوں نے تنبیہہ کی کہ ’دنیا میں ہتھیاروں کی دوڑ ختم ہونے کی بات قبل از وقت ہے‘ بلکہ یہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے مزید تیز ہو رہی ہے۔ صدر پیوٹن نے اس کے علاوہ بھی بہت سے مسائل پر گفتگو کی جن میں سرکاری اہلکاروں میں بدعنوانی، خارجہ پالیسی اور معیشت جیسے امور شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’جدید روس کا سب سے سنگین مسئلہ مردم نگاری سے متعلقہ ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ روس کی آبادی میں سالانہ سات لاکھ افراد کی کمی ہو رہی ہے جس کی وجوہات گرتی ہوئی شرح پیدائش، شرح اموات میں اضافہ اور ملک سے باہر ہجرت ہیں۔ انہوں نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیئے دس سالہ منصوبے کے خدوخال کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کا ایک اہم حصہ بچوں اور نوجوان عورتوں کی بہبود کے اقدامات ہیں۔ اس ضمن میں ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے والی خواتین کو ترجیح دی جائے گی۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت روس کی آبادی تقریباً سوا چودہ کروڑ ہے۔ | اسی بارے میں ایران قرارداد: روس، چین کی مخالفت06 May, 2006 | آس پاس روس میں بے قابو ہوتا نسلی امتیاز04 May, 2006 | آس پاس ایران افزودگی ترک کردے: روس12 April, 2006 | آس پاس ’روس نے عراق کو انٹیلی جنس دی‘25 March, 2006 | آس پاس حماس دہشت گرد تنظیم نہیں: پوتن10 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||