ہندوستان: مسلمانوں کے لئے ریزرویشن؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں ریزرویشن کی بحث بہت پرانی ہے۔ملک میں دلتوں اور پسماندہ طبقوں کو ایک لمبے عرصے تک برے حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں ریزرویشن کی شروعات 1921 میں ہوئی جب ہندو مذہب کی اعلی ذات براہمن سے تعلق نہ رکھنے والوں کے لئے کوٹہ مخصوص کیا گيا لیکن یہ صرف مدراس پریزیڈنسی تک ہی محدود تھا۔ آزادی کے بعد جب 1950 میں ہندوستان کا آئین منظور کیا گیا تو ایک مقررہ وقت کے لئے سرکاری اداروں ميں تعلیم اور ملازمتوں کے لئے ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے دلتوں اور قبائلیوں کے لئے سیٹیں مخصوص کی گئیں۔ 1979 میں قبائلی اور دلتوں کے حالات کا اندازہ کرنے کے لئے منڈل کمیشن تشکیل دیا گیا۔ منڈل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں قبائلی اور دلتوں کے علاوہ دیگر پسماندہ طبقے کے لئے بھی ریزرویشن کی سفارش کی اور جب وي پی سنگھ حکومت نے منڈل کمیشن کی سفارشات نافذ کرنے کی کوشش کی تواس کی زبردست مخالفت کی گئی۔ فی الوقت قبائلی اور دلتوں کے لئے سرکاری تعلیمی اداروں ميں تقریبا 22 فیصد سیٹیں مخصوص ہیں اور حکومت نے پسماندہ طبقے کے لئے سرکاری تعلیمی اداروں میں 27 فیصد ریزویشن دینے کی تجويز پیش کی ہے جس پر حکومت کو کئی حلقوں سے مخالفت کا سامنا ہے۔ اور اب سچر کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ چونکہ مسلمانوں کے حالات دلتوں سے بھی بدتر ہیں اس لئے انہیں ریزرویشن فراہم کی جائے۔ اس موضوع پر چھڑی بحث میں بعض مسلمان رہنما آئین میں ترمیم کر کے اس میں دلت مسلمانوں کے لئے کوٹہ مخصوص کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہیں دوسری جانب بعض حلقوں کی طرف سے مسلمانوں کے لئے الگ سے کوٹہ مخصوص کرنے کی بات کہی جا رہی ہے۔ پسماندہ مسلم محاذ کے بانی اور راجیہ سبھا ممبر علی انور مسلمانوں کے لئے الگ سے کوٹہ دینےکی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ ’جن لوگوں نے اس ملک پر چھ سو سال حکومت کی ہے انہیں منڈل کمیشن کی فہرست میں کیسے شامل کیا جا سکتا ہے۔ اور مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا مطالبہ ہندو اور مسلمانوں میں موجود فرقہ پرست طاقتیں ہی کر رہی ہیں‘۔ دوسری جانب جمعیت العماء ہند کے جنرل سیکرٹری مولانا محمود مدنی دلت مسلمانوں کے لئے سیٹیں مخصوص کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر مسلمانوں کے لئے ایک کوٹہ مخصوص کیا جاتا ہے تو وہ مسلمانوں کی معاشی اور اقتصادی ترقی کے لئے فائدہ مند ضرور ثابت ہو گا۔
آخر ہندوستان میں پسماندہ مسلمانوں کی اصل تعداد کتنی ہے۔ ’آل انڈیا کنفڈریشن آف شیڈیول کاسٹ‘ اور ’شیڈیول ٹرائب‘ کے چیئرمین ادت راج بتاتے ہیں کہ ملک میں مسلمانوں کی 70 فیصد آبادی پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ مسلمانوں ميں تقریبا 17 ایسی ذاتیں ہیں جو انتہائی پسماندہ طبقے میں آتی ہیں۔ حلال خور ، دھوبی ، نٹ ، مداری ، بکّو ، موچی ، گدڑیا جیسی کئی ذاتیں ہیں جنہیں دلت مسلمان کہا جاتا ہے۔ علی انور کے مطابق ’اگر حکومت مسلمانوں کے لئے کوٹہ مخصوص کرنے پر غور کر رہی ہے تو ان دلت مسلمانوں کو کوٹہ فراہم کرے جو فی الوقت کوٹہ کی فہرست میں شامل نہیں ہیں‘۔ ریزرویشن کے معاملے میں خود مسلمانوں میں بھی کافی کنفیوژن ہے۔ بعض علماء کو ذات کی بنیاد پر کوٹہ مخصوص کرنے پر سخت اعتراض ہے لیکن محمود مدنی اس سے اتفاق نہیں رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’حالانکہ کاسٹ سسٹم اسلام میں نہیں ہے لیکن ہندوستان میں مسلمان اس کو مانتے ہیں۔ جیسے ہندوستان کے ہندوؤں ميں ذات کا نظام ہے ویسے ہی ہندوستان کے مسلمانوں میں بھی ہے‘۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مسلمانوں کے لئے الگ سے کوٹہ مخصوص کیا جاتا ہے تو وہ ان سہولیات سے محروم ہو جائیں گے جو انہیں فی الوقت مل رہی ہیں۔ اس کے علاوہ اگر مسلمانوں کے لئے خصوصی کوٹہ دیا جاتا ہے تو اس سے اعلی ذات کے مسلمان زیادہ فائدہ اٹھائیں گے اور پسماندہ ذات کے لوگوں کے حالات مزید بدتر ہوجائیں گے۔ ماہر سماجیات امتیاز احمد کہتے ہيں کہ سچر کمیٹی نے جو تفصیلات پیش کی ہیں ہے وہ نئی نہیں ہیں اور مسلمانوں کے لئے الگ سے ریزرویشن کے مطالبے کی بحث سیاسی مفاد سے زيادہ اور کچھ نہیں ہے۔ ’ملک کی سیاست میں مسلمانوں کا ووٹ کافی اہمیت رکھتا ہے اور حکومت کی جانب سے سچر کمیٹی تشکیل دینا اور مسلمانوں کے سامنے ریزرویشن کی بات کرنا صرف سیاست ہے‘۔ سچر کمیٹی نے مسلمانوں کی ترقی کے لئے کئی سفارشات کی ہیں اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اس رپورٹ پر پارلیمنٹ میں بحث کے بعد حکومت مسلمانوں کی ترقی کے لئے سچر کمیٹی کی کن سفارشات پر عمل کرتی ہے اور وہ مسلمانون کی ترقی کے لئے کس حد تک سنجیدہ ہے۔ | اسی بارے میں حریت پسندی سے دہشت گردی تک10 September, 2006 | انڈیا ’ہتھیار کی نہیں عقل کی ضرورت‘10 September, 2006 | انڈیا اگلا نشانہ اسرائیل، خلیجی ریاستیں‘11 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||