برطانیہ: فوجی بھرتی میں نسلی امتیاز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں منظر عام پر آنے والی نئی سرکاری دستاویزات کے مطابق بیس سال تک نسلی اقلیتوں کی فوج میں بھرتی میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ اس خفیہ نظام کا انکشاف برطانیہ میں آزادی اطلاعات کے بارے میں نئے قانون کے عمل میں آنے کے پہلے روز جاری ہونے والی فائلوں کی مدد سے ہوا۔ انیس سو ستاون کے بعد سے میڈیکل افسروں کو یہ درج کرنے کے لیے کہا جاتا تھا کہ آیا نئے ریکروٹ ایشیائی ہیں یا نیگرو۔ اس طرح حاصل ہونے والے اعداد و شمار کی مدد سے فوج میں غیر سفید فاموں کی تعداد کو ایک حد سے نہیں بڑھنے دیا جاتا تھا۔ نئے قانون سے قبل بہت سی سرکاری دستاویزات دہائیوں تک عوام کی نظروں سے اوجھل رہتی تھیں۔ قانون کے تحت اس فائلوں کو تیس سال تک خفیہ رکھا جا سکتا تھا۔ یکم جنوری سے عمل میں آنے والے قانون کے تحت لوگوں کو ایک لاکھ سے زائد اداروں کے پاس فائلوں کو دیکھنے کا حق حاصل ہو گیا ہے۔ منظر عام پر آنے والی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ فوج میں بھرتی کا عمل بہت خفیہ تھا اور حکومتی وزراء اور نسلی مساوات کے لیے کام کرنے والے اداروں کو بھی اس کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی جاتی تھیں۔ دستاویزات کے مطابق فوج کے میڈیکل افسروں کو کسی کو غیر سفید فام قرار دینے کے بارے میں وسیع اختیارات تھے۔ وہ بحیرہ روم کے باسیوں کی شکل و صورت رکھنے والے افراد کو بھی غیر سفید فام کے خانے میں رکھ سکتے تھے۔ بھرتی کے اس نظام کا ذکر فوج کے ایڈجوٹنٹ جنرل کی طرف سے انیس سو بہتر میں تیار کردہ ایک دستاویز میں ملتا ہے۔ دستاویز میں لکھا ہے کہ ’سرکاری طور پر ہم کہتے ہیں کہ ہم فوج میں رنگت والے فوجیوں کے اعداد و شمار نہیں رکھتے‘۔ ماضی میں استفسار پر فوج ہمیشہ کھیلوں کی ٹیموں میں شامل غیر سفید فام فوجی گنوا دیتی تھی۔ حکومتی وزراء کو یقین دہانی کر دی جاتی تھی کہ ’فوج کے ہر شعبے میں نسلی اقلتیوں کے افراد شامل ہیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||