BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 May, 2004, 09:50 GMT 14:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یہ نوٹ صرف سفید فاموں کے ہیں
اورانیا کے سفید فام
ناقدین کے بقول اورانیا میں لوگ ابھی تک ماضی میں رہ رہے ہیں
جنوبی افریقہ جہاں نسلی امتیاز سے آزادی کی دسویں سالگرہ منا رہا ہے وہاں اس کے ایک علاقے میں سفید فام افراد صرف سفید فاموں کے لئے ایک کرنسی کا اجراء کر رہے ہیں۔

اورانیا شمالی کیپ میں موجود ایک چھوٹا قصبہ ہے جس میں سفید فام آفریکانرز رہتے ہیں۔ ان میں نسلی امتیاز کی پالیسی کے خالق ہینرک وروڈ کا پوتا بھی شامل ہے۔

اورانیاسے جاری ہونے والی کرنسی کو اورا کہا جائے گا جس کے چار درجے (نوٹ یا سکے) ہوں گے۔

اورانیا کی ایک ترجمان الین لمبارڈ نے بتایا کہ یہ کرنسی صرف قصبے کے اندر ہی استعمال کی جائے گی اور اگر کوئی اسے چرا بھی لے تو اس کے لئے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

ترجمان نے کہا کہ ’ہم اصل میں ایک خود مختار کمیونٹی کے نظریے پر کام کر رہے ہیں‘۔

’10 اورا کا نوٹ افریکانرز کی تاریخ دکھاتا ہے، 20 کا نوٹ آرٹ، 50 کا کلچر اور 100 کا نوٹ اورانیا کے قصبے کے متعلق بتاتا ہے۔‘

News image
قصبے میں ایک میوزیم ہے جہاں افریکانرز کی تاریخ کے متعلق چیزیں رکھی گئی ہیں

جنوبی افریقہ کے ریزرو بینک نے کہا ہے کہ قصبے میں جاری ہونے والی کرنسی کی کسی بھی طرح سے جنوبی افریقہ کے سرکاری نوٹوں سے مشابہت نہیں ہونی چاہیئے۔

اورانیا قصبے کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ کرنسی کا ڈیزائن ایک مقامی آرٹسٹ نے بنایا ہے۔ اس کے اجراء کی تقریب مقامی ٹاؤن ہال میں ہو گی۔

مس لمبارڈ نے کہا کہ کرنسی کے اجراء کا یہ مطلب نہیں لینا چاہیئے کہ اورانیا کی سفید فام برادری کثیر نسلی جنوبی افریقہ کو نہیں مانتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جنوبی افریقہ ایک فروٹ سلاد کی طرح ہے۔ اگر مجھے میری مرضی کے مطابق کیلا، سیب یا جو بھی میں بننا چاہوں بننے دیا جائے تو میں اس سلاد کے مزے میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان کی انفرادیت برقرار نہیں رکھی جا سکتی تو وہ معاشرے میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتیں۔

اورانیا میں رہنے والے 600 باشندوں میں سے اکثر کہتے ہیں کہ وہ جنوبی افریقہ میں تشدد اور جرم کی بڑھتی ہوئی لہر سے بچنے کے لئے یہاں اکٹھے ہو رہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد