برطانیہ: ایشیائی پر حملے کا اعتراف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کی ڈاکیومنٹری ’سیکریٹ ایجنٹ‘ میں برطانیہ کی برٹش نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے ایک ایشیائی نژاد شہری پر نسلی حملہ کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ یہ دستاویزی فلم جمعرات کو برطاینہ کے وقت کے مطابق رات نو بجے بی بی سی ون پر دکھائی جائے گی۔ بی این پی برطانیہ کی نسل پرست جماعت ہے جو تارکین وطن کے خلاف ہے۔ بی بی سی کے رپورٹر جیسن گوائن نے یہ ڈاکیومنٹری خفیہ طور پر تیار کی ہے جس میں بی این پی کے کارکن سٹیو برکھم نے انہیں بتایا ہے کہ دو ہزار ایک میں بریڈ فرڈ میں ہونے والے فسادات کے دوران انہوں نے کس طرح ایک ایشیائی نژاد شہری کو گھونسے اور لاتیں رسید کیں۔ سیکریٹ ایجنٹ میں بی این پی کے رہنما نِک گریفِن کو بھی دکھایا گیا ہے جو اسلام کو ایک ظالمانہ اور شرپسند عقیدہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کر رہے ہیں۔ گریفِن نے بی بی سی پر الزام لگایا ہے کہ اس نے ان کی تقریر کے مخصوص حصے نشر کیے ہیں حالانکہ انہوں نے اپنی تقریر میں دوسری برادریوں پر حملوں کی حوصلہ شکنی کی تھی۔ بی بی سی کے پروڈیوسرز کا کہنا ہے کہ وہ یہ مواد پولیس اور کراؤن پروسیکیوشن سروس کے حوالے کریں گے۔ فلم میں گریفن، پارٹی اجلاس کے دوران کارکنوں سے کہہ رہے ہیں کہ انہیں پارٹی کا ساتھ دینا چاہئے ورنہ وہ (مسلمان) ان کے گھر میں کسی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں: ’اگر میں یہ بات باہر جا کر کہوں تو مجھے سات سال قید ہو سکتی ہے۔‘ ایک اور رکن سٹیوارٹ ویلیم کہتے ہیں کہ وہ بریڈ فرڈ کی مسجد کو راکٹ سے اڑا دینا چاہتے ہیں۔ کونسل کے لیے بی این پی کے امیدوار ڈیو مڈگلے نے کہا کہ انہوں نے ایک ایشیائی کی دکان کے لیٹربکس میں کتے کا گو ڈالا تھا۔ گریفن نے بعد میں کہا کہ وہ برکھم اور مڈگلے کو پارٹی سے نکال دیں گے جبکہ سٹیوارٹ کے خلاف تادیبی کارروائی ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام پر تنقید کرنا غیرقانونی نہیں ہے اور اگر وزیر داخلہ ڈیوڈ بلنکیٹ اس لیے ان پر مقدمہ چلانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے اسلام سے لاحق خطرات کی نشاندہی کی ہے تو وہ اپنا شوق پورا کر لیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||