BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذہبی منافرت کے خلاف قانون
لندن، ریجنٹس پارک مسجد
گیارہ ستمبر کے بعد مسلمانوں پر کئی حملے ہوئے
برطانوی حکومت نے ایک ایسے قانون کی پیشکش کی ہے جس کے تحت مذہبی منافرت پھیلانا جرم قرار دیا جائے گا۔

اس بات کا اعلان برطانیہ کے وزیر داخلہ ڈیوڈ بلنکیٹ نے لندن میں انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی ریسرچ سے اپنی تقریر میں کیا۔

امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد بھی برطانوی حکومت نے یہ قانون تجویز کیا تھا لیکن تب پارلیمان نے اسے مسترد کر دیا تھا۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ ایسا قانون ضروری ہے تاکہ شہریوں کو محض مذہب کی بنیاد پر نفرت کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس مرتبہ پارلیمان اس قانون کو منظور کر لے گی۔

بی بی سی ریڈو فور کے پروگرام ’ٹوڈے‘ میں ڈیوڈ بلنکیٹ نے کہا کہ اس قانون سے شہریوں کے آزادی اظہار کا حق نہیں متاثر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا ’اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی سے مذہب کے موضوع پر بحث یا تنقید نہ کر سکیں بلکہ یہ کہ کیا آپ اس کو نفرت اور اشتعال انگیزی کا بنیاد بنائیں‘۔

لیکن لیبر پارٹی کے لارڈ ڈیسائی کہتے ہیں کہ ایسے اقدامات کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ موجودہ قوانین کے تحت کسی کو ایک مخصوص نسلی گروپ سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر اسے نفرت یا تشدد کا نشانہ بنانا جرم ہے۔

لارڈ ڈیسائی کا کہنا ہے جب لوگ مسلمانوں کو ذلیل کرتے ہیں تو وہ اسلام کو نہیں بلکہ مسلمانوں کو بطور ایک مخصوص نسلی گروپ ذلیل کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے منگل کو برطانیہ کی یہودی برادری کے رہنماؤں نے حکومت پر سخت تنقید کی تھی کہ انہوں نے مصری نژآد عالم دین شیخ یوسف القرضاوی کو برطانیہ میں واپس کیوں آنے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شیخ یوسف القرضاوی نہ صرف یہودیوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرتے رہے ہیں بلکہ خودکش حملہ آوروں کی بھی حمایت کا اظہار کر چکے ہیں۔

شیخ یوسف القرضاوی کے امریکہ پر داخلے پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ لیبر ایم پی لوئیز ہیلمین کا کہنا ہے کہ ان کی اس وقت برطانیہ میں موجود ہونا بذات خود اشتعل انگیز ہے اور حکام کو ان کی تقاریر اور کارروائیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

برطانیہ کے وزیر داخلہ شیخ یوسف القرضاووی کو ملک میں دوبارہ داخل ہونے کے موضوع پر کچھ کہنے سے گریز کیا ہے۔

جون میں برطانوی مسلمانوں کے لیے قائم کمیشن نے بھی حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اسلام کے خلاف جذبات اور خوف سے نہیں نمٹا گیا تو اس کا نتیجہ بہت تلخ ثابت ہوگا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد