ملاشووِچ جیل میں مردہ پائے گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوگوسلاویہ کے سابق صدر سلوبوڈان ملاشووِچ ہیگ کی جیل میں مردہ پائے گئے ہیں۔ چونسٹھ سالہ ملاشووِچ اقوام متحدہ کے جنگی جرائم کے ٹربیونل کے سامنے جنگی جرائم اور نسلی کشی کے مقدمات کا سامنا کر رہے تھے۔ ٹربیونل نے گزشتہ ماہ ملاشووِچ کی جانب سے علاج کے لیے روس جانے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ انہیں بلند فشار خون اور دِل کا عارضہ لاحق تھا۔ ان کی خراب صحت کے باجود ان کی اچانک موت پر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ ٹربیونل نے ملاشووِچ کے پوسٹ مارٹم کا حکم دیا ہے۔ ملاشووِچ پر بوسنیا، کرو ایشیا اور کوسوو کی جنگوں کی دوران جنگی جرائم کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا تھا۔ ان پر انیس سو بانوے اور پچانوے کی بوسنیا کی جنگ کے دوران جس میں دو لاکھ لوگ مارے گئے تھے نسل کشی کا الزام تھا۔ ملاشووِچ سن دو ہزار تک تیرہ سال ملک کے صدر رہے تھے۔ فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ان جنگوں کے مرکزی کردار منظر سے ہٹ گیا ہے اور اب ’ان ہزاروں مردوں عورتوں اور بچوں کو یاد کرنے کا وقت جو ملاشووِچ کی کارروائیوں کا شکار ہوئے‘۔ یورپی یونین کے وزارت خارجہ کے سربراہ ہاویر سولانا نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ملاشووِچ کی موت کے بعد سربیا اپنے ماضی سے سمجھوتہ کر سکےگا اور مستقبل کی طرف دیکھےگا۔ خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس نے بتایا کہ ملاشووِچ کے بھائی بوریسلاو نے جنگی جرائم کی عدالت کو ان کی موت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ملاشووِچ کے وکیل سٹیون کے نے بی بی سی بات کرتے ہوئے خودکشی کا امکان رد کیا اور کہا کہ ملاشووِچ مقدمہ مکمل کرنا چاہتے تھے۔ | اسی بارے میں میلاشووچ کو دل کا روگ26.07.2002 | صفحۂ اول صدر کی سابق صدر کے خلاف گواہی01.10.2002 | صفحۂ اول سربیائی وزیراعظم کا قتل12.03.2003 | صفحۂ اول بوسنیا: اجتماعی نماز جنازہ31.03.2003 | صفحۂ اول جنگی جرائم کا ملزم گرفتار13.06.2003 | صفحۂ اول بوسنیا:اجتماعی قبر دریافت28.07.2003 | صفحۂ اول مزید نیٹو فوج کوسوو روانہ18 March, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||