فیملی پلاننگ کے لیے قرآن سے مدد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست مدھیہ پردیش کی حکومت مسلمانوں کی تیزي سے بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے ایک ایسی کتاب تقسیم کرنے کی تیاری کر رہی ہے جس میں قرآن کی ایسی آیتیں جمع کی گئی ہیں جن میں آبادی پر قابو پانے سے متعلق باتیں کہی گئی ہیں۔ ’ آبادی، اسلام اور خاندانی منصوبہ بندی‘ نامی اس کتاب میں قرآن کے بعض ایسی آیتوں کے معنی اور بعض علماء کے نظریات پیش کئے گئے ہیں جو خاندانی منصوبہ بندی کو قرآن کے مطابق صحیح قرار دیتے ہیں۔ ریاستی صحت کے وزیر اجے بشنوئی نے بی بی سی کو بتایا کہ محکمہ صحت نے ابتداء ميں اس کتاب کی دس ہزار کاپیاں ان مسلمانوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو خاندانی منصوبہ بندی پر عمل نہيں کرتے۔ اجے بشنوئی نے بتایا کہ یہ کتاب اس بات کو واضح کرتی ہے کہ’اسلام خاندانی منصوبہ بندی کے خلاف نہیں ہے اور یہ بات کہ اسلام خاندانی منصوبہ بندی کے خلاف ہے خود مسلم برادری کے بعض لوگوں نے پھیلائی ہے‘۔
مدھیہ پردیش کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اور اس کی حلیف جماعت راشٹریہ سیوک سنگھ اکثر مسلمانوں پر یہ الزام عائد کرتی ہے کہ مسلمان جان بوجھ کر اپنی آبادی بڑھا رہے ہيں تاکہ ہندو خود بہ خود اپنے ہی ملک میں اقلیت بن جائيں۔ آر ایس ایس کے صدر کے سدرشن نے ہندؤں سے یہاں تک مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اپنی آبادی اسی رفتار سے بڑھانی ہوگي جس شرح سے مسلمان اپنی آبادی بڑھا رہے ہیں۔ حالیہ اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں ہندؤں اور مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کی شرح میں کمی آئی ہے لیکن اب بھی مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کی شرح ہندؤں کی شرح کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی برادری کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا تعلق اس کے سماجی اور اقتصادی حالات پر منحصر ہوتا ہے۔ ادیب منظور احتشام کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی ایک قومی مسئلہ ہے اور اسے کسی بھی ایک برداری سے جوڑ کر نہیں دیکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی حکومت جو آر ایس ایس جیسی تنظیموں کے نزدیک تصور کی جاتی ہے وہ ایسے موقع پر ایک ادیب کی مدد سے اپنے خفیہ ایجنڈے کو سامنے لائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ کون سا ایسا مذہب ہے جو آبادی پر قابو پانے کی بات کرتا ہے خواہ وہ ہندو مذہب ہو، یا جین اور یا پھر بدھ یا عیسائی؟‘۔ مقامی مسلم علماء نوراللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ’ اس کتاب کے لکھنے والے نے اپنی بات ثابت کرنے کے لیے جان بوجھ کر قرآنی آیتوں کو غلط طریقے سے پیش کیا ہے‘۔ جبکہ ہندو نظریاتی تنظیم کے رکن کا کہنا ہے کہ جب پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک ’فیملی پلاننگ‘ کے لیے علماء کی مدد لے سکتے ہيں تو ہندوستان کیوں نہیں‘۔ | اسی بارے میں کونڈوم انڈین مردوں کے لیے بڑے08 December, 2006 | انڈیا ہندوستان: مسلمانوں کے لئے ریزرویشن؟03 December, 2006 | انڈیا ہندوستانی مسلمان، پسماندگی کا بھنور25 November, 2006 | انڈیا ہندوستان میں مسلم بچوں کی بدحالی14 November, 2006 | انڈیا معاشی ترقی اور بڑھتی ہوئی غربت19 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||