BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 May, 2006, 10:26 GMT 15:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روس میں بے قابو ہوتا نسلی امتیاز
’حکومت کو اس سلسلے میں منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے‘
حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق روس میں نسلی امتیاز کی بنا پر ہونے والی ہلاکتوں کے واقعات قابو سے باہر ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2005 میں روس میں نسلی تشدد میں 28 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 366 کوجسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سال ابھی سے ہی ایسے واقعات بڑے پیمانے پر رپورٹ کیئے جارہے ہیں جن میں ایک نو سالہ تاجک لڑکی کی موت کا واقعہ بھی شامل ہے۔

ایمنسٹی نے حکام کی جانب سے امتیازی سلوک برتنے اور نسلی امتیاز پر مبنی جرائم کی صحیح طور پر تفتیش نہ کرنے کی مذمت کی ہے۔

’روسی فیڈریشن: پرتشدد نسلی امتیاز قابو سے باہر‘ نامی ایمنسٹی رپورٹ میں پولیس اور وکلاء کی کئی ایسی مثالیں پیش کی گئی ہیں جنہوں نے نسلی امتیاز کی بنیاد پر کیئے گئے سنگین جرائم کو ’کم سنگین‘ قرار دیا ہے۔

نو سالہ تاجک بچی پر تشدد
ایمنسٹی کی رپورٹ میں ایک نو سالہ تاجک لڑکی خورشیدہ سلطانوو کے قتل کا واقعہ بھی سر فہرست ہے۔ ان پر ان کے خاندان سمیت فروری 2004 میں سینٹ پیٹرزبرگ میں حملہ کیا گیا تھا۔ خورشیدہ کے سینے، پیٹ اور بازوؤں پر نو بار چاقو گھونپا گیا تھا۔

تنظیم کی برطانوی ڈائریکٹر کیٹ ایلن کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں اور اقلیتوں کی نسلی ہلاکتیں اور ان پر کیئے جانے والے پرتشدد حملے قابو سے باہر ہیں مثلاً افریقی نژاد طلباء پر حملے، جنوب مشرقی ایشیائی باشندوں اور چیچنیا سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ امتیازی سلوک وغیرہ۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ روسی حکام ان واقعات کو نظر انداز کررہے ہیں۔ ’روسی پولیس اور حکام کو اس مسئلے پر فوری قابو پانے کی ضرورت ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ صدر ولادیمر پوتن کی حکومت کو اس سلسلے میں منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔

ایمنسٹی کی رپورٹ میں ایک نو سالہ تاجک لڑکی خورشیدہ سلطانوو کے قتل کا واقعہ بھی سر فہرست ہے۔ ان پر ان کے خاندان سمیت فروری 2004 میں سینٹ پیٹرزبرگ میں حملہ کیا گیا تھا۔ خورشیدہ کے سینے، پیٹ اور بازوؤں پر نو بار چاقو گھونپا گیا تھا۔

اسی طرح کا واقعہ پیس سالہ ویت نامی شخص وو آن توان کے ساتھ اکتوبر 2004 میں پیش آیا تھا۔ انہیں بھی اسی شہر میں 18 افراد کے ایک گینگ نے چاقوؤں کے وار سے قتل کیا تھا۔

نسلی امتیاز کے خلاف کام کرنے والی تنظیم یونائیٹڈ یورپ کے سربراہ ڈیمٹری کریوکن نے ایمنسٹی کو بتایا ہے کہ انہیں ’سر قلم‘ کرنے کی کئی دھمکیاں مل چکی ہیں۔ جبکہ حکام نے انہیں تحفظ فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے۔

روس میں بسنے والی روما کمیونٹی کے افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے سینٹ پیٹرز برگ جانا چھوڑ دیا ہے کیونکہ ان پر متعدد بار وہاں حملے کیئے جاچکے ہیں۔

روسی شہری اور بڑے شہروں میں بسنے والے غیر ملکی کئی بار ان واقعات اور حکومت کی ناکامی کے خلاف احتجاج کرچکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد